سترہ جون2014ء کی صبح جب میں اُٹھا اور آفس جانے کے لیے تیار ہونے لگا، تو کچھ جونیئرز میرے روم میں آئے اور کہا عمران یار منہاج القرآن سیکرٹیرٹ پر بم دھماکہ ہوا ہے، تمھارے پاس کیا خبر ہے؟ اُس وقت صبح کے آٹھ بجے تھے۔ میں نے نفی میں سر ہلا دیا کہ یار مجھے تو کوئی خبر نہیں۔ میں نے ان سے پوچھا کہ آپ کو کس نے بتایا ہے؟ انھوں نے کہا ہمیں سی ایس ڈیپارٹمنٹ کے احمد میر نے بتایا ہے۔ جونیئرز نے فورس کیا کہ کہیں سے کنفرم کر دیں۔ میں نے منہاج القرآن سیکرٹیرٹ میں کام کرنے والے کچھ لوگوں کو نمبر ملایا، تو سب نمبر بند جا رہے تھے۔ ہم یونی ورسٹی ہوسٹلز میں رہتے تھے اور میں ایک نجی چینل پر نیوز کاسٹنگ کا کام کرتا تھا۔ اس لیے جونیئرز سیدھے میرے پاس چلے آئے۔ خیر، معلوم تو نہ ہوسکا مگر جب میں آفس پہنچا، تو چینل پر کھلبلی مچی ہوئی تھی۔ لائیوڈی ایس این جی لنک آ رہا تھا جو کرایم رپورٹر ماڈل ٹاؤن میں کوریج کرہے تھے۔ جب بلیٹن شروع کیا، توکیمرے کی آنکھ نے دل دہلا دینے والے مناظر عکس بند کر لیے تھے۔ منہاج القرآن میں مشتعل پتھراؤ کررہے تھے جب کہ دوسری جانب پنجاب پولیس کے چاق وچوبند دستے اور ایلیٹ کی گاڑیاں اور ریسکیو ٹیمیں ہوٹر بجاتی آرہی تھیں۔ پولیس کی جانب سے آنسو گیس کی شلنگ ہوتی رہی، لوگ مرتے رہے۔ پنجاب پولیس نے ماڈل ٹاؤن میں ریاستی دہشت گردی کی، جو ہتھے چڑھا اس پر لاٹھیاں برسادیں جب حالات مزید خراب ہوتے ہوئے دکھائی دیئے، تو پھرقانون نافذ کرنے والو ں نے جلاد کا روپ دھار لیا۔ سیدھی فایرنگ شروع کر دی جس کے نتیجے میں منہاج القرآن کے چودہ کارکن شہید ہوگئے جن میں دو خواتین تنزیلہ اور شازیہ بھی شہید ہوئی۔ پنجاب پولیس نے جب ڈاکٹر طاہر القادری کی رہایش گاہ القادریہ کا گھیراؤ کیا اور ان کے گیٹ پر فایرنگ کی، تو تب خواتین گیٹ کے سامنے آگئے۔ ڈھال بنا کر کھڑی ہو گئیں تب موقع پر موجود ڈی آئی جی عبدالجبار نے خواتین کو پیچھے ہٹنے کا کہا مگر جب وہ نہ ہٹیں، تو ڈی ائی جی نے اپنے مسلح گن مین کو کہا کہ میں تین تک گنتی گنوں گا اگر یہ نہ ہٹیں تو گولی مار دینا اور ایسا ہی ہوا۔ مسلح گن مین نے گولی مار دی جو کہ تنزیلہ امجد زوجہ امجد اقبال کے جبڑے پر لگی اور وہ دم توڑ گئی۔ اس طرح ایس پی ماڈل ٹاؤن طارق عزیز نے اپنے مسلح گن مین کو حکم دیا اوراُس نے رایفل سے فایر کیا جو شازیہ مرتضیٰ زوجہ مرتضیٰ حنیف جو واہگہ ٹاؤن کی رہایشی تھی، اس کی گردن پر لگا اور وہ بھی کوچ کر گئی۔ یہ جسٹس باقر نجفی کی رپورٹ میں واضح لکھاہوا ہے۔ پنجاب پولیس نے ظلم وستم کی داستان ماڈل ٹاؤن میں رقم کی، اس کی نظیر کہیں نہیں ملتی۔ نبی پاکؐ کے غزوات کا اگر مطالعہ کیا جائے، تو پتا چلتا ہے کہ انھوں نے حالت جنگ میں بچوں، خواتین اور بوڑھوں کو ہلاک کرنے سے منع کیا۔ ہرے بھرے کھیتوں اور پھل دار درختوں کو نقصان پہنچانے سے ممانعت فرمائی، حتی کہ یہ بھی کہا کہ اگر کوئی دشمن ڈر کے مارے بھاگ جائیں اور گھر میں جا گھسے، تو اُسے بھی چھوڑ دینا۔ یہ ہے اسلام۔ ہم نے تو صرف اسلام کو استعمال کیا ہے، صرف ایک زمینی ٹکڑا حاصل کرنے کے لیے !
