مینگورہ ، ملاکنڈ ڈویژن میں کسٹم ایکٹ کی نفاذ کے خلاف کل جماعتی اتحاد نے 5 اگست کو شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام کا اعلان کردیا ، سوات سمیت ڈویژن بھر کے تمام اضلا ع اور ضلع کوہستان میں تجارتی اور کاروباری مراکز بند اور پہیہ جام رہیگا ، حکومت نے مطالبات تسلیم نہ کئے تو 10 اگست کو اسلام آباد میں دھرنا دیا جائیگا ، اس حوالے سے مینگورہ میں کسٹم ایکٹ کے خلاف سیاسی جماعتوں ، تاجربرادری اور سوات سو سائٹی کے نمائندوں پر مشتمل ایکشن کمیٹی کا اجلاس منعقدہوا جس کی صدرات سابق ایم پی اے اور مسلم لیگ ن سوات کے صدر قیموس خان نے کی ، اجلاس میں سوات ٹریڈرز فیڈریشن کے صدر عبدالرحیم ، ایکش کمیٹی ملاکنڈ ڈویژن کے ترجمان اور قومی ؛وطن پارٹی کے رہنما فضل رحمان نونو ، عوامی نیشنل پارٹی کے راہنما سابق صوبائی وزیر واجد علی خان ، جماعت اسلامی کے رہنما اور سابق وزیر شاہ راز خان ، جمعیت علماء اسلام کے رہنما سابق سنیٹر مولانا راحت حسین ، پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے خورشید کاکا جی ، سوات چمبر کے ترجمان یوسف علی ،ہوٹل ایسو سی ایشن کے صدر الحاج زاہد خان ، ملاکنڈ ٹریڈرز فیڈریشن کے صدر شاکرا للہ خان ، سخاکوٹ ٹریڈرز فیڈریشن کے رہنما حمید خان ، اور دیگر نے شرکت کی ، ایکشن کمیٹی کے اراکین نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا کہ 27 جولائی کی طرح 5 اگست کا پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن بھی ہر لحاظ سے کامیاب بنائیں گے ، ایکشن کمیٹی کے تمام اراکین تمام اضلاع میں پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن کی کامیابی کیلئے تیاری شروع کریں اور ٹرانسپورٹ برادری کے تمام نمائندوں سے رابطے کئے جائیں ، پہیہ جام کی کامیابی کیلئے لائحہ عمل بھی تیار کیا گیا ، جس کیلئے 3 اگست کو تمام اضلاع میں سیاسی جماعتوں کے مقامی نمائندوں کے اجلاس ہوں گے اور 4 اگست کو اضلاع ، تحصیلوں سمیت تمام بازاروں میں پہیہ جام کے لاوڈ سپیکر وں پر اعلان کئے جائیں گے ، اجلاس میں کہا گیا کہ انتظامیہ نے ہڑتال کو ناکام بنانے کی کو شش کی تو ہر قسم نقصان کی ذمہ داری ملاکنڈ ڈویژن کے انتظامیہ پر ہوگی ، اجلاس میں کمشنر ملاکنڈ ڈویژن سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ بٹ خیلہ میں کسٹم ایکٹ کے نام پر قائم دفتر دختم کریں ۔
1,185 total views, no views today


