سوات، سوات بھرمیں درسی کتب اور کاپیوں کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ, والدین چکراکر رہ گئے۔تعلیمی سال کے آغاز سے قبل سٹیشنری ، وردی ، جوتے اور بیگز خریدنے والوں کی جیبوں پر بھی دکان داروں کے ڈاکے ، اکثر نجی سکول مالکان نے بچوں کو مخصوص دکانوں سے خریداری کا پابند کر دیا، انتظامیہ خاموش ۔نئے تعلیمی سال کے آغاز پر درسی کتابوں اور کاپیو ں کی من مانے نرخوں پر فروخت نے والدین کی کمر توڑ کر رکھ دی، اس کیساتھ ساتھ یونیفارمز ، بیگز اور جوتوں کی ہوشربا قیمتوں سے متوسط طبقہ چکرا کر رہ گیا۔
سروے کے مطابق نئے تعلیمی سال کی آمد کے پیش نظر لوگوں کی بڑی تعداد بچوں کیلئے نئے جوتے ، کپڑے ، کتابیں اور بیگز خریدنے میں مصروف ہے جبکہ سرکاری ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی کے بعد اپریل کے پہلے ہفتے سے اس رش میں غیر معمولی اضافہ متوقع ہے۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ امسال بھی لوگوں کی مجبوریوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کاپی، پنسل اور کتابوں سمیت دیگر اشیاء اضافی قیمتوں پر فروخت کی جا رہی ہیں۔ دوسری طرف پرائیویٹ سکولز مالکان جن کیلئے یہ کمائی کا سیزن ہے اور انھوں نے بچوں کو پابند بنایا ہے کہ وہ یونیفارمز ، کتابیں وغیرہ سکولوں یا پھر ان کی مقرر کردہ دکانوں سے خریدیں جہاں سے انہیں باقاعدہ کمیشن ملتا ہے۔ اس طرح تین تین گنا زائد قیمتیں وصول کر کے والدین کی جیبوں پر ڈاکے ڈالے جا رہے ہیں۔رپورٹ : محب جان محب سوات نیو ز ڈاٹ کام
323 total views, no views today


