مینگورہ،تحصیل بریکوٹ کے علاقہ گورتئی اورابوہاسے تعلق رکھنے والے سیاسی وسماجی شخصیات اورمنتخب بلدیاتی نمائندوں نے دریائے سوات سے بٹ خیلہ کیلئے لے جانے والے پانی پائپ کی روٹ کو تبدیل کرنے کا مطالبہ کردیا،مطالبہ منظورنہ ہونے کی صورت میں احتجاج شروع کرنے کی دھمکی دے دی،اس حوالے سے سماجی کارکن بخت افسرخان ،منظوراحمداورڈاکٹر عزت رحمان نے دیگر اہل علاقہ کے ہمراہ سوات پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ پچھلی حکومت میں 63کروڑروپے کی لاگت سے سوات سے بٹ خیلہ کیلئے صاف پانی کا منصوبہ شروع کیا گیاجس کیلئے بٹ خیلہ سے لنڈاکی تک پائپ لائن بچھائی جاچکی ہے جہاں سے یہ لائن گورتئی ابوبا تک آئے گی جس کیلئے مقررکردہ موجود ہ روٹ کسی بھی صورت مناسب نہیں کیونکہ اس سے ہماری اراضی متاثر ہوگی جبکہ ساتھ ساتھ اس روٹ کا سیلاب سے متاثر ہونے کا بھی خدشہ ہے ،ہم اس کے بدلے میں متبادل اورمحفوظ روٹ فراہم کرنا چاہتے ہیں مگر محکمہ پبلک ہیلتھ اپنی کوتاہی چھپانے کیلئے یہ تاثر پھیلانا چاہتا ہے کہ مقامی لوگ اور اراضی مالکان اس منصوبے کی راہ میں رکاؤٹ ہیں،انہوں نے کہاکہ ضلع ملاکنڈ کے محکمہ پبلک ہیلتھ کے چنداہلکار مالی بے ضابطگیوں کو چھپانے کیلئے کھیل کھیلنا چاہتے ہیں اورملاکنڈ کے انتظامی افسران کو غلط معلومات مہیا کررہے ہیں،انہوں نے کہاکہ ہم پرامن شہری ہیں اورحکومت کے کسی بھی منصوبے کے خلاف نہیں ہم مذکورہ منصوبے کو جاری رکھنے کے خواہش مند ہیں تاہم اس سلسلے میں محکمہ پبلک ہیلتھ ملاکنڈکوحکومتی ملازمین اورتکنیکی ماہرین کاکرداراداکرنا ہوگانہ کہ ملازمت کی آڑ میں سیاست کرکے انتشار پھیلائے،انہوں نے کہاکہ محکمہ پبلک ہیلتھ ملاکنڈ مختلف طریقوں سے مذکورہ سکیم کو متنازعہ بنانے کی کوشش کررہاہے اوران کی یہ کوششیں خون خرابے کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتی ہیں، انہوں نے کہاکہ محکمہ پبلک ہیلتھ کی نااہلی کا ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ اتنے بڑے منصوبے کازرخیززمینوں سے گزارنے والے پائپ کے ازالے کیلئے کوئی قانونی منصوبہ بندی نہیں لہٰذہ علاقے کے تمام سیاسی وسماجی شخصیات ،منتخب بلدیاتی نمائندے اور اہل علاقہ وزیراعلیٰ صوبہ خیبرپختونخوا،صوبائی وزیر پبلک ہیلتھ،چیف سیکرٹری پبلک ہیلتھ،چیف انجینئرپبلک ہیلتھ ،کمشنرملاکنڈڈویژن،ڈپٹی کمشنرسوات سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس سلسلے میں مداخلت کرکے غیر جانبدارکمیٹی تشکیل دیں تاکہ یہ قومی معاملہ افہام وتفہیم سے حل ہوسکے ،اس موقع پر نثارلملک خان،محمدشاہ خان اوردیگر بھی موجودتھے۔
700 total views, no views today


