تحصیل کبل سوات کا آ بادی اور رقبہ کے لحاظ سے دوسرا بڑا سب ڈویژن ہے۔ یہ بارہ یونین کونسلوں اور تقریباً پانچ لاکھ نفوس کی آبادی پر مشتمل ہے۔ سیاسی اعتبار سے تحصیل کبل کی زرخیزی کا اندازا اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ عمران خان کے مشیر خاص مراد سعید کا تعلق بھی تحصیل کبل کے ایک گاؤں سے ہے، جس نے اٹھاسی ہزار ووٹ لے کر تاریخ رقم کی ہے اور وہ نہ صرف ملکی بلکہ بین الاقوامی سطح پر عمراخان کا چلتا پھرتا سفیر اور مشیر ہے۔ اس کے علاوہ تحصیل کبل کے دو ایم پیز ڈاکٹرامجد اور محب اللہ خان دونوں صوبائی وزیر اور مشیر ہیں۔
تحصیل کبل میں پولیس لاین اور پاسپورٹ آفس کے ساتھ ساتھ سوات کا واحد ٹاؤن شپ (کانجو ٹاؤن) شپ بھی ہے۔ تحصیل کبل کی معیشت کا دار و مدار خلیج ممالک میں یہاں کے باشندوں کی سخت محنت پر ہے۔ کبل میں ایک سرکاری کالج لڑکوں اور ایک لڑکیوں کے لیے ہے۔ اس علاقے کے باشندوں کی تعلیم کے ساتھ محبت کا واضح ثبوت یہ ہے کہ تحصیل کبل میں درجنوں پرائیوٹ کالجزاور سیکڑوں اعلیٰ معیار کے پرائیوٹ اسکولز ہیں لیکن پتا نہیں کہ صوبائی حکومت اور انتظامیہ کی کبل سب ڈویژن کے ساتھ کیا دشمنی ہے کہ ایک طرف واپڈا نے کبل کو اپنا دشمن سمجھ کر یہاں پر پچیس گھنٹے لوڈشیڈنگ شروع کر رکھی ہے۔ بالکل اسی طرح یہاں کے کالجوں میں متعلقہ پروفیسرز اور لیکچرارز کی آسامیاں خالی ہیں اور غریب طلبہ کا وقت ضایع ہورہا ہے۔ سڑکوں کی حالت زار تو یہ ہے کہ ان پر آثار قدیمہ کا گمان ہوتا ہے۔ سول انتظامیہ بے بس ہوچکی ہے۔ حد تو یہ ہے کہ کبل کے روڈ سائیڈ پر افطار کے وقت سڑکوں پر اتنا رش ہوتا ہے کہ گاڑی چلانا جوئے شیر لانے کے مترادف ہوتا ہے اور اس تمام تر صورت حال میں کبل کی سول انتظامیہ عضومعطل بن چکی ہے۔
اتنی لمبی چوڑی تمہید اس لیے باندھی کہ آج کبل ہیڈ کوارٹر اسپتال میں عوامی شکایات پر بہ حیثیت ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے رکن کے جانے کا موقعہ ملا، تو کبل ہیڈکوارٹر اسپتال کی حالت زار دیکھ کر میر ا سر شرم سے جھک گیا۔ اس وقت عمران خان کی صحت پالیسی اور صحت انصاف جیسے نعروں پر ہنسنے کے سوا میرے پاس کچھ نہیں تھا۔ کیوں کہ تحصیل کبل ہیڈ کوارٹر اسپتال کے ڈاکٹرز درختوں کے نیچے کرسیاں لگا کر بیٹھے تھے۔ میڈیکل اسٹاف بھی گتوں سے دستی پنکھے کا کام لے رہا تھا۔ لیبارٹریز اور وارڈزکو تالے پڑے تھے۔ مریض کی حالت گرمی کی وجہ سے غیر ہوچکی تھی۔ اسٹورمیں ادویہ تونہ ہونے کے برابر تھیں لیکن جو تھیں، وہ گرمی کی شدت سے اپنی افادیت کھو چکی تھیں۔ میں نے اس صورت حال کی وجہ پوچھی، تو ڈاکٹروں نے کہا کہ جنریٹر تو ہیں لیکن پیٹرول کے لیے پیسے نہیں ہیں اور نہ ہی ای ڈی او سوات ہمیں پیسے دیتے ہیں۔ یہ سن کر میں غصہ ہوا اور پوچھا کہ یہ اسپتال ہے یا حجرہ؟ کیوں کہ اسپتال میں تو ہر قسم کے مریض ہوتے ہیں، یہاں بجلی کے بغیر اسپتال چلانا ایسا ہے جیسے آکسیجن کے بغیر انسان کو زندہ رکھنا۔ کیوں کہ بجلی کے بغیر لیباررٹری چل سکتی ہے، نہ ڈاکٹر معاینہ روم میں بیٹھ سکتا ہے، نہ اسٹور میں ادویہ محفوظ رہ سکتی ہیں،نہ مریض کا علاج ہی ہوسکتا ہے۔
