پختون سیاسی و سما جی رہنما جناب افضل خان لالا (مرحوم) کے تعزیتی ریفرنس کے موقع پر بیس دسمبر کو ودودیہ ہال سیدو شریف سوات میں سابقہ وزیر اعلیٰ خیبر پختون خوا امیر حیدر خان ہو تی، سابقہ وزیر اطلاعات و نشریات خیبر پختون خوا میاں افتخار حسین شاہ، جناب افرا سیاب خٹک، ایوب اشاڑی، شیر شاہ خان، رحمت علی خان، فرزند اسفند یار ولی ایمل ولی خان، واجد علی خان، وقار احمد، عوامی نیشنل پارٹی کے منتخب ضلعی کونسلروں اور اے این پی کے دیگر عہدہ داروں کے علاوہ عام مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر، اساتذہ، انجینئر، وکلا اور عوامی نیشنل پارٹی کے غیور کارکنوں نے شرکت کی۔ اس دن کے حوالے سے کا رکنوں میں کافی جوش و جذبہ پایا گیا۔ پروگرام کا باقاعدہ آغاز تلاوتِ کلام پاک سے کیا گیا۔ ابراہیم دیولئی کی سربراہی میں افضل خان لالا کی مغفرت اور ان کے درجات بلند کرنے کے لیے دُعا مانگی گئی۔ بچیوں نے آئے ہوئے مہمانوں کو خلوص دل سے پھولوں کے تحفے پیش کیے۔ شیر شاہ خان نے اپنی باتوں میں تمام مہمانوں کی شرکت کا شکریہ ادا کیا اور واضح کر دیا کہ آج افضل خان لالا کی رحلت کا پچاسواں دن ہے، تاہم آج بھی ان کی فاتحہ خوانی کے لیے لوگ جوق دجوق آرہے ہیں۔ پاکستان ہی میں نہیں بلکہ افغانستان میں بھی حامد کرزئی تین دن مسلسل فاتحہ خوانی کے لیے آنے والوں کے لیے بیٹھے رہے۔ انہوں نے مزید واضح کیا کہ طالبانائزیشن کے دَور میں سوات میں ستمبر 2007ء میں افضل خان لالا پر قاتلانہ حملہ ہوا جس میں وہ زخمی ہو گئے تھے لیکن اس کے با وجود انہوں نے آپریشن راہ راست کے دوران سواتی عوام کی خاطر سوات کو نہیں چھوڑا اور موت کے کنویں میں اپنے تمام اہل خانہ کے ساتھ سوات ہی میں رہے۔
واجد علی خان نے اپنے بیان میں اس بات کا اعتراف کیاکہ افضل خان لالاکی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ انہوں نے افضل خان لالا کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ آپ قائد جمہوریت خان عبد الولی خان کے قافلے کے رہنما تھے۔ اب وہ ہمارے درمیان نہیں لیکن ان کی یادیں ہمیشہ کے لیے ہمارے ساتھ ہیں۔ آپ نے مزید کہا کہ سیکورٹی فورسز کے جوانوں کی قربانیوں کے ساتھ ساتھ امن اور جمہوریت کو قائم رکھنے کے لیے عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما افضل خان لالا اور ان کے ساتھیوں نے بھی قربانیاں دیں۔
عوامی نیشنل پارٹی کے نائب صوبائی صدرایوب اشاڑی نے آئے ہوئے تمام مہمانوں کابڑے اچھے الفاظ میں شکریہ ادا کیا۔ آپ نے افضل خان لالا کی قام پرستی، صاف گوئی، سیاست، شرافت، واضح اور صاف کردار کے حوالے سے کئی واقعات کا ذکر کیا جن سے یہ سب پر واضح ہوگیا کہ واقعی خان لالا عظیم شخصیت کے مالک تھے۔ ایوب اشاڑی نے سوات یونی ورسٹی کو خان لالا کی خصوصی کوششوں سے منسوب کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج اگر افضل خان لالا نہیں، تو ان کے وارثان الحمد للہ ہمارے ساتھ اس کوشش میں شامل ہیں کہ ہم ان کے نقشِ قدم پر چلیں۔
