ڈاکٹر مراد گاؤں آیا ہوئے تھے۔ وہ بونیر پاچا کلے کے رہائشی ہیں۔ بڑے قابل ڈاکٹر ہیں۔ پشاور میں ڈائریکٹر صوبہ خیبر پختون خوا ہیں اور جذام یا کوڑھ کی روک تھام کے لیے اپنی زندگی وقف کرچکے ہیں۔ اُن سے مذکورہ بیماری پر بات ہورہی تھی۔ اُن کا کہنا تھا کہ اس وقت صوبے کی سطح پر ہمارے پاس انچاس مریض رجسٹرڈ ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ہمارے پاس سوات کے نو مریض اس وقت زیر علاج ہیں اور دوسرے علاقوں کی نسبت یہ تعداد زیادہ بنتی ہے۔ وہ کہہ رہے تھے کہ لیپرسی پھیلانے والے جراثیم کھلی ہوا میں زندہ نہیں رہ سکتے۔ اس لیے یہ ایک انسان سے دوسرے انسان کو سانس کے ذریعے منتقل نہیں ہوسکتے۔ ہاں، اگر مریض کا ہاتھ زخمی ہو اور وہ کسی اور آدمی سے مصافحہ کرے، تو اس صورت میں یہ دوسرے آدمی کو منتقل ہوسکتے ہیں۔ کیوں کہ لیپرسی کے جراثیم انسانی جلد میں چھپے ہوئے ہوتے ہیں۔ یا پھر اگر صحت مند آدمی کا ہاتھ زخمی ہو اور وہ لیپرسی سے متاثہ شخص کے ساتھ مصافحہ کرلے، تب بھی اس کے پھیلنے کا امکان ہوتا ہے۔ وہ کہہ رہے تھے کہ پاکستان میں اس کا مین ڈائریکٹریٹ کراچی میں ہے اور وہاں جرمنی کی لیڈی ڈاکٹر ’’فو‘‘ پورے پاکستان کو کنٹرول کرتی ہے۔ وہ کہہ رہے تھے کہ ڈاکٹر ’’فو‘‘ جو اس وقت بیاسی سال کی ہے۔ نہایت ایمان داری، سخت محنتی اور خلوص و لگن سے پاکستان سے اس مرض کے خاتمے کے لیے کمربستہ ہیں۔
ڈاکٹر مراد اپنی طالب علمی کے ایک واقعے کا ذکر کررہے تھے کہ علی الصباح ہم ہاسٹل کے لڑکے ناشتہ کرنے کے بعد پڑھنے کے لیے اپنی اپنی کلاس چلے جاتے تھے۔ اُس وقت ہم سب لڑکوں کی یہ بری عادت بن چکی تھی کہ ناشتہ میں پراٹھے سے ایک دو نوالے کھا کر باقی ماندہ پراٹھا چھوڑ دیتے تھے۔ ہر لڑکے کو سالم پراٹھا ملتا تھا، جس کو ہم ہر روز اپنی بری عادت سے ضائع کرتے تھے۔ ایک صبح ہم نے معمول کے مطابق ناشتہ کیا اور کلاس اٹینڈ کرنے کلاس روم چلے گئے کہ ’’ڈاکٹر فو‘‘ کلاس کے بجائے کینٹین پہنچ گئی۔ میزوں پر چائے کے خالی برتن اور چنگیروں میں پراٹھے پڑے ہوئے تھے۔ ہر ایک پراٹھے سے کچھ حصہ کھایا گیا تھا۔ ’’ڈاکٹر فو‘‘ نے ٹیبل مین کو کہا کہ کوئی چیز میز سے نہ اٹھائی جائے۔ جب کلاس میں پڑھائی ختم ہوئی، تو ’’ڈاکٹر فو‘‘ نے کہا کہ آؤ، میرے ساتھ کینٹین چلو۔ سارے لڑکوں کو کینٹین میں لے جاکر اُنھیں صبح کے ناشتے کا منظر دکھایا گیا۔ اور سب لڑکوں کو نرمی سے سمجھایا کہ آئندہ پراٹھوں کو اس طرح ضائع مت کیا کریں۔ بلکہ جتنا کھا سکتے ہیں، کھا لیا کریں۔ایک پراٹھا ختم کرکے دوسرا لے لیا کریں۔ان کا اپنا ایک رعب تھا۔ اُن کے سامنے سارے لڑکے بھیگی بلی بن جاتے۔ بعد میں سب نے اُن کی ہدایت پر عمل کیا۔
ڈاکٹر مراد صاحب ایک اور واقعے کے بارے میں کہہ رہے تھے کہ ایک دن ہم نے واڑئ دیر میں فری میڈیکل کیمپ کا اہتمام کیا۔ مریضوں کی آنکھوں کا معائنہ کیا جاتا تھا۔ دوائیاں مفت مریضوں کو دی جاتی تھیں اور بعض مریضوں کی آنکھوں کا آپریشن بھی کیا جاتا تھا۔ شام ڈھلے ’’ڈاکٹر فو‘‘ ہر ایک ڈاکٹر سے دن بھر کے احوال اور کارکردگی کا جائزہ لے لیا کرتی تھی۔ ہم ڈاکٹر لوگ ’’ڈاکٹر فو‘‘ کے مزاج سے اچھی طرح واقف تھے۔ اس وجہ سے ہم شام کو ’’سب ٹھیک‘‘ کی رپورٹ دیا کرتے تھے۔ ایک دن ہمارے ایک ڈاکٹر نے کسی مریض بچے کا ذکر کیا کہ کس طرح بچے کا علاج کیا گیا اور کس طرح علاج کے بعد اُسے رخصت کردیا گیا۔ دوسرے ہی دن ’’ڈاکٹر فو‘‘ نے ہمیں حکم دیا کہ اُس مریض بچے کو میرے سامنے پیش کیا جائے۔ اب مصیبت یہ آن پڑی کہ ہمیں بچے کا کوئی اتا پتا معلوم نہیں تھا۔ دو دن ہم لگاتار اُسے تلاش کرتے رہے۔ آخر خدا خدا کرکے بچہ مل گیا۔ ’’ڈاکٹر فو‘‘ نے بچے کی آنکھوں کا دوبارہ معائنہ کرکے اُس کا آپریشن کیا اور یوں وہ مطمئن ہوگئی۔ وہ ہم سے کہہ رہی تھی کہ میں روز قیامت اس بچے کے بارے میں اللہ کو کیا جواب دیتی کہ تم نے ناکام علاج کرکے بچے کو رخصت کیا تھا۔ انسانیت سے پیار کرنے والے ہر جگہ اور ہر مذہب میں مل جاتے ہیں۔ گو کہ ڈاکٹر فو مسلمان نہیں، لیکن اُن کے دل میں اللہ تعالیٰ کی مخلوق کے لیے محبت کوٹ کوٹ کر بھری تھی۔
1,222 total views, no views today