جسٹس باقر نجفی کی رپورٹ کو منظر عام پر نہ لایا گیا، آخر کیوں؟ یہ کمیشن تو آپ نے ہی تشکیل دیا تھا وزیر اعلی صاحب! اس کمیشن نے پنجاب حکومت کو سانحہ ماڈل ٹاؤن کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ اس کمیشن کے بعد ایک اور کمیشن کا قیام عمل میں آیا جس میں عبدالرازق چیمہ ڈی آئی جی کوئٹہ،کرنل احمد بلال آئی ایس آئی، خالد ابوبکر ڈی ایس پی، شہزاد اکبر اور محمد علی اکبر ڈائریکٹر آئی بی شامل تھے۔ اس جے آئی ٹی نے اُنیس نومبر کوتفتیش کا آغاز کیا اور میڈیا ٹرایل کے لیے نو عدد سی ڈی پیمرا سے لیے۔ عوامی تحریک اور پولیس کے زخمیوں کے بیانات قلم بند کیے، ریسکیوڈی جی رضوان اختر کے بیانات قلم بند کیے۔ اے سی ماڈل ٹاؤن طارق چانڈیو کو شامل تفتیش کیا۔ عوامی تحریک کے بیالیس کارکنوں کو جو فایرنگ اور پٹرول بم پھینکنے میں ملوث تھے، عدالت میں پیش کیا۔ وزیر اعلیٰ اور شہباز شریف سے پوچھ گچھ ہوئی۔ ڈی آئی جی کا موقعہ پر نہ پانا قرار پایا اور یہ بھی کہا گیا کہ ایس پی سیکورٹی سلمان کے حکم پر فایر کھولا اور کچھ پولیس ملازمین نے خود سے فایرنگ کی اور یوں اس رپورٹ میں کلین چٹ دے کر سارا ملبہ ایس پی سیکورٹی اور دس پولیس ملازمین پر ڈال دیا گیا۔ یہ ہے انصاف! جب کہ باقر نجفی کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شیخ عامر سیلم ایس ایچ او سبزہ زار نے برسٹ مارے اور سیدھی فایرنگ کی۔ دوران تفتیش سب انسپکٹر عبدالرؤف انچارج ایلیٹ فورس نے بتایا کہ ایلیٹ کی جانب سے چار سو انہتر ایس ایم جی اور انسٹھ راونڈ جی تھری فایر کیے۔ جب اگلی پیشی پر دوبارہ تفتیش ہوئی، تو تب ایس پی عبدالرؤف نے بتایا کہ ایس پی ایلیٹ عبدالرحیم شیرازی نے کہا تھا کہ ریکارڈ تبدیل کر دیا جائے جو وہ پہلے بتا چکے تھے کہ اتنا اسلحہ استعمال ہوا ہے۔ جسٹس باقر کی ٹیم کی جانب سے سی سی پی او لاہور کو ایک مراسلہ لکھا گیا اور اسلحہ استعمال ہونے کی تفصیل طلب کی جو کہ کچھ یوں ہے: انتیس روانڈ اپ ایلیٹ فورس کی جانب سے جب کہ صرف چھ فایر پولیس کی جانب سے کیے گئے۔پوری دنیا نے دیکھا کہ کتنی فایرنگ ہوئی اور کیسے کیسے لوگ شہید ہوئے۔وزیر اعلیٰ صاحب نے کہا کہ اگر میں قصور وار ثابت ہوا، تو فوری استعفا دے دوں گا مگر رپورٹ کے مطابق وہ قصور وار ثابت نہیں ہوئے اور جو ہوئے ہیں، وہ بھی کچھ بیرون ملک فرار ہو گئے تو کچھ آزادنہ گھوم رہے ہیں۔ سزا ہوئی تو صرف بچارے گلوبٹ کو جس نے صرف گاڑیاں کو نقصان پہنچایا اور قاتل باہر گھوم رہے ہیں۔ یہ لڑائی سیاسی لڑائی تھی جسے محض بیئریر ہٹانے کا نام دیا گیا۔ رہی بات رکاؤٹوں کی، توو ہ ہائیکورٹ کے حکم سے لگی ہوئی تھی جو ثابت ہو گیا۔ اگر ہائیکورٹ کے حکم سے نہ بھی لگی ہو تو لگانی چاہیے، وہ ایک انٹرنیشنل مذہبی لیڈر ہیں جنھوں نے نوسو صفحات پر دہشت گردی کا فتویٰ دیا ہے۔
وزیر اعلیٰ صاحب آپ نے پورا ماڈل ٹاؤن ہی رکاوٹیں لگا کر بند کیا ہوا ہے، آپ تو خادم ہیں اور خادم کو کسی کا کیا ڈر خوف؟ ڈاکٹر قادری نے پاکستان آکر دوبارہ دھرنے کی نوید سنائی تھی جس کے باعث ن لیگ بوکھلاہٹ کا شکار ہوگئی اور انھوں نے قادری خاندان کو ڈرانے دھمکانے کا منصوبہ تیار کیا تھاجو کہ ان کی بربادی کا باعث بنا۔ جرمنی کی کہاوت ہے کہ ظلم وخوف دونوں بزدلی کی علامات ہیں۔ ن لیگ نے پہلے خوف کھایا اور پھر ظلم کیا اور پھر ملک میں دنیا کی تاریخ کا سب سے بڑا احتجاج ہوا مگر انصاف کا بول بالا نہ ہوسکا۔
764 total views, no views today


