8 مارچ کو عالمی یوم نسواں منایا جاتا ہے اور یقیناًاس سال بھی پاکستان سمیت پوری دنیا میں یہ دن منایا جائے گا۔ بڑی بڑی تقریبات منعقد کی جائیں گی اور خواتین کے حقوق و فرائض پر گرما گرم بحث ہوگی۔ یہ دن کیا ہے؟ کہاں سے شروع ہوا اور کس نے کیوں کر شروع کیا؟ ان سب سوالوں کا جواب جاننے سے پہلے خدا کی اس مخلوق کے بارے میں جاننا ضروری ہے، جس کے لیے یہ دن منایا جاتا ہے، یعنی خواتین جن کے بارے میں شاعر مشرق کہتے ہیں۔
وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ
اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوز دروں
شاعر مشرق نے تو اس مخلوق کی تعریف نہایت خوب صورت الفاظ میں کی ہے مگر اس تصویر کا ایک رخ اور بھی ہے جہاں اسے نفرت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ زمانہ قدیم میں عورت کو بہت حقیر سمجھا جاتا تھا۔ اسے فتنہ تصور کیا جاتا تھا اور اسے حق سے محروم رکھا جاتا تھا۔ پھر رومن تہذیب نے اسے حد سے زیادہ آزادی دی۔ ہر طرح کے حقوق دیے، حتیٰ کہ اسے بہ یک وقت کئی کئی شادیوں تک کی اجازت دی گئی، یعنی ایک مادر پدر آزاد معاشرہ بنایا گیا۔ یونانی تہذیب میں بھی اسے گندگی فتنہ قرار دیا گیا۔ قدیم ہندوستان تہذیب میں اسے مرد کے نوکر کی حیثیت دی گئی۔ سانپ، بچھو وغیرہ کو اس پر فوقیت دی گئی۔ حتیٰ کہ اسے اپنے شوہر کی چتا کے ساتھ ستی کرنے کا حکم دیا گیا۔
“History of etics of Europe” میں لیکی کہتے ہیں کہ مغربی معاشرے میں عورت کو اتنا کم تر درجہ دیا گیا تھا کہ لوگ اس کے سائے سے بھی بھاگتے تھے۔ سن پانچ سو اسی قبل مسیح میں فرانس میں ایک کانفرنس منعقد کی گئی کہ عورت ذات کا فیصلہ کیا جائے کہ آیا وہ انسان بھی ہے یا نہیں۔ اس بارے میں اس کانفرنس میں فیصلہ ہوا کہ عورت وہ انسان ہے، جسے صرف مرد کی نوکری کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔ انگلستان کے ہنری ہشتم عورت کو اتنا کم تر سمجھتے تھے کہ اس کے لیے مذہبی کتابوں کا پڑھنا بھی جائز نہیں تھا۔ عرب میں اس کا یہ حال تھا کہ اس کے ساتھ بھیڑ بکریوں جیسا سلوک کیا جاتا۔ اسے زندہ زمین میں گاڑا جاتا اور اسے نفرت کی نگاہ سے دیکھا جاتا۔
پھر اسلام آیا، اسلام خدا کے اصول لے آیا اور خدا نے کہا کہ عورت بھی ایک انسان ہے جسے مرد کی بائیں پسلی سے پیدا کیا گیا ہے، تاکہ نہ تو اسے اتنی آزادی دی جائے کہ اسے سر پر بٹھایا جائے اور نہ ہی اسے پیروں تلے روندا جائے بلکہ اسے دل کے قریب پیار سے رکھا جائے۔ عورت کو اسلام نے جہاں اس کے جائز حقوق سے نوازا وہاں اس کے کچھ فرائض بھی مقرر کیے۔ اسلام نے اسے ایک خاص حد میں رہتے ہوئے ہر طرح کی آزادی دی اور خاص کر تعلیم کی آزادی۔ شادی میں رائے کی آزادی اور طلاق کی آزادی، جیسے بعض معاشروں میں مذہب یا رواج کی بنیاد پر یہ آزادی اس سے چھین لی گئی ہے۔ اسلام نے عورت کو زندگی کے ہر شعبے میں اس کے حقوق و فرائض مقرر کیے ہیں اور اسے آزادی دی ہے، جس طرح تاریخ سے ثابت ہے کہ پیشہ معلمی ہو یا طبی، جنگ جویت ہو یا کاروبار ہر شعبہ میں عورت آگے ہی رہی ہے۔ اگر چہ اسلام نے آزادی دی، مگر کچھ اسلامی ممالک سمیت پوری دنیا میں عورت کو اس کے حقوق سے محروم رکھا جا رہا تھا اور تاحال ایسا کیا جا رہا ہے۔
