تحریر ابراہیم دیولئی
نو جون کو محترم عنایت صاحب کی طرف سے اسلام آباد سرینہ ہوٹل میں سوات کے حوالہ سے ایک روزہ ورکشاپ میں شرکت کرنے کے لیے تفصیلی دعوت نامہ ملنے کے باوجود فون پر بھی شرکت یقینی بنانے کی استدعا کی گئی۔ صحت کی کم زوری کی وجہ سے اس قسم کے لمبے سفر سے گریزاں رہتا ہوں لیکن کچھ تو الیکشن مہم کی تھکاوٹ کو دور کرنے کے لیے تھوڑی سی آوٹنگ کو ضروری سمجھنے پر غور و خوض شروع کیا اور جب مذکورہ سیمینار میں سوات سے انعام اور باالخصوص جہانزیب کالج کے پروفیسر فضل معبود صاحب کے ہم سفر ہونے کا سنا، تو پھر سوات کے حوالہ سے ورک شاپ کی اہمیت اپنی جگہ لیکن اسلام آباد تک جانے اور آنے والے گھنٹوں میں ہسٹری پر غور رکھنے اور منفرد انداز بیان کے مالک پروفیسر فضل معبود سے کچھ سننا اور سیکھنے کا موقعہ غنیمت سمجھتے ہوئے مذکورہ دعوت قبول کرلی۔ کیوں کہ اس شخصیت کو ایک دو سیمینارز میں پہلے بھی سن چکا تھا۔ یقیناًدوطرفہ سفر انتہائی خوش گوار رہا، بہت کچھ سنا اور سیکھا۔ رات کو گیسٹ ہاؤس میں قیام کا اہتمام کیا گیا تھا۔ اتفاقی طور پر گیسٹ ہاؤس میں رات کو بھی ’’نیت اور مراد‘‘ کے مصداق ہم دونوں کو ایک کمرے میں قیام کرنا پڑا۔ رات کو بھی کافی دیر تک تاریخ اور ملکی سیاست پر خوب سیر حاصل گفت گو ہوئی۔ اگلی صبح سویرے اٹھ کر مشرف صاحب کے دور میں بنائے گئے سات کلومیٹر پر محیط ’’فاطمہ جناح پارک‘‘ میں واک کرتے ہوئے بہترین نظارے دیکھے۔ ساڑھے نو بجے ورک شاپ ہال پہنچ کر منتظمین نے استقبال کرتے ہوئے نشستوں تک راہنمائی کی۔ اس وقت خوشی کی انتہا نہیں رہی۔ تلاوت کلام پاک کے بعد اسٹیج سیکرٹری رُخسانہ بی بی نے مہمان خصوصی نارویجن سفیر اور دیگر مہمانان گرامی سمیت محترم پروفیسر فضل معبود صاحب کو اسٹیج پر نشست سنبھالنے کی استدعا کی، جب کہ بعد میں پتا چلا کہ فرزندِ سوات پروفیسر فضل معبود صاحب کو اس ورک شاپ میں Keynote speaker: challenges in free & post crises swat پر اظہار خیال کرنے کا ٹاسک دیا گیا ہے۔ چوں کہ بیرونی ممالک کے نمایندوں سمیت پاکستان کے مختلف حصوں سے اعلیٰ تعلیم یافتہ خواتین و حضرات کثیر تعداد میں آئے تھے، تمام مقررین انگریزی میں اظہار خیال کررہے تھے۔ اس دوران میں پروفیسر فضل معبود صاحب نے مندرجہ بالا موضوع پر رواں دواں انگریزی سمیت موقعہ مناسبت سے باڈی لینگویج کے استعمال کے ساتھ ملکی اور غیر ملکی شرکاء کو انگشت بدنداں کرتے ہوئے ہمارا سر بھی فخر سے بلند کر دیا۔ موصوف نے دہشت گردی کے خلاف سیکورٹی فورسز اور قوم کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تاریخ اس قسم کے واقعات سے بھری پڑی ہے لیکن خوش قسمت وہ قوم ہوتی ہے جو اس قسم کی مشکلات اور تاریکیوں میں مایوس ہونے اور رونے دھونے کی بہ جائے بہ احمد فرازؔ کے بہ قول
شکوۂ ظلمت شب سے تو کہیں بہتر تھا
اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے
