مینگورہ، مینگورہ کے نواحی علاقہ قمبر میں پیپلز پارٹی کے رہنما اکبر علی ناچار سینکڑوں اشکبار آنکھوں کے سامنے سپردخاک ، تین پے در پے قتل کے واقعات کے وجہ سے پورے ضلع سوات میں شدید خوف وہراس کا عالم ، سوات سے امن کا جنازہ نکل چکا ہے ، دوبارہ ہجرت کرنے کیلئے کسی بھی وقت شہری روانگی شروع کرینگے ، تفصیلات کے مطابق مینگورہ کے نواحی علاقہ یونین کونسل قمبر سے آزاد حیثیت سے ضلعی کونسلر کے حیثیت سے الیکشن لڑنے والے پیپلز پارٹی کے مقامی رہنما اور سابقہ پیپلز سٹوڈنٹس فیڈریشن کے مرکزی رہنما اکبر علی ناچار کو گزشتہ پیر کے شب نا معلوم افراد نے اندھا دھن فائرنگ کرکے موت کے گھاٹ اتار دیا ، قتل کے اس دلیرانہ واردات کے ملزمان پہلے دو افرا د کو قتل کرنے کے بعد انتہائی اسانی سے فرار ہوگئے ، اکبر علی ناچار کو گزشتہ روز سینکڑوں اشکبار آنکھوں کے سامنے سپردخاک کردیا گیا ، قتل کے اس دلیرانہ واردات کے بعد سیکورٹی فورسز نے مختلف علاقوں یعنی حاجی بابا روڈ پر گاڑیوں کو چیکنگ کے نام پر کئی گھنٹوں تک روڈ بند کر دیا ، اور چیکنگ کے نام پر شریف شہریوں کا جینا حرام کر دیا ہے دوسری طرف پے در پے ٹارگٹڈ کلنگ میں اضافے کے ساتھ پورے سوات میں بے امنی کے فضاء پھیلی ہوئی ہے ، سوات سے با آثر افراد نے پہلے ہی نقل مکانی کی ہے ، اور آب عام شہری بھی ہجرت کیلئے سوچھ رہے ہیں اور کئی افراد تو اس قتل کے بعد سوات چھوڑ چکے ہیں ، سوات میں امن نام کی کوئی چیر نہیں ، شہریوں میں خوف وہراس کا فضاء قائم ہے ، سوات میں اہم اداروں کے کارکردگی کا اندازہ اس سے لگائیے ، کہ اکبر علی ناچار کے قتل کے کافی وقت گزرنے کے باوجود بھی کسی ملزم کو بھی گرفتار نہیں کیا گیا ہے ، بلکہ ناکہ بندیوں اور چیکنگ کے نام پر شریف شہریوں کا جینا حرام کر دیا ہے ۔
750 total views, no views today


