عموماًـــ ویک اینڈز میں ہم دوستوں کی مشترکہ بیٹھک ہوتی ہے۔ گزشتہ ہفتہ کے روز جب میں وہاں پہنچا، تو سبھی کی طنز و تنقید کا رُخ میری طرف تھا۔ کیونکہ میرے دوستوں کا نظریہ تھا کہ کالم نگار حضرات کے کالموں کی وجہ سے اداروں کو اپنے فیصلے اکثر بدلنا پڑجاتے ہیں۔ جب کہ میرا ماننا ہے کہ زیادہ تر ایسا نہیں ہوتا۔ کیونکہ نہ صرف میں بلکہ مجھ سے بہت بہتر اور معروف کالم نگار پہلے سے مشکلات جو کہ سوات کو درپیش ہیں، ان پہ لکھ چکے ہیں۔ مگر محفل میں موجود میرے ایک دوست ’’ڈاکٹر فواد‘‘ کی باتوں نے مجھے آج یہ کالم لکھنے پر مجبور کردیا ہے۔ ڈاکٹر فواد یہاں آسٹریلیا میں اپنی خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جب بھی کوئی بچہ مریض کی شکل میں ان کے پاس اپنے والدین کے ساتھ آتا ہے، تو والدین سب سے پہلے اس سے کہتے ہیں کہ “He is a Doctor. He can touch you.” مطلب کہ یہ ڈاکٹر ہے اور تمہیں چھو سکتا ہے۔
قارئین کرام! میں اس کالم میں ہرگز مغربی معاشرے کی فحاشی و عریانی پر پردہ نہیں ڈالوں گا مگر جو اہم امر ہے، وہ یہ کہ والدین بچے کو صحیح اور غلط سب کی تربیت ضرور دیتے ہیں مگر بعد میں آزادی بھی۔ اب کوئی اس کا استعمال غلط کرے، تو برا ہم تمام معاشرے کو نہیں کہہ سکتے ہیں۔
یہاں روشنی ہم اس بات پر ڈالنے جا رہے ہیں کہ مغربی معاشرے میں والدین بچے کو تین سال کی عمر میں ہی سکھاتے ہیں کہ چونکہ آپ چھوٹے اور کمزور ہیں اور یہ معاشرہ آپ کے مقابلے میں بہت طاقتورہے۔ سو اگر آپ کو کوئی بھی کچھ کہے، تو آپ نے سب سے پہلے ہمارے پاس آنا ہے۔ ساتھ میں انھیں یہ بھی سکھایا جاتا ہے کہ آپ کے ساتھ پیار کرنے کا حق صرف اورصرف ہمیں (یعنی والدین) کو ہے۔ باقی کوئی اگر پیار کرے یا آپ کی کسی حساس جگہ کو چھونے کی کوشش کرے، تو اُسے ایسا نہ کرنے دیں بلکہ اب تو اتنی آگہی والدین کو دی جاتی ہے کہ بچوں کے ہونٹ جیسی حساس جگہ کو بھی نہ چھوما جائے، تاکہ کل کسی درندہ صفت انسان کی مذموم حرکت کو بچہ باآسانی سے پہچان سکے۔
قارئین کرام! میری آپ سب سے گزارش ہے کہ اپنے اور اپنے بچوں کے بیچ میں کھڑی دیواروں کو گرا کر انہیں ضروری تربیت لازمی دیں اور انہیں صاف الفاظ میں اچھے اور برے کا فرق سمجھائیں، تاکہ بچوں کے دل میں وہ ڈر جو چوکڑی مارے بیٹھا ہے کہ’’ اگر والدین کو بتایا، تو اُلٹا ہمیں ڈانٹ پڑے گی یا مارا جائے گا، سو نہ بتاؤں تو اچھا ہوگا۔‘‘ اس طرح مسا ئل کا حل مل کر نکالنا بچوں کو مضبوط بناتا ہے اور انہیں کسی بھی درندے کا شکار ہونے سے بچاتا ہے۔ یہ معاشرہ اب ایک وحشی درندہ ہے جو سر سے پاؤں تک اب ہوس کی گندگی میں ڈوب چکا ہے۔
ہر دوسرے روز اسلام آباد کے ڈی چوک میں دھرنے دینے والے، اپنے مفادات کے لئے ہسپتالوں اور عدالتوں کا بائیکاٹ کرنے والے ڈاکٹرز اور وکلا، کسٹم ایکٹ کے خلاف زمین و آسمان سر پہ اُٹھانے والے اے این پی اور اپنے کاروبار کی خاطر احتجاج کرنے والے تاجر، اسلام کے نام پر سیاست کرنے والے سیاست دان، چیف پبلسٹی کے لئے سوشل میڈیا اور پریس کلب میں اپنی مہارت دکھانے والے ناظمین اور کونسلر حضرات کیا سوات کے ان سترہ معصوم بچوں کے لئے ایک احتجاج تک کو خود اپنا فرض نہیں سمجھ سکتے؟
اورنگزیب عرف رنگے جو اپنے گناہ کے لیے کم از کم پچیس سال کی سزا کا مستحق ہے۔ کے پی کے پولیس کی برکت سے اب پچیس ہفتوں یا اس سے بھی کم وقت کا مہمان ہونے کے بعد باہر ہوگا اور ہمارے لیڈر جناب عمران خان صاحب کا کہنا ہے کہ ہم نے پختونخواہ پولیس کوپاکستان کا غیر سیاسی اور سستا انصاف فرہم کرنے والا ادارہ بنایا ہے۔ اللہ ہم سب کو اس دنیائی جہنم سے بچائے ۔
افسوس ہے اس بے ضمیر قوم پہ جوکہ اپنے ضمیر کو تھپکا تھپکا کے سلا چکی ہے۔ کیوں نہ میں جاتے جاتے اس بے ضمیر قوم پہ تبریٰ بھیجوں؟ شائد میرے اس عمل سے یہ لوگ ان سترہ معصوم بچوں کیلئے انصاف مانگ لیں۔ اب چاہے اس تبریٰ کے بدلے میں کیوں نہ میں لوگوں کی گالیاں سنوں؟ مجھے وہ بھی خوشی سے منظور ہے مگر تقاضا ہے تو بس یہ کہ انصاف چاہیے ان معصوم بچوں کیلئے جوکہ اب بھی ہمارے منتظر ہیں۔ یہاں میں سپین خان کا ذکر کرنا چاہوں گا کہ محترم جناب کہاں ہیں آپ؟ ہم تو انتظار میں ہیں کہ آپ اس واقعے پر اپنی سیاست ضرور چمکائیں۔ چلیں، دیرسے ہی سہی مگر آئیں تو، نشاط چوک اب بھی آپ کا منتظر ہے۔
اوپر میں نے تبریٰ مجبور ہوکر بھیجا ہے۔ وہ تبریٰ ان تمام اداروں اور محکموں پر بھی بھیجتا ہوں جو بچوں کے حقوق اور ان کے تحفظ، تعلیم و تربیت کے نام پر مال بٹورتے ہیں۔
معذرت کے ساتھ کہتا ہوں کہ الفاظ کا چناؤ بے حد تلخ ہے اور حقیقت تو ہوتی ہی تلخ ہے۔
702 total views, no views today


