ان تمام نافرمانیوں کے باوجود اللہ تعالیٰ ہم پر کوئی آسمانی قہر اورعذاب نازل نہیں فرماتا۔ یہ سب ہمارے نبی پاکؐ کی دعا ہے۔ انہیں احکامات کے ذریعے ہمیں بتایا گیا ہے کہ مال کس طرح کمانا اور خرچ کرنا ہے، لیکن ہم نے ان تمام احکامات کو بالائے طاق رکھ کر اپنے لئے خود راستوں کا تعین کیا ہے، جس کی منزل ناکامی اوربربادی کے سوا کچھ نہیں۔ اس زمرے میں ہمارے سیاستدانوں کا کردار بہت آگے ہے۔ یہ لوگ جب منتخب ہوتے ہیں، تب جاکر وزیر بن جاتے ہیں اور جنہیں جہاں وزارت ملتی ہے، وہ وہاں قانون کی دھجیاں اڑاتے ہوئے اپنے رشتہ داروں اوردوستوں کو (ووٹروں کو نہیں) خالی اسامی ہویا نہ ہو، کھپادیتے ہیں۔ وہ یہ نہیں دیکھتے کہ اس محکمے میں اتنا بجٹ ہے بھی یا نہیں؟ بس اپنی مرضی سے کام چلادیتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ادارہ نقصان میں چلا جاتا ہے اور اگر حکومت اضافی امدادنہ دے، تووہ ادارہ ختم ہوجا تاہے۔ دکھ کی بات یہ بھی ہے کہ حکومت کے پاس بھی کچھ نہیں ہوتا۔ بعدمیں ادارے کوبچانے کیلئے ان لوگوں نے ایک طریقہ بنایاہے جوکافی کارآمد ثابت ہورہاہے اور حکومت کی بقا کیلئے واحد سہارا ہے۔ وہ طریقہ ہے ڈاؤن سائزنگ اور اسی ڈاؤن سائزنگ یعنی ملازمین کی تعداد کو کم کرنے کی پالیسی کو ’’گولڈن ہینڈشیک اسکیم‘‘ کہتے ہیں جس کے تحت نکالے جانے والے ملازمین پر یہ شرط لازم ہوتی ہے کہ ان کی سروس کا دورانیہ بیس سال یا اس سے زیادہ ہو۔ساٹھ کی عمر اس کیلئے شرط نہیں ہوتی بلکہ ساٹھ سال سے پہلے ہی انھیں نکال دیا جاتا ہے۔ بالفاظ دیگر پرانے لوگوں کو محکموں سے نکالنامقصود ہوتا ہے۔ پرانے ملازمین کو کچھ رقم کا لالچ دے کرانہیں اداروں سے نکالا جاتا ہے اور یوں اپنے چہیتوں کو مواقع فراہم کرنے میں ان عناصر کو کامیابی ملتی ہے۔
قارئین، آپ ضرور سوچتے ہوں گے کہ پرانے ملازمین اپنی سروس کو چھوڑنے پر کیوں مجبور ہوتے ہیں؟ تو آپ تو جانتے ہیں کہ سرکاری ملازمت میں تنخواہوں پر بمشکل گزارہ ہوتا ہے جس میں کوئی بچت نہیں ہوتی، جب یہ لوگ بیس سال یا اس سے زیادہ مدت پوری کرتے ہیں، تو ظاہر ہے کہ اس کے دوران ان کے بچے جوان ہوچکے ہوتے ہیں۔ جب ان کی شادیا ں کرانے یا تعلیم مکمل کروانے کا وقت آپہنچتا ہے، تو بچت توہوتی نہیں اوراس سکیم کے تحت انہیں یکمشت کچھ رقم کی پیشکش کی جاتی ہے، جو ملازمین اس آس پر قبول کرلیتے ہیں کہ ان کے بچوں کی شادی ہوجائے گی اور کچھ رقم بچ جائے، تو اس سے بچوں کی تعلیم کے اخراجات بھی پورے کئے جائیں گے۔ تب مجبوراً وہ ’’گولڈن ہینڈشیک اسکیم‘‘ کو قبول کرنے پر راضی ہوجاتے ہیں اور ایک طرح سے اپنی ملازمتیں فروخت کردیتے ہیں۔ اس اسکیم کے تحت ملازمین کی جان کے عوض جو رقم دی جاتی ہے، توستم ظریفی کی بات یہ ہے کہ وہ بھی حکومت کی طرف سے نہیں بلکہ آئی ایم ایف اورورلڈبنک وغیرہ کے سامنے جھولی پھیلاتے ہوئے ڈوبتے ہوئے اداروں کو بچانے اور ان میں ڈاؤن سائزنگ کیلئے فنڈز مانگنے کی اپیلیں کرتے ہیں اور ان کی امدادکی بدولت اس منصوبے کو پایۂ تکمیل تک پہنچایا جاتا ہے۔ یوں بے چارے ملازمین نوکریوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں اور ان کی آس یہ ہوتی ہے کہ بچوں کے ضروری اخراجات سے اگر کچھ رقم بچ جائے، تو اس سے چھوٹا موٹا کاروبار شروع کرلیں، لیکن ایساممکن نہیں ہوتا۔ کیونکہ کاروبار کیلئے تو تجربے کی ضرورت ہوتی ہے جو ان کے پاس نہیں ہوتا۔ ایسے میں اگر وہ کوئی کاروبار شروع بھی کرتے ہیں، تو باقی اثاثے سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں اور پھر ان کے پاس زندگی گزارنے کیلئے کچھ بھی باقی نہیں بچتا اور یوں در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ قابل افسوس بات یہ ہے کہ تجربے کے باوجود انہیں پھر کسی بھی محکمے میں ملازمت نہیں دی جاتی اور مایوسی وکسمپرسی کی حالت میں باقی زندگی گزارنا ان کا مقدربن جاتا ہے۔ دوسری طرف اگر کسی ادارے میں کوئی اسامی نکلتی ہے، تو شرائط میں تعلیم کے علاوہ کئی سالوں کے تجربے کی شرط ضرور لگا دی جاتی ہے لیکن وہ گولڈن ہینڈ شیک اسکیم کی بھینٹ چڑھنے والے ملازمین کیلئے نہیں ہوتی اور جن امیدواروں کو حکمران بھرتی کرنا چاہتے ہیں تو انہیں بغیر تجربے کے بھی بھرتی کرلیتے ہیں۔
حکومت سے اس سلسلے میں عرض ہے کہ ظلم کا یہ سلسلہ بند کیا جائے۔ اس ظالمانہ اورغیر منصفانہ قانون کو کالعدم قراردے کر ان بے چاروں اوربے سہارا افراد کی خاطر اداروں کو فعال بنایا جائے۔ تاکہ وہ ترقی کرکے مزید خالی اسامیاں پیدا کرسکیں۔ ان سینئر ملازمین کیلئے کوئی ایسامنصوبہ بنایا جائے جس سے ان اداروں میں انہیں آسان شرائط پر بلاسود قرضے ملیں، تاکہ وہ اپنے بچے بچی کی شادی اور تعلیم کے اخراجات کو باآسانی پورا کرسکیں اور انہیں نوکری سے ہاتھ دھونے کی نوبت بھی نہ آئے۔ اس کے علاوہ علاج معالجے کیلئے انہیں آسانیاں دی جائیں۔ سو فیصد ملازمتیں میرٹ پر دینا معمول بنایا جائے اور ظالموں کوناجائز اور گھناؤنے طریقوں سے اپنے عزیر واقارب کواداروں میں بھرتی کرنے سے روکا جائے اور ساتھ ساتھ اسی اسکیم کے تحت فارغ کئے جانے والے ملازمین کیلئے کنٹریکٹ بنیاد پر ملازمتیں دلانے کاقانون بنایا جائے ۔
یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ ایک نہ ایک دن سب کو مرنا ہے۔ آخر اللہ تعالیٰ کو ہم کیا جوا ب دیں گے؟ یہ دنیا تو دارِ فانی ہے، تو کیوں نہ اپنے ساتھ اچھا سامان سفرلے جائیں۔ دنیا کا سب کچھ تو دنیا میں ہی رہ جاناہے، تو پھر کیوں نہ انصاف کریں۔ اللہ تعالیٰ خود فرماتا ہے کہ انصاف کرنے والوں کے ساتھ ہی انصاف ہوگا ۔
954 total views, no views today


