سوات،سوات میں سی این جی سٹیشن کھلنے سے ایک مرتبہ پھر غریب صارفین کو چولہے ٹھنڈے پڑگئے تفصیلات کے مطابق کچھ دن قبل ضلعی انتظامیہ نے سوات میں قائم متعدد سی این جی سٹیشن کو بند کردیا تاکہ عام صارفین کو سوئی گیس دی جاسکی اور اس فیصلے سے آٹھ سالوں میں پہلی مرتبہ سواتی عوام کو سردیوں میں سوئی گیس مل گیامگر اب ایک مرتبہ پھر سی این جی سٹیشن کے مالکان نے ازخود سی این جی سٹیشن کھول دئے ہیں جس سے صبح اور شام کے وقت متعدد علاقوں جن میں سیدوشریف، گلکدہ، بارامہ ، قاضی بابا، ملوک آباد، زمردکان اور متعدد علاقوں کو گیس کی ترسیل بندہوگئی ہے اس سلسلے میں سیدوشریف کے تحصیل کونسلر ڈاکٹر خالد محمود نے دہمکی دی ہے اگر غیر قانونی طورپر ایک ہی علاقے میں قائم درجنوں سی این جی سٹیشن کو بند نہیں کیاگیا تو عوام ان کا محاسبہ کرنے کے لئے سڑکوں پر نکل آئینگے انہوں نے ضلعی انتظامیہ کو خبردارکیاکہ اگر سرمایہ کاروں کی سی این جی سٹیشن کو بند نہیں کیاتوعوامی غیض وغضب کا سامناکرناپڑیگا اور تمام ترذمہ داری ضلعی انتظامیہ اور سی این جی سٹیشن مالکان پر ہوگی ، انہوں نے کہاکہ غریب عوام کے لئے آواز اٹھانے والاکوئی نہیں جبکہ سی این جی سٹیشن کے بااثراور سرمایہ دارلوگ سوئی گیس عملے کے ملی بھگت سے عوام کا حق ماررہے ہیں اورہم کسی کوبھی عوام کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کی اجازت نہیں دینگے ۔ ڈاکٹر خالد محمود نے کہاکہ عدالت بھی غریب عوام کے حق میں فیصلہ کریں اور سوموٹو ایکشن کے زریعے رشوت اور اثر رسوخ سے ایک ہی کلومیٹر میں قائم درجنوں غیر قانونی سی این جی سٹیشن کو فی الفور بند کرنے کے احکامات جاری کریں۔
540 total views, no views today


