مینگورہ، کسٹم ایکٹ کے نفاذ کا فیصلہ واپس لینے کے بعد جھان سوات بھر میں لوگ جشن منارہے ہیں ، وہاں ملاکنڈ کے سات اضلاع بشمول کوہستان میں خوشیاں منائی جارہے ہیں اس کیساتھ مختلف قسم کے بااثر شخصیات بھی خوش ہیں اور سیاسی سکورنگ کیلئے کریڈیٹ اپنے نام کررہے ہیں لیکن جس نے بھی ایکٹ کے خاتمے میں کردار ادا کیا ڈویژن بھر کے عوام پر احسان کے لیکن جہاں تک کوشش اور عمل جدوجہد ہے وہ صرف سوات کے سیاسی جماعتوں ، ٹریڈ فیڈریشن ، سوات چیمبر، ٹرانسپورٹرز اور وکلاء برادری سمیت صحافیوں بھرپورا دا کیا جو ہر ذ می روح شخص زبان پر ہے
اب سوشل سکیٹراور میڈیا پر ایڈ کے شکل میں کچھ اور دیکھنے کو مل رہے ہیں ، میرے خیال میں پر ان لوگوں سے انتہائی زیادتی ہوگی جنہوں نے اس اہم ایشو پر کام کیا اور بھر پور کردار ادا کرکے وفاق کو کسٹم ایکٹ کے خاتمے پر مجبور کردیا اور ان کیساتھ ڈویژن بھر کے عوا کی حمایت بھی حاصل تھی ایکٹ تو ختم ہوگیا لیکن یہ بات میرے ذہن پر بجلی کی کرنٹ کی طرح بروقت گرتی جارہی ہے کہ اس کے نفاذ میں دلچسپی کس نے لی اور اوپر کے حاکموں نے اسے منظور کیوں کہ کیونکہ سوات گزشتہ کئی دھائیوں سے انتہائی رہے ہیں ، دہشتگردوں اور سیلاب سمیت زلزلے نے یہاں کے لاکھوں لوگوں کو متاثر کیا ہے اور اپنے پاؤں پر کھڑا رہنے کیلئے سال لگیں گے تو کس نے ایک بار بھی اس حوالے پر نہیں سوچا کہ یہاں ٹیکس لگا کر یہاں کے عوام سے ذیاتی ہوگی میں ذکر کئے گئے لوگوں کو مبارک باد دیتا ہوں اور ان سے توقع رکھتا ہوں کہ وہ دیگر مسائل کے حل کیلئے بھی اس طرح متحد رہے تو سوات سمیتج ڈویژ ن بھر کے چیدہ چیدہ مسائل حل ہوجائینگے اور ان لوگوں سے درخواست ہے جو کوشش کئے بغیر کریڈٹ لیتے ہیں وہ عوام کو دھوکہ دینے کے بجائے ان کے مسائل حل یہ وجہ دیں ۔رپورٹ عصمت علی اخون
233 total views, no views today


