مینگورہ، کاروان پراجیکٹ نے ملاکنڈ ڈویژن میں زمینی حقوق کے نظام اور طریقہ کار کو مضبوط اورموثر بنانے کا مطالبہ کردیا،اس حوالے سے پراجیکٹ کے کوارڈی نیٹر شکیل احمد نے نایاب علی اورسیدجمال شاہ کے ہمراہ سوات پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاہے کہ ملاکنڈ ڈویژن میں زمینی حقوق کے نظام اور طریقہ کار کو مضبوط اورموثر بنانے کی ضرورت ہے کیونکہ ملاکنڈ ڈویژن کے جن علاقو ں ، بشمول چترال ، اپردیر ، لوئر دیر اور ملاکنڈ ایجنسی میں بندوبست تاحال نہیں ہوسکا ہے لہٰذہ وہاں پر بندوبست کا جلد ازجلد اہتمام کیا جائے جبکہ ملاکنڈ ڈویژن میں لینڈ ریونیوریکارڈ کو کمپیوٹرائزڈ بنانے کیلئے اقدامات اٹھانے سمیت جن علاقوں میں اراضی کا بندوبست ہوچکاہے وہاں پر دوبارہ بندوبست کیاجائے جبکہ زرعی اصلاحات کے تحت 1970 کی دہائی میں جواراضیات الاٹ ہوئی ہیں ان کے تحفظ کو یقینی بناکر ان سے استفادہ کرنے کا موقع فراہم کیا جائے اور اس سلسلے میں رکاؤٹوں اور مشکلات کو دور کرنے کیلئے با اختیار کمیشن کی تشکیل دیا جائے ،انہوں نے کہاکہ اراضیات سے متعلق مقدمات کو کم سے کم وقت میں نمٹایا اور اراضیات کے حوالے سے جھوٹے مقدمات دائر کرنے والوں سے بھاری ہر جانہ وصول کیاجائے ، اگر دعویداری بے بنیاد ثابت ہوجائے تو مد عاعلیہم کی طرف سے دعویداری کا انتظار کئے بغیر عدالت خود ہی چھوٹے مدعی پر ہرجانہ عائد کرے ، انہوں نے کہاکہ ملاکنڈ ڈویژن میں لاگو نظام عدل شریعہ ریگولیشن 2009 ء کے دفعہ10(1) کی روسے عدالتوں کو اس کاپابند کیا جائے کہ وہ مذکورہ شق میں دیوانی مقدمہ چھ ماہ اور فوجداری مقدمہ چار ماہ میں فیصلہ کریں ،انہوں نے کہاکہ انتقال وراثت کونا درا کے ساتھ منسلک کیا جائے تاکہ کسی شخص کے انتقال کے بعد اس کا وراثت نادرا کے اہلکار تحقیق و تفتیش کے بعد لازمی طور پر درج کریں یا سند جانشینی کی طرح سینئر سول جج کے حکم کا تابع کیا جائے ، انتقال وراثت کا اختیار پٹواری سے لے کر کرنا درا عدالت کو دیا جائے کیونکہ کسی فرد کی وفات کے بعد اس کی نرینہ اولاد پٹواری کے ساتھ ساز باز کرکے تمام جائیداد اپنے نام منتقل کرتے ہیں اور بہنوں اور بیواؤں کو محروم کرتے ہیں ،انہوں نے کہاکہ چند دن قبل علاقائی شہری گروپ کی طرف سے پشاورکے ایک مقامی میں صوبائی مشاورتی اجلا س ہوا جس میں خیبر پختونخوا اسمبلی کے ممبران وزیر خزانہ مظفر سید ، محکمہ مال کے سٹنڈنگ کمیٹی کے چیئرمین مفتی فضل غفور ، ایم پی اے سید جعفر شاہ ، ڈیڈک چیئرمین فضل حکیم ، ایم پی اے سردار حسین اور ایم پی اے مس نگینہ خان نے شرکت کی ، سماجی تنظیم کی طرف سے ہم نے شرکا کو تفصیل سے آگاہ کیا جبکہ ایڈووکیٹ ملک احمد جان نے تفصیل سے قرارداد پر بحث کی اور شرکا کو قانونی طریقہ سے آگاہ کیا جس کے بعد شرکا اس بات متفق ہوگئے کہ یہ بہت اہم مسئلہ ہے جسے حل کرنے کیلئے ہم تیار ہیں، بات چیت کے بعد سب ممبران نے ایک کمیٹی تشکیل دی جس میں سید جعفر شاہ چیئرمین اور مفتی فضل غفور نائب چیئرمین ، مظفر سید ، فضل حکیم ، رشاد خان ، سلیم خان ، نگینہ خان ، ملک احمد جان ایڈووکیٹ اور روبینہ خٹک صوبائی اسمبلی خیبر پختونخوا کی سپیکر سے ملاقات کرے گی اور ان مسائل کو ان کیساتھ مشاورت کرکے اسمبلی فلور حل کرنے کی کوشش کریں گے ۔
870 total views, no views today


