اسلامی ریاست کے خلیفہ دوم حضرت عمر فاروقؓ نے خلا فت کی ذمہ داریاں سنبھالتے ہو ئے جو پہلا تاریخی خطبہ دیا تھا، اس میں آپؓ نے فر مایا تھا کہ کوئی بھی ظالم میرے نزدیک انتہائی کمزور ہے جب تک اس سے مظلوم کا حق نہ لے لوں اور کوئی بھی مظلوم میرے لئے اس وقت تک طاقتور ہے جب تک میں ظالم سے مظلوم کا حق چھین کر اسے واپس نہ دلاؤں۔
قارئین، اگر ہمارے حکمران اسی فلسفہ پر عمل شروع کر دیں، تو ہمارے ملک سے دہشت گردی، انتہا پسندی، کرپشن، ناانصافی اور ظلم و زیادتی جیسی معا شرتی برائیوں کا خاتمہ ممکن ہے۔ لیکن سب کو علم ہے کہ ڈھیر ساری قربانیوں کے بعد آزاد ہونے والے ہمارے پیارے ملک پاکستان میں آج کل کے زمانے میں کوئی بھی اللہ سے ڈرنے والا نہیں ہے۔ حکومت ہو، آفیسرز ہوں یا سیاستدان، انصاف کی توقع کس سے نہیں کی جاسکتی۔ تبدیلی کے نعرے لگانے والے خود بھی انصاف دینے میں ناکام ہیں۔ جبکہ سب سے زیادہ اپنے آپ کو عال و منصف کہلانے والے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک صاحب بھی سب سے زیادہ توتا چشم بن چکے ہیں۔انصاف کے نام پر کھڑی ہونے والی حکومت سے خیبر پختونخواہ کے عوام کی ڈھیر ساری توقعات تھیں، لیکن وہ اس پر پورا نہیں اتری۔ عزت دار لوگوں کو سوائے بے عزتی کے کچھ نہیں ملا۔ چاہے وہ محکمۂ پولیس ہو، انتظامیہ ہو ہر جگہ پگڑیاں اچھالی جاتی ہیں۔ وہ کچھ ملا ہے خیبر پختونخواہ کے عوام کو، جس کی توقع بھی نہیں کی جاسکتی تھی۔
عوام کو انصاف دینے اور شفاف الیکشن میں صوبائی اور مرکزی حکومت نے جو لوٹ ماراور کرپشن کا کردار ادا کیا ہے،وہ تو سب کو معلوم ہے۔ یہ تو بس ہر کوئی کہے گا کہ سیاست ہے، لیکن مجھے یہ معلوم نہیں تھا کہ اللہ کی طرف سے آنے والے عذاب میں بھی صوبائی و مرکزی حکومتیں اپنی سیاسی دکانیں چمکانے کی کوشش کریں گی۔ پہلے مر حلے میں زلزلے کے بعد جو امداد تقسیم کی گئی، وہ سیاسی بنیادوں پر ہی تقسیم ہوئی ہے اور سوشل ورکروں اور مقامی لوگوں نے جو اپنی مدد آپ کے تحت امداد دی ہے، وہ مستحق اور متاثرہ خاندانوں کو ملی ہے۔ اب بھی بے سرو سامانی کے عالم میں لوگ زندگی بڑی مشکل میں گزار رہے ہیں۔ اس شدید سردی کے موسم میں سوات، شانگلہ، دیر اپر، دیر لوئر، بونیر، چترال اور ملاکنڈ کے ہزاروں متاثرین اللہ کے آسرے پرزندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ لیکن مقتدر حلقوں کو کیا تکلیف؟ کیو نکہ زلزلے میں ان لوگوں کا نقصان ہوا ہے جن کے گھر کچے تھے۔حکومت کی جانب سے امداد کے طور پر مکمل تباہ گھر کے لئے دو لاکھ روپیہ اور جزوی طور پر نقصان پہنچنے والے گھروں کے لئے ایک لاکھ روپیہ کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس مہنگائی کے دور میں دو لاکھ روپیہ کے عوض ایک غریب اپنے گھر کا ملبہ ہٹائے گا یا پھر کوئی کمرہ تعمیر کرے گا؟ حکومت کی طرف سے اعلان کردہ رقم کی مدد سے تو ایک کمرہ بھی نہیں بن سکتا۔ آخر یہ بے چارے متاثرین امداد کے نام پر جاری اس مذاق کاکریں گے کیا؟ متاثرہ لوگوں کا حکومت سے گلہ ہے کہ اگر زلزلے میں سرمایہ دار متاثر ہوتے، تو شائد حکومت کا رویہ کچھ اورہوتا، لیکن ہر حکومت میں بے چارے بے بس غریب لوگوں کے ساتھ مذاق کیا جا تا ہے۔
دوسرے مر حلے میں حکومت نے ایک اور تیر مار دیا۔ اللہ کی طرف سے زلزلے کی شکل میں عذاب آنے کے بعد جن گھروں کو نقصان پہنچا ہے یا مکمل تباہ ہوئے ہیں، ان میں سے کچھ کو معاوضہ ملا ہے اور کچھ تاحال رو رہے ہیں۔ طرفہ تماشا یہ ہے کہ ان لوگوں کو بھی معاوضہ ملا ہے جن کے گھروں کو نقصان نہیں پہنچا ہے۔ سیاسی بنیادوں پر زیادہ تر ان لوگوں کے نام متاثرین میں ڈالے گئے ہیں جن کا سرے سے حق نہیں بنتا۔
حکومت کے لئے آسان سی بات ہے، کہے گی کہ فلاں کا نام غلطی سے رہ گیا تھا۔ اللہ کی طرف سے آنے والے عذاب میں بھی سیاسی دکان چمکائی گئی۔ بغیر تفتیش کے ایم پی ایز کے کہنے پراے سی صاحبان نے نام شامل کئے اور جلدی جلدی بنک چیک دئیے گئے۔ کیا یہ انصاف ہے؟ متاثرہ لوگوں کے لئے آنے والی امداد زیادہ تر غیر مستحق افراد کو مل رہی ہے۔ یہ انصاف حکومت کا بہترین انصاف اور ایک بڑا کارنامہ ہے۔
اب تیسرے مرحلے میں کیا دوبارہ ڈیٹا اکھٹا کیا جائے گا، اس میں ردو بدل کی جائے گی یا پھر رہ جانے والے متاثرہ افراد کے نام شامل کئے جائیں گے، واللہ اعلم ۔
1,179 total views, no views today


