مینگورہ،قومی وطن پارٹی کے سربراہ اور سابق وفاقی وزیر داخلہ آفتاب احمد خان شیر پاؤ نے کہاہے کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لئے جنوبی پنجاب سمیت پورے ملک میں بلا امتیاز آپریشن ہونا چاہیے ،جب تک مرکز اور صوبوں میں فاصلے ختم ہوکر ایک پیج پر نہیں آتے تو دہشت گردی کا خاتمہ ممکن نہیں ،پاک چین راہداری میں ملاکنڈ ڈویژن اورصوبہ خیبر پختونخوا کے حصے پر تحفظات ہیں ،نیشنل ایکشن پلان کے چند ایک نکات کے علاوہ من وعن عمل درآمد نہ ہونے سے مسائل بڑھ رہے ہیں ،
ان خیالات کا اظہار انہوں نے توتانوبانڈئی میں پارٹی رہنما ریاض خان کی رہائش گاہ پر ان کی والدہ کی وفات پر فاتحہ خوانی کے بعد میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کیا ،اس موقع پر پارٹی رہنما سابق سنیٹر شجا ع الملک ،بخت بیدار خان ،فضل رحمن نونو اور دیگر رہنما بھی موجود تھے ،آفتاب احمد خان شیر پاؤ نے کہاکہ سوات آپریشن اور آپریشن ضرب عضب کے بعد دہشت گرد اور افغانستان اور دیگر علاقوں میں پناہ لئے ہوئے ہیں اور خیبر پختونخوا ان کے لئے سافٹ ٹارگٹ ہیں ،انہوں نے کہاکہ سانحہ چارسدہ پر پوری قوم افسردہ ہیں اور یہ قوم کا بہت بڑا نقصان ہے ،انہوں نے کہاکہ کراچی اور فاٹا میں آپریشن ہورہا ہے ملاکنڈ ڈویژن میں بھی کامیاب آپریشن ہواہے لیکن جنوبی پنجاب میں جہادی تنظیموں کی مرکزیت ہونے پر بلا امتیاز کارروائی ہونی چاہیے انہوں نے کہاکہ نیشنل ایکشن پلان پر ان کے اب تحفظات ہیں کیونکہ ابھی تک تمام بیس نکات پر عملدرآمد نہیں کیا گیا ہے ،انہوں نے کہاکہ جب تک فوج ،سول ادارے اور سول انتظامیہ ایک ساتھ مل کر کارروائی نہیں کرتے ہمیں کامیابی نہیں مل سکتی ،انہوں نے کہاکہ خیبر پختونخوا نے بہت مصائب اٹھائے ہیں اب پورے ملک کر اس صوبے پر توجہ دینی چاہیے اس سے قبل آفتاب احمد خان شیرپاؤ نے مٹہ بار سے بھی خطاب کیا اور بار کے لئے دو لاکھ روپے کے گرانٹ کا اعلان کیا ۔
249 total views, no views today