انھوں نے تعلیمی معیار کو مزید بہتر بنانے، تمام اداروں میں پاک فوج جیسا ڈسپلن لانے، ایمان داری کے ساتھ ڈیوٹی کرنے، قدرتی وسایل کو بروئے کار لانے، سیاحت کے لیے کھنڈر نما سڑکوں پر توجہ دینے، من حیث القوم رویوں میں مثبت تبدیلی لانے اور بہ قول بابائے قوم قاید اعظم محمد علی جناح ’’کام کام اور صرف کام‘‘ یعنی محنت کرنے کی ترغیب دی۔ اس یک روزہ ورکشاپ میں نارویجن سفیر Mr. Lars nordrum Royal کے علاوہ ڈاکٹر بہادر نواب خٹک، ڈاکٹر محمد ہارون الرشید، عابدہ خالد، مسٹر نور الٰہی، مس رایدہ زینت، مسٹر سلیم احمد، Dr Ingrid Nybrog، پروفیسر ڈاکٹر خان گل جدون، انعام الرحمان، ایمل خٹک اور دیگر نے سوات کے حالات پر تفصیل سے روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ قلیل عرصے میں سوات سے دہشت گردوں کے رٹ کا خاتمہ اور ڈھائی تین مہینوں میں لاکھوں آئی ڈی پیز کی باعزت واپسی شاید دُنیا کی تاریخ میں ایک انوکھا کارنامہ ہے جس سے پاک فوج کی صلاحیتوں اور ملاکنڈ سوات کے غیور عوام کی اپنے مٹی سے محبت اور امن کی خاطر آئی ڈی پیز بننے کی شکل میں قربانیوں کا اندازہ باآسانی لگایا جاسکتا ہے، لیکن میری دانست میں اب ضرورت اس بات کی ہے کہ اگر ناروے سمیت بیرونی دنیا سوات کے امن، ترقی اور خوش حالی میں دل چسپی لے سکتی ہے، تو ان سے کہیں زیادہ ہمارا بھی فرض بنتا ہے کہ پورے پاکستان کو بالعموم اور ملاکنڈ، سوات اور خیبر پختون خوا کو بالخصوص حسب سابق امن کا گہوارہ بنانے، دہشت گردی اور انتہاپسندی کو جڑ سے اُکھاڑ پھینکنے کے لیے من حیث القوم پاک فوج کے شانہ بہ شانہ کھڑے ہوکر بھرپور کردار ادا کرنا چاہیے۔ کیوں کہ یہ ملک صرف پاک فوج یا کسی خاص طبقے کا نہیں بلکہ بیس کروڑ عوام کا ہے اور پاکستان صرف ایٹمی قوت نہیں بلکہ اس ملک کی فوج کو اللہ تعالیٰ نے جن صلاحیتوں سے نوازا ہے، اس کا اندازہ ملاکنڈ سوات میں قلیل عرصے میں حکومتی رٹ بہ حال کرنے سے لگایا جا سکتا ہے جس پر پوری دنیا حیرت زدہ ہے لیکن اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ دُنیا میں کہیں بھی عسکری قوت کے ساتھ قوم کی ہم دردیاں اور تعاؤن شریک کار نہ ہو، تو مشکل ضرور ہوتی ہے۔ اس حوالے سے اگر ہم واقعی قربانیوں کی بہ دولت بحال شدہ امن کو مستحکم اور برقرار رکھنے کے خواہاں ہیں، تو ہمیں پولیس سمیت تمام سیکورٹی فورسز کے ساتھ ملک کے کونے کونے میں تعاؤن کرنا چاہیے، ساتھ یہ بھی اشد ضروری ہے کہ ماضی کی تلخیوں کو بھلا کر ہمارے تمام ادارے اور باالخصوص محکمۂ پولیس اپنے رویوں میں مثبت تبدیلی لے آئے۔ اجتماعی فیصلوں میں قوم کو اعتماد میں لیں۔ اپنے آپ کو حاکم نہیں بلکہ قوم کے خادم سمجھیں، تو وہ وقت دور نہیں کہ پوری دُنیا پاک فوج کی طرح ہماری پولیس کی خداداد صلاحیتوں کی بھی اعتراف کرے گی۔وہ اس لیے کہ یقیناًصلاحیتیں موجود ہیں مگر۔۔۔؟
اللہ کرے کہ تمام سوالیہ نشان ختم ہو جائیں ۔
638 total views, no views today