لہٰذا ایک بار پھر عورتوں کو اپنے حقوق کے لیے آواز اُٹھانا پڑی۔ انھیں اپنی سماجی، معاشی، سیاسی اور معاشرتی تحفظ و شناخت کے لیے آگے آنا پڑا۔ اور انھوں نے یوم نسواں منانے کا اعلان کیا۔ شروع میں یوم نسواں مختلف تاریخوں کو مختلف ممالک میں منایا گیا، جیسا کہ شکاگو میں تین مئی 1908ء، نیویارک اٹھائیس فروری 1909ء اور پھر ستائیس فروری 1910ء کو نیویارک میں منایا گیا۔ 1910ء میں ہی ملازمت پیشہ خواتین نے کوپن ہیگن میں ایک کانفرنس منعقد کیا، جس میں جرمنی کی معاشرتی جمہوری پارٹی کی خواتین کی سربراہ Clara Zetkinنے یہ تصور پیش کیا کہ ہر سال ہر ملک میں ایک ہی دن پر یوم نسواں منایا جائے، تاکہ اس میں عورتوں کے حقوق اور مطالبات پر بات کی جاسکے اور اس کانفرنس میں موجود سترہ مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والی سو خواتین نے اس بات پر اتفاق کیا اور یوں عالمی یوم نسواں کا آغاز ہوا۔
1911ء کو پہلی دفعہ عالمی یوم نسواں اسٹریا، ڈنمارک، جرمنی اور سوئٹزرلینڈ میں اُنیس مئی کو منایا گیا جس میں ڈھیر سارے لوگوں نے شرکت کی اور عورت کے حقوق و اہمیت کو جانا۔ پہلی جنگ عظیم کے موقع پر عورتوں نے فروری 1913ء کے آخری اتوار کو عالمی یوم نسواں منایا اور اس کے لیے تحاریک چلائیں۔ 1917ء کو فروری کے آخری اتوار کو روسی عورتوں نے جنگ میں دو ملین روسی فوجیوں کے مرنے پر “Bread and Peace” تحریک چلائی۔ یہ تحریک تب تک جاری رہی جب تک صوبائی حکومت نے عورتوں کو ووٹ ڈالنے کا حق نہیں دیا۔ اس وقت چوں کہ روس میں Julianکلینڈر استعمال ہوتا تھا، جس کے مطابق روس میں تیئس فروری آخری اتوار تھا، جب یہ تحریک شروع ہوئی جب کہ باقی دنیا میں زیر استعمال Georgianکلینڈر کے مطابق یہ آٹھ مارچ کا دن تھا۔ لہٰذا یہی تاریخ عالمی یوم نسواں قرار دیا گیا۔ تب سے لے کر آج تک یہ پوری دنیا میں 8مارچ کوہی منایا جاتا ہے۔
مذکورہ دن مختلف کانفرنس منعقد کیے جاتے ہیں۔ کئی ممالک میں مرد حضرات اپنی ماؤں، بہنوں، بیٹیوں اور اپنی شریک حیات کو پھول اور تحائف سے نوازتے ہیں۔ کہیں کہیں سرکاری سطح پر اعلیٰ کارکردگی دکھانے والی عورتوں کو انعامات سے بھی نوازا جاتا ہے۔ باقی ماندہ دنیا کی طرح پاکستان میں بھی یہ دن نہایت جوش و جذبے سے منایا جاتا ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ دن صرف منانے کی حد تک ہے اور بڑی بڑی تقریبات منعقد کرنے، بحث و مباحثے کی حد تک ہے یا اس کا عام عورتوں پر کوئی اثر بھی پڑنے والا ہے؟ میں پورے پاکستان کی بات نہیں چھیڑتی۔ میں اسی پاکستان کے ایک چھوٹے سے اور دنیا کی نظر میں پس ماندہ ضلع ’’سوات‘‘ کا ذکر کروں گی کہ اس دن کا سوات کے عورتوں پر کیا اثر ہے؟ اس دن جو آزادی اور حقوق و فرائض کے دعوے کیے جاتے ہیں، ان میں سواتی عورتوں کو لے کر کس حد تک سچائی کا عنصر شامل ہے؟ سوات کو پہلے پس ماندہ ضلع تصور کیا جاتا تھا اور اب پس ماندہ ہونے کے ساتھ ساتھ اسے دہشت گردی کا گڑھ بھی مانا جاتا ہے۔ جس طرح تصویر کے دو رخ ہوتے ہیں، اسی طرح دو رخیا حال سوات کے عورتوں کا ہے۔ سوات میں اگر ایک طرف عورتوں کو ان کے حقوق دیے جاتے ہیں، انھیں تعلیم کی آزادی دی جاتی ہے، حق اظہار رائے دیا جاتا ہے، وہاں اگر ہم دیکھیں تو ہماری عدالتیں ایسے مقدمات سے بھری پڑی ہیں، جہاں عورت کو بحیثیت ماں، بہن، بیٹی، بیوی وراثت میں سے اپنا جائز حق چاہیے ہوتا ہے، مگر معاشرے کے مرد حضرات ان کا یہ حق ماننے کے لیے بالکل تیار نہیں ہوتے۔ ہمارے سوات میں جہاں ایک طرف بیٹے کو نعمت اور بیٹی کو رحمت کہتے ہوئے لوگ تھکتے نہیں، وہاں اسی سوات میں بیٹی کو بیٹے پر قربان بھی کیا جاتا ہے۔ صرف یہی نہیں یہاں بیٹی کے ساتھ جڑے کئی غلط رسم و رواج سے بیٹی بوجھ سمجھی جاتی ہے۔ وہ بیٹی جسے خدا نے رحمت کہا ہے، جس کی پرورش کرنے والوں کے لیے رسول پاکﷺ نے اپنے قریب جگہ دینے کی بشارت کی ہے، مگر پھر بھی وہ اک بوجھ ہے۔ وہ بوجھ ہمارے اپنے رسم و رواج اور نظریات کی وجہ سے ہے۔ عورت کے بارے میں کئی دفعہ میں پہلے بھی لکھ چکی ہوں اور آج بھی یہی لکھوں گی کہ اے اہل اختیار کم از کم اس دفعہ یوم نسواں مناتے ہوئے انصاف کا ترازو ہاتھ میں لے کر اسے منائیں۔ تصویر کے دونوں رخ دیکھیں اور اگر کوئی ترمیم کوئی بل پاس کرنا ہو، تب بھی یہ ضرور سوچیں کہ کہیں یہ ترمیم حوا کی بیٹی کی تباہی کا باعث نہ بنے۔کیوں کہ زیادہ تر ہم آزادئ نسواں کی بات کرتے ہیں اور آزادی سے ہمارا مطلب وہی قدیم رومن تہذیب کی مادر پدر آزاد سوچ ہے، تو میں واضح کردوں کہ ہمیں وہ آزادی نہیں چاہیے۔ ہمیں وہ آزادی، وہ حقوق، وہ اختیارات چاہئیں، جو اسلام نے ہمارے لیے مقرر کیے ہیں۔ مجھے وہ تعلیم و تربیت چاہیے جو مجھے میرے خاندان، میرے معاشرے کا کارآمد فرد بناسکے، جو مجھ میں اتنی صلاحیت پیدا کرسکے کہ میں ایک اسلامی معاشرے کو ترتیب دینے میں ایک فعال کردار ادا کرسکوں، نا کہ مجھے ایسا بنادے کہ میں اپنے خاندان، معاشرے اور اپنی روایات کو بھلا دوں۔ مجھے شاعر کے ان الفاظ کو سچ کا روپ دھارنا ہے کہ
ہم مائیں، ہم بہنیں، ہم بیٹیاں
قوموں کی عزت ہم سے ہے
ہم معنئ مہر و وفا ہم کشمکش ہم ارتقاء
تاریخ نے خود لکھ دیا انساں عبارت ہمسے ہے
2,199 total views, no views today


