بریکوٹ، سب ڈویژن بریکوٹ میں بجلی مسائل حل ہونے کا نام نہیں لے رہا ‘ ایک خواب بریکوٹ گریڈ اسٹیشن جو کہ بنتے نظر نہیں اتے‘ صوبائی حکومت کی خاموشی سمجھ سے بالا تر ہے ‘ عوامی نیشنل پارٹی کے حکومت میں اس گریڈاسٹیشن کے لئے 50کروڑ روپے منظور کئے تھے ‘ اس وقت سب سے بڑا مسئلہ زمین کی خریداری کا تھا جو کہ دو سال پہلے حل ہوچکا ہے اب پورے 2سال میں5 فٹ کا دیوار بھی نہ بن سکا جو بڑی کہ افسوس کی بات ہے ‘ تفصیلات کے مطابق تحصیل بریکوٹ جو کہ اب سب ڈویژن کا درجہ مل چکا ہے یہ سب ڈویژن پورے ملاکنڈ ڈویژن میں ایک حب اور ایک اہم سب ڈویژن کی حیثیت رکھتے ہیں ‘ بونیر ،دیر ملاکنڈ ایجنسی سے لوگ یہاں خریداری کرنے آتے ہیں لیکن بد قسمتی سے یہاں ہر دور میں عوام کے ساتھ سوتیلی ماں جیساسلوک ہوا ہے ‘ صرف سابقہ دور یعنی اے این پی کے دور میں یہاں بہت کچھ کام ہوا ہے یعنی اس علاقے کا دیرینہ مسئلہ سوئی گیس کا تھا جو کہ سابقہ دور میں اسکو فنڈ دیا گیا ہے اس کے بعد سب سے بڑا مسئلہ گریڈ اسٹیشن کا تھا جس کے لئے بھی اے این پی کے دور میں50کروڑ روپے منظور کئے ہیں اس کا سب سے بڑا مسئلہ زمین کی خریداری کا تھا جو کہ اے این پی کے دور میں حل ہوا ہے اب دو سال مکمل ہوئے لیکن ابھی تک اس کے 5فٹ کے دیوار مکمل نہیں ہوا ہے یہ بڑی افسوس کی بات ہے ‘ صوبائی حکومت کے دو ممبران اور قومی اسمبلی کے ایک امیدوار جوکہ اس علاقے کے لوگوں کے ووٹوں سے منتخب ہوئے ہیں ابھی تک اس کے طرف سے کوئی زحمت نہیں کی گئی ہے اور خاموش تماشائی کا کردار ادا کررہے ہیں اگر یہ حال رہا تو یہ منصوبہ بھی سردخانے کے نظر ہونے والا ہے اور عوام کا بھی یہ ایک خواب بن جائیگا ۔
654 total views, no views today


