درحقیقت مجھے موسیقی سے کوئی خاص دلی لگاؤ نہیں کہ میں بہتر طور پر وضاحت کرسکوں کہ موسیقی ہے کیا اور یہ کس طرح اپنے سننے والے پر اثرانداز ہوسکتی ہے؟ اور نہ مجھے پختون کلچرل موسیقی میں کوئی ایسی خاص کشش محسوس ہوتی ہے بہ حیثیت ایک پختون ہونے کے۔ البتہ پشتو ثقافت سے متصادم ڈراموں، فلموں اور گانوں سے اپنی نفرت کا اظہار میں پہلے کرچکا ہوں۔ اب یہ نفرت بہ تدریج کم ہو رہی ہے اور آخر وہ کون سی کاوش ہے جو مجھے اپنے خیالات اور جذبات بدلنے پر مجبور کررہی ہے؟ اس حوالے سے گزشتہ دنوں ایک دوست کے ہاں دعوت میں شریک ہونے کا موقعہ ملا۔ میرے وہاں پہنچتے ہی میرے دوست نے مجھ پہ کوئی بھی سیاسی یا نیوز چینل دیکھنے پہ پابندی لگا دی۔ پھر جب ہم سب ٹی وی لاؤنج میں بیٹھے، تو ٹی وی پر اے وی ٹی خیبر پہ ایک پروگرام نشر کیا جا رہا تھا۔ اُس میں ایک غزل گائی جا رہی تھی جس کو گانے والا شخص اپنے کپڑوں اور جوتوں سے بہ ظاہر غریب معلوم ہو رہا تھا مگر اُس کے صوفیانہ کلام میں غریبی نہیں تھی بلکہ وہ غربت اُس کلام کی وجہ سے اُسے ایسی امیری میں ڈھال رہی تھی کہ وہ موجود زمانۂ موسیقی کا سب سے امیر ترین آدمی معلوم ہورہا تھا۔ میرے منھ سے بے ساختہ اُس کے لیے ’’شاباش‘‘ کے الفاظ نکلے، تو ساتھ موجود دوست حیران ہوکے دیکھنے لگے کہ ہر چیز پر تنقیدی نظر رکھنے والے کے منھ سے داد و تحسین کے الفاظ! میرے خیال میں موسیقی میں سب سے اہم کردار شاعر کا ہوتا ہے۔ صحیح معنوں میں اگر پُراثر شاعری کی جائے، تو اس قوم کو جگانے کے لیے دھرنوں اور ہڑتالوں کی ضرورت کبھی نہ پڑے۔ جب کوئی شاعر آزادی، تاریخ، مذہب اور ادب کو صحیح اور درست انداز میں شاعری کے سانچہ میں ڈھالتا ہے، تو خون خود جوش مارنے لگتاہے، مگر جب شاعر اگر کہے کہ ’’ خودکشہ دھماکہ یم‘‘ ’’ماتہ ایزی لوڈ وکہ‘‘، ’’جینئی سمہ پتاسہ ئے‘‘ اور بھی اس قبیل کے واہیات گانے جسے میرا قلم تحریر کرنے سے عاجز ہے، تخلیق کرے گا۔ توآپ خود سوچیں کہ نوجوانوں اور بچوں کا کیا مستقبل ہوگا؟ وہ دہشت گرد یا آوارہ بنیں گے یا پھر ڈاکٹر اور انجینئر؟ جبھی تو ہمارے معاشرے کی اکثریت اِسی طرح گونگی بہری بن کر انھی گانوں کو گنگناتی اور ان پر رقص کرتی نظر آتی ہے۔ میںیہاں ’’ستاینہ‘‘ پروگرام کے پروڈیوسر آصف یوسف زئی صاحب، بختیارخٹک، ہمایون خان اور زاہد صاحب کا بے حد شکرگزارہوں کہ انھوں نے پختون کلچرل موسیقی کو بہتر اور پُراثرانداز میں ہم ناظرین تک پہنچایا۔ اس پروگرام کو دیکھ کر اب میں کہہ سکتا ہوں کہ ہمارے معاشرے کو کہیں جاکے رحمان بابا کے صوفیانہ کلام جن میں اللہ پاک کی ذات اور محمدؐکی صفات بیان کی جاتی ہیں اور ہمیں امن، محبت اور بھائی چارے کا درس دیا جاتا ہے، مثبت انداز میں پہنچایا جا رہا ہے۔ میں جانتا ہوں کہ گانا سننا اور اسے گانا ہمارے مذہب میں ممنوع ہے، مگر پھر بھی جانے کیوں میرا دل چاہ رہا ہے کہ بختیار اور ہمایون صاحب جو کوشش ہمارے معاشرے کی ڈوبتی نیا کو بچانے کی صورت میں کررہے ہیں، اس کاوش پر وہ لایق تحسین و آفرین ہیں۔
میں خود کو ’’ستاینہ‘‘ پروگرام کی پوری ٹیم کا مقروض محسوس کرتا چلا آ رہا تھا کہ جو احسان انھوں نے معاشرے کی فلاح و بہبود کو یقینی بنانے کے لیے کیا ہے، وہ قابلِ ستایش ہے۔ اس سے ہمیں امن اور محبت کا پیغام ملتا ہے۔ ہمیں ہماری کھوئی ہوئیں ثقافتی اقدار پھر سے یاد دلائی جا رہی ہیں۔ میری ’’ستاینہ‘‘ پروگرام کی ٹیم سے درخواست ہے کہ الماس خان اور نعیم جان کو پھر سے موقعہ دیا جائے اور ان کو اور ’’ستاینہ ‘‘پروگرام کی پوری ٹیم کو میری طرف سے بے حد خراج تحسین پیش کیا جائے، شکریہ!
1,650 total views, no views today


