مینگورہ ، 26اکتوبر 2015 کے تباہ کن زلزلے میں شہید اور زخمی ہونیوالوں کے امدادی چیکوں کی تقسیم پیر 02اکتوبرسے ہوجائیگی اور اس موقع پر منعقدہ تقریبات میں عوامی نمائندوں اور اعلیٰ سرکاری افسران کی موجودگی میں تمام اہم قومی بینکوں کے بوتھ بھی موقع پر موجود ہونگے جو امدادی چیکوں کو موقع پر ہی کیش کروائیں گے جبکہ زلزلہ میں مکمل ، تباہ شدہ اور نیم تباہ شدہ مکانوں کے امدادی چیک جامع سروے کے بعد جاری کئے جائیں گے اس مقصد کیلئے ڈویژن کے سات اضلاع اور باجوڑ ایجنسی میں پاک فوج، ضلعی انتظامیہ اور منتخب نمائندوں پر مشتمل 1250ٹیمیں مقر ر کی گئی ہیں جو سات روز کے مختصر مدت میں اپنا سروے جو مخصوص فارم پر کرنے اور موقع کی تصاویر پر مبنی ہوگا مکمل کریں گے ۔ یہ باتیں چیئرمین نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ جنرل ریٹائرڈ نواز اصغر اور کمشنر ملاکنڈ ڈویژن عثمان گل نے جمعرات کے روز ڈویژن کے مختلف اضلاع میں نقصانات کا مشاہدہ کرنے کے بعد کمشنر ہاؤس میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتائیں انہوں نے کہا کہ یہ اللہ کا بہت بڑا کرم ہے کہ زلزلہ کی شدت اور طویل دورانیہ کے مقابلہ میں نقصانات بہت کم ہوئے ہیں ، نقصانات کی تفصیل بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ڈویژن بھر میں 30219 مکانات اور عمارات کو کلی یا جزوی نقصان پہنچا 195افراد شہید ہوئے اور1428افراد زخمی ہوئے انہوں نے بتایا کہ گزشتہ آفات سے حاصل شدہ تجربات کی روشنی میں مرکزی اور صوبائی حکومتوں نے فیصلہ کیا کہ اس بار معاوضوں کی تقسیم میں تاخیر نہیں ہونی چاہئے لہذا ہفتہ دس دن کے اندر اندر تمام متاثرہ خاندانوں کو معاوضہ کے چیکس کی ادائیگی یقینی بنائی جائیگی ۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ قدرتی آفت میں قوم نے انتہائی سرعت کے ساتھ ایک زندہ قوم ہونے کاثبوت کا دیا اور صدر ، وزیر اعظم پاکستان، آرمی چیف ، پی ٹی آئی چیئرمین ، گورنر اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے علاوہ چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی اور وزیر اعلیٰ سندھ نے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرکے متاثرین کو یہ ثبوت دیا کہ قدرتی آفت کے ان سخت مراحل میں پوری قوم انکے ساتھ ہے انہوں نے امدادی سرگرمیوں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے پر پاک فوج ، سول انتظامیہ ، غیر سرکاری تنظیموں ، رضاکاروں اور عوام کو خراج تحسین پیش کیا کمشنر ملاکنڈ نے بتایا کہ جیسے ہی زلزلہ ختم ہوا تو انہوں نے ڈویژن بھر میں ایمرجنسی نافذ کی ، ڈویژنل سطح پر ایمرجنسی کنٹرول روم قائم کیا اور تمام ڈپٹی کمشنرز اور پولیٹیکل ایجنٹ باجوڑ کو ضلعی کنٹرول روم کے قیام اور ایمر جنسی کے نفاذ کی ہدایت کی اور انہیں حکم دیا گیا کہ تمام سرکاری اہلکاروں کو امدادی سرگرمیوں پر لگایا جائے ، ہسپتالوں میں ڈاکٹروں اور طبی عملہ کی چھٹیاں منسوخ کی گئی اور تمام مریضوں کے مفت اور معیاری علاج کو یقینی بنایا گیا ، اب تمام ڈویژن کے ہسپتالوں میں متاثرہ مریضوں کی بہت کم تعداد ر ہ گئی ہے انہوں نے کہا کہ ڈویژن بھر میں پاک فوج ، پولیس اور سول انتظامیہ کی جانب سے 46امدادی مراکز قائم کئے گئے جن میں اب تک 3237 نان فوڈ آئٹمز ، 5550 پیکٹ فوڈ پیکس ، 6796ٹینٹ اور 9179کمبل تقسیم کئے گئے ہیں کمشنر نے اعلان کیا کہ شہداء اور زخمیوں کے معاوضوں کیلئے تین ارب روپے سے زائد رقم متعلقہ اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کو حوالہ کئے گئے ہیں انہوں نے کہا کہ فنڈز کی کوئی کمی نہیں اور کسی بھی متاثرہ خاندان کو شکایت کا موقع نہیں دیا جائیگا۔ عثمان گل نے واضح کیا کہ پاک فوج اور ضلعی انتظامیہ پر مشتمل ضلعی مانیٹرنگ کمیٹیاں قائم کی گئی ہیں جن کے ٹیلیفون نمبر عوام کی اطلاع کیلئے مشتہر کئے گئے ہیں چنانچہ جن لوگوں کو سروے میں محروم رہ جانے کی شکایت ہو وہ متعلقہ سنٹرز میں اطلاع کرکے اپنی شکایات درج کرائیں ، جن کا بروقت ازالہ کیا جائیگا۔ کمشنر ملاکنڈ نے یقین دلایا کہ ڈویژن بھر میں فنڈز کی کوئی کمی نہیں اور متاثرین کی جلد از جلد بحالی مرکزی و صوبائی حکومتوں، پاک فوج اور انتظامیہ کا مشن ہے تاکہ سخت سردی کے آمد سے پہلے پہلے ہر متاثرہ خاندان کو سر چھپانے کیلئے مناسب اشیانہ میسر ہو انہوں نے کہا کہ ہر متاثرہ خاندان کو ٹینٹ اور کمبل کی فراہمی یقینی بنائی جائیگی ۔
512 total views, no views today