حکومت وقت اور انتظامیہ کو معلوم ہونا چاہیے کہ عوام اب بیدار ہوچکے ہیں او وہ جانتے ہیں کہ ایک عام کریانہ کی دکان بجلی کے بغیر نہیں چل سکتی، تو سب ڈویژنل اسپتال کس طرح چل سکتا ہے؟ کتنے شرم کی بات ہے کہ جنریٹربھی ایک این جی او کی طرف سے عطیہ کیا گیا ہے۔ دوتین سال تک وہ این جی او اس کے پیٹرول کے پیسے بھی دیتا رہا۔ آج بھی بجٹ میں جنریٹر کے فیول کے نام پر معقول رقم کبل اسپتال کے لیے مختص ہے لیکن جنریٹر ایسا پڑا ہے جیسا ایک یتیم بچہ جس کے سر پر کوئی دست شفقت رکھنے والا نہیں ہوتا۔ جب میں جاکر جنریٹرکے سامنے کھڑا ہوا، تو یوں گویا ہوا کہ مجھے اس بے جا ن چیز کو یہاں پڑے پڑے دیکھ کر دکھ ہوا۔ جب میں مریضوں کی بجلی نہ ہونے کی وجہ سے سخت گرمی میں ان کی تکلیف کو محسوس کرتا ہوں، تو میرے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ جب مریض ٹیسٹ کرنے لیبارٹری پہنچتا ہے اور بجلی نہ ہونے کی وجہ سے وہاں بڑا تالا لگا ہوا دیکھتا ہے، تو مریض تڑپ تڑپ کر زندگی کی بازی ہارنے کو ترجیح دیتا ہے۔بجلی نہ ہونے کی وجہ سے میڈیکل اسٹاف بے کار بیٹھا رہتا ہے۔اس طرح زچہ و بچہ سنٹر میں بچے جوں ہی جنم لیتے ہیں، ان کا استقبال لوڈشیڈنگ کرتی ہے۔ ڈاکٹرز بے چارے خدمت کرنا چاہتے ہوئے بھی نہیں کرسکتے۔ کیوں کہ بجلی نہیں ہوتی اور جنریٹر چلانے کے لیے فیول خرچہ بھی نہیں۔ ایسی صورت حال تو پتھر کے دور میں ہی ریکارڈ پر موجود ہے۔اس علاقے کے ایم این اے، ایم پی اے، وزیر صحت اور وزیر اعلیٰ فی الفور اس بات کی انکوایری کریں کہ تحصیل کبل اسپتال کے جنریٹر کا فیول بجٹ کہاں خرچ ہوتا ہے؟ اور اگر نہیں تو فی الفور بجٹ مقرر کریں، کیوں کہ اسپتال بغیر جنریٹر کے مسلمہ صحت کے اصولوں کے خلاف روبہ عمل ہے۔ ہم تو عمران خان اور تحریک انصاف کی بنیادی صحت اور پرایمری تعلیم بارے انقلابی تبدیلیوں کے بڑے بڑے دعوؤں سے آس لگائے بیٹھے تھے، لیکن بنیادی صحت اور تعلیم تو درکنار ہیڈکوارٹر اسپتال کبل کے ایک چھوٹے سے جنریٹر کے لیے فیول بجٹ کا نہ ہونا یا ہونے کے باوجود استعمال نہ ہونا کتنی بڑی بدعنوانی اور غیر ذمہ داری ہے۔
میں اس حوالہ سے تمام انسانی تنظیمو ں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ ڈپٹی کمشنر سوات، ایم پی ایزاور ایم این ایز پر دباؤ ڈالیں کہ وہ سب اس حوالے سے سرگرم ہوجائیں اور غلطی کے مرتکب اہل کاروں خواہ وہ کوئی بھی ہو، کے خلاف فیصلہ کن اور راست اقدامات کریں۔
اسپتال کی بھلائی کے لیے مزید اقدامات بھی کیے جائیں، کیوں کہ یہ پانچ لاکھ آبادی کی بہتر زندگی کا سوال ہے۔اگر بڑے بڑے مسایل حل کرنے میں رکاوٹیں ہیں، توکم ازکم ایک ایٹمی ملک پاکستان تو کم سے کم تحصیل ہیڈکوارٹر اسپتال کی بجلی کا بندوبست تو کرسکتا ہے۔
امیدکی جاتی ہے کہ اس کالم کے ذریعے وزیراعلیٰ، وزیر صحت، ڈپٹی کمشنر سوات اور ای ڈی او صحت ہنگامی بنیادوں پر سوات کے تمام اسپتالوں میں بنیادی ضروریات فراہم کرنے کے لیے اپنا اپنا کردار ادا کریں گے اور خاص کر تحصیل کبل ہیڈ کوارٹر اسپتا ل کا خاص خیال رکھیں گے ۔
834 total views, no views today


