سوات، پاکستان مسلم لیگ(ن) کے رہنماء و شاہی خاندان کے سپوت میانگل شہریار امیر زیب نے کہا ہے کہ سینکڑوں طلباء کا داخلوں سے محروم رہ جانا انتہائی افسوسناک ہے،بچوں کو داخلے نہ ملنے کیوجہ سے والدین کی امیدیں ٹوٹ رہی ہے،بہتر مستقبل کے متلاشی طلباء ذہنی اذیت میں مبتلا ہوچکے ہیں،ریاستی دور میں بنائے گئے درسگاہوں میں مزید گنجائش موجود نہیں ،نئے کالجوں کا قیام وقت کی ضرورت ہے،داخلوں سے محروم رہ جانے والے بچوں کیلئے ہنگامی اقدامات اٹھائے جائیں،ممبران اسمبلی گلی کوچوں پر فنڈز ضائع کرنے کے بجائے اجتماعی مفاد کو ترجیح دیں،ان خیالات کا اظہار میانگل شہریار امیر زیب نے گزشتہ روز اپنے دفتر میں داخلوں سے محروم رہ جانے والے طلباء کے والدین سے گفتگو کے دوران کیا انہوں نے مزید کہا کہ مڈل کلاس طبقہ مہنگائی کے اس دور میں نجی اداروں کے اخراجات برداشت نہیں کرسکتے اگر ان بچوں کو سرکاری کالجوں میں داخلے نہیں ملیں گے تو مجبوراً تعلیم کو خیر آباد کہہ دینگے جس سے والدین کے امیدوں کا قتل ہوگا،اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کے متلاشی والدین داخلوں کیلئے در بدر پھیر رہے ہیں،صوبائی حکومت کی تعلیمی ایمرجنسی کا سوات میں نام و نشان تک نہیں ،اخر میں میانگل شہریا ر امیر زیب نے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک و صوبائی وزیرتعلیم سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ داخلوں سے محروم رہ جانے والے بچوں کو اپنے بچے سمجھ کران کیلئے ہنگامی اقدامات اٹھائیں تاکہ تعلیم حاصل کرکے اپنے والدین کا سہارا بن سکیں اور ملک و قوم کی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔
540 total views, no views today


