سوات،کالج میں سیاست کے خلاف پرنسپل نے بالاخر سیاست کا سہارا لے لیا،یونیورسٹی پر دباؤ ڈالنے کیلئے طلباء کے مظاہرے کے بعد پرنسپل خود میدان میں کود پڑا،جہانزیب کالج کے پرنسپل نے سوات یونیورسٹی کو وارننگ دیدی،بلڈنگ پر قبضہ ختم کیا جائے ورنہ حالات بگڑ سکتے ہیں،معاہدہ ختم ہونے کے باوجود سوات یونیورسٹی کی انتظامیہ من مانی کا مظاہرہ کر رہی ہے ،سوات یونیورسٹی کا انتظامیہ دانستہ طور پر حالات کو کشیدگی کی طرف لے جارہی ہے سوت یونیورسٹی کی ایک مخصوص لابی حالات کو خراب کرنے کی کوشش کررہی ہے ،گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ جہانزیب کالج کے پرنسپل پروفیسر ظاہر شاہ کے دفتر سے جاری ہونے والی پریس ریلیز کے مطابق جہانزیب کالج کی مخصوص عمارات 14.05.2010کو ایک معاہدے کے تحت سوات یونیورسٹی کو زیادہ سے زیادہ پانچ سال تک عارضی طوردی گئی تھی ۔معاہدے کی شرط یہ تھی کہ مذکورہ عمارات پانچ سال تک سوات یونیورسٹی کے زیر استعمال رہے گی ۔اگر یونیورسٹی کی عمارت پانچ سال سے پہلے مکمل ہوئی تو یونیورسٹی پانچ سال سے پہلے ہی جہانزیب کالج کی عمارات کو خالی کرے گی ۔معاہدے میں عمارات پر کسی تنازعے کی صورت میں سیکریٹری ہائیر ایجوکیشن کے فیصلے کو دونوں فریقوں نے تسلیم کرنے سے اتفاق کیا تھا ۔اب جبکہ معاہدے کی مدت ختم ہوچکی ہے تو یونیورسٹی آف سوات اخلاقی اور قانونی طور پر جہانزیب کی عمارات خالی کرنے کی پابند ہیں تاہم یونیورسٹی کی ایک مخصوص لابی حالات کو خراب کرنے کی کوشش کر رہی ہے ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے طرف سے 11.7.2015کو خط نمبر No.cpo (HE)/so/uni/swat/2015/873 میں یونیورسٹی کی انتظامیہ کووا ضح طور پر مذکورہ عمارات خالی کرنے کا کہا گیا ہے ۔اس کے بعد ایک اور خط میں یہی مضمون یونیورسٹی کو ارسال کیا گیا ہے ۔دوسرے خط کر نمبر No.cpo (HE)/so/uni/swat/2015/1263 اس کے بعد ان خطوط کی روشنی میں جہانزیب کالج کے پرنسپل نے ایک اور خط میں یہی مضمون یونیورسٹی کو بھیجا تھا ۔اس خط کا نمبر 2529/j.2015 ہے جو 9.09.2015کو سوا ت یونیور سٹی بھیجا گیا ہے ۔ان تما م درخواستوں یا احکامات کو پس پشت ڈالا جارہا ہے ۔جہانزیب کالج کے طلباء اور طالبات کو پڑھنے کیلئے کلاس رومز نہیں مل رہے اور سوات یونیورسٹی کا انتظامیہ بے حسی کا مظاہرہ کرر ہی ہے ۔جہانزیب کالج کے گرلزہاسٹل میں سوات یونیورسٹی کے لوگ اور عملہ رہائش پزیر ہے جبکہ جہازیب کالج کے طالبات پرائیویٹ ہاسٹل میں رہنے پر مجبور ہیں۔جہانزیب کالج کے طلباء اور طالبات کلاس رومز اور ہاسٹلز مانگ رہے ہیں جبکہ سوات یونیورسٹی صرف بیانات سے کام چلا رہی ہے ۔اس حوالے سے ہم کسی قسم کے تاخیر کے متحمل نہیں ہوسکتے اگر یونیورسٹی نے مزید لیت ولعل سے کام لیا اور حالات بگڑگئے تو ذمہ داری سوات یونیورسٹی کی انتظامیہ کی ہوگی ۔
740 total views, no views today