افضل خان لالا کے فرزند کرنل عبد الغفار خان نے اپنی تقریرمیں اس ریفرنس کے تمام شرکا کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا اور اپنے والد کی بے شمار صلاحیتوں، علمی و ادبی مشاغل، ان کی ایمان داری، قوم پرستی، وطن کے ساتھ محبت اور ان کی انسان دوستی جیسی صفات کا ذکر کیا۔ آپ نے واضح کردیا کہ افضل خان لالا نے ایم اے اور ایل ایل بی کیا مگر نوکری کو ترجیح نہیں دی اور سوات واپس آکر اپنی قوم کی خدمت سیاست کے ذریعے کی۔ آپ نے قوم کو ثابت قدمی سکھائی۔ آپ دہشت گردی کے خلاف لڑے اور مالی و بدنی نقصان اُٹھایا لیکن دہشت گردوں کے سامنے سر نہیں جھکایا۔ کرنل عبدالغفار صاحب نے کہا کہ ان کی وفات کے بعد عام لوگوں اور پارٹی کے کارکنوں نے ہمیں جو عزت دی اور ہماری جو حوصلہ افزائی کی ، اس کے لیے ہم سب کے شکر گزار ہیں۔ اس کے بعد فیض محمد خان فیض ایڈووکیٹ جو راقم کے نزدیک ترین دوست بھی ہیں اور ادب کے ایوانوں میں ان کا نام بڑے ادب کے ساتھ لیا جاتا ہے، نے افضل خان لالا کو نذرانۂ عقیدت پیش کرتے ہوئے ایک طویل نظم پیش کی۔ اس کے بعد میاں افتخار حسین شاہ سابقہ وزیر اطلاعات و نشریات نے اپنی تقریر کی جس میں انہوں نے یہ واضح کر دیا اسفندیار ولی خان علیل ہونے کی وجہ سے اس ریفرنس میں شرکت نہ کر سکے۔ انہوں نے کہا کہ ’’پختون ازم‘‘ افضل خان لالا میں کوٹ کوٹ کر بھرا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب سوات اور ملاکنڈ ڈویژن میں سب کچھ غیر محفوظ تھا، تو اس دھرتی کے بیٹے افضل خان لالا نے ڈٹ کر دہشت گردوں کا مقابلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ آج جو امن قائم ہے اور ملاکنڈ ڈویژن میں لوگ اپنے گھروں میں اپنے کنبے کے ساتھ امن سے رہ رہے ہیں، اس کا سارا کریڈیٹ افضل خان لالا کو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت مزید امن چاہتی ہے، تو بیس نکاتی جھنڈے پرعمل کی صورت میں پائے دار امن قائم ہو سکتا ہے۔ آپ نے یہ بھی واضح کیا کہ داعش (شدت پسند تنظیم) جس کو چالیس ممالک فنڈز فراہم کر رہے ہیں، مستقبل میں خطرناک مظالم ڈھائے گی۔ میاں افتخار حسین شاہ نے افضل خان لالا کی بین الاقوامی شخصیت، ان کی عظمت، بلند حوصلہ ، ان کی دلیرانہ سوچ، ان کی ایمان داری، ان کی پختون دوستی اور انسان دوستی کے ساتھ ساتھ ان کی اولوالعزمی کو سلام کیا ۔ آپ نے کہا کہ افضل خان لالا، ولی خان کے قافلے کی وہ با اعتماد شخصیت تھے کہ پارٹی کے تمام امور ان کے مشورے کے مطابق طے ہوتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے بزرگوں کے عیوب کو نہیں بلکہ ان کی خوبیوں کودیکھنا چاہیے۔ اس کے بعد سوات کے خوش الحان ظفر علی نازؔ نے افضل خان لالا کی شان میں ترنم کے ساتھ ایک طویل نظم پڑھی۔ اس موقع پر ضلع سوات سے تعلق رکھنے والے مختلف خاندانوں کے لوگوں نے جو مختلف قسم کی سیاسی پارٹیوں سے تعلق رکھتے تھے، عوامی نیشنل پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا۔
پروگرام کے آخر میں امیر حیدر خان ہو تی سابقہ وزیر اعلیٰ خیبر پختون خوا نے بڑے مؤثر انداز میں تمام شرکا کا شکریہ ادا کیا۔ آپ نے خان لالا کی شخصیت اور ان کی عظمت کو سلام کیا۔ انہوں نے کہا کہ آج میں ان تمام لوگوں، افضل خان لالا کے خاندان کے افراد اور آئندہ آنے والی نسلوں کے ساتھ تادمِ آخر وفا داری کا اعلان کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ افضل خان لالا نہ صرف سوات بلکہ تمام پٹھانوں کے خان لالا تھے۔ انہوں نے عوامی نیشنل پارٹی کے منشور کے مطابق اس اہم بات کی طرف توجہ دلائی کہ ملک کے دیگر صوبوں میں تمام لوگ اپنی اپنی تہذیب کا ساتھ دیتے ہیں جب کہ خیبر پختون خوا میں معاملہ بر عکس ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے بزرگوں کا دامن تھام لیں۔ انہوں نے بڑے دلچسپ انداز میں پختونوں کو یکجا کرنے اور امن کے قیام کے لیے دُعا مانگی۔
*۔۔۔*۔۔۔*
1,448 total views, no views today


