یہ ساری ندامتیں، پچھتاوے اور ڈھیر ساری مایوسیاں بڑھاپے میں کیوں مل کر حملہ آور ہوتی ہیں۔ یہ احساس اس وقت کیوں نہیں ہوتا، جب انسان کے تمام قویٰ متحرک اور قوت سے بھر پور ہوتے ہیں۔ اور وہ آنے والے وقت کے لیے کچھ صلاحیتیں پس انداز کرسکتا ہے۔ مگر اُس وقت تو آنکھوں پر ہوس و طلب کا پردہ پڑا ہوتا ہے۔ انسان خود کو غیر فانی سمجھتا ہے۔ وہ یہ بھول جاتا ہے کہ اُس پر کبرسنی کا، مجبوریوں کا اور بے کسی و بے چارگی کا تاریک دور آنے والا ہے۔ وہ معمولی سی حرکت کا، ادنیٰ سی حاجت کے لیے دوسروں کا دست نگر ہوجاتا ہے۔ پھر اُسے ایک ایک فعل کا، ایک ایک گم راہی کا خود سے حساب مانگنا پڑتا ہے۔ وہ روز بہ روز مایوسی کی گہری کھائی میں اُترتا جاتا ہے۔ خود احتسابی اُسے دن رات ایک عذاب میں مبتلا کرتی ہے، جب اُسے آنسو بہانے کی ضرورت تھی، اس کا دل پتھر کا تھا اور اُس کی آنکھوں پر پردہ پڑا تھا۔ اب جب اُس کا دل اتنا نرم ہوگیا ہے، تو کسی کی معمولی سی بے اعتنائی بھی اُسے گھنٹوں رُلاتی ہے۔ اُس کے اندر باہر، ہر وقت بارش سی ہوتی رہتی ہے اور اُس کی دل کی دیواریں گیلی ہوکر بیٹھنے لگتی ہیں۔ جب کچھ نہ کچھ پس انداز کرنا ممکن تھا، اُس کے دل اور ہاتھ کھلے تھے۔ اب وہ سوائے کف افسوس ملنے کے اور کیا کرسکتا ہے۔ اُس نے اپنا جسم بھی فضول خرچی سے استعمال کیا، تو اب اس کے پاس معمولی سی زکام کا مقابلہ کرنے کی قوت مدافعت نہیں بچی، وہ نصیحتوں اور وعظوں پر اُتر آتا ہے۔ دن بھر معاشرہ میں، جوانوں میں حتیٰ کہ موسموں میں کیڑے نکالتا رہتا ہے۔ ’’ہمارے وقت میں گرمیاں یوں قیامت نہیں ڈھاتی تھیں۔ سردیاں اس طرح یخ بستہ نہیں تھیں۔ خشک سالی نہیں تھی۔ جھڑیاں لگتی تھیں، تو ہفتوں جاری رہتی تھیں۔ جوان نیچی نگاہیں کیے پھرتے تھے،‘‘ وعلیٰ ہذالقیاس۔ حالاں کہ خود گلی گلی رسوا ہوچکے ہوئے ہوں گے۔ لوگوں کو اب بھی اس کی رسوائیاں یاد ہوں گی، جس طرح اُسے اپنی جوانی میں بوڑھے زہر لگتے تھے، اب وہ بھی شائد لوگوں کو زہر لگتا ہے۔ لوگ اُس کی باتوں کو زہر خند میں اُڑاتے ہیں اگر چہ بہ ظاہر اُس کی کتھا توجہ سے سنتے ہیں۔ یوروپ و امریکہ والے جیسے بھی ہوں، انھوں نے اپنے بوڑھوں سے خود کو محفوظ کرلیا ہے، اور اُن کو اولڈ ہاؤسز میں رکھ کر آرام سے اپنی زندگی گزارتے ہیں۔
دو تین دن پہلے میں گورتئی گاؤں ایک جنازے میں شریک تھا۔ وہاں پر واپسی میں پروفیسر شاہ جہان خان سے ملاقات ہوگئی، تو ان کی گاڑی میں واپس گاؤں آتے وقت انھوں نے بتایا کہ شکاگو والے گل نواب خان کی بیوی کا انتقال ہوگیا ہے۔
گل نواب خان کا تعلق غالیگے گاؤں سے ہے۔ وہ کوئی نصف صدی سے امریکہ میں مقیم ہیں۔ ان کی بیوی ڈاکٹر تھیں اور امیر بابو صاحب کی بیٹی تھیں۔ گل نواب خان کی چار بیٹیاں تھیں اور سب کے سب شادی شدہ تھیں۔ اب وہ لاکھوں ڈالرز کے ساتھ بالکل اکیلے رہ گئے ہیں۔ ان کا کوئی بیٹا نہیں۔ عمر اُن کی اب شائد 75 سال کے قریب ہوگی۔ امریکی معاشرہ میں اکیلے رہتے ہوئے نہ جانے بے چارے پر کیا گزرتی ہوگی۔ ہم لوگ تو پھر بھی خوش نصیب ہیں کہ یہاں پر اب بھی روایتی سلسلے زندہ ہیں اور لوگوں کے دیدے کا پانی نہیں مرا کہ اپنے بوڑھے باپ کو اولڈ ہاؤس میں پھینک آئیں۔ مجھے گل نواب کے ساتھ دلی ہم دردی ہے، لیکن۔۔۔ کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ بہت جیا۔ اب کوچ ہی کریں، تو بہتر ہوگا۔ نہ جانے آگے کیسا وقت آنے والا ہے۔ مجھے تو یہ زندگی اتنی لمبی لگنے لگی ہے کہ دل اوب سا گیا ہے۔
اب ایک ’’ایرریلیونٹ‘‘ کہانی سنئے۔
ایک گدھے کے ساتھ اُس کا مالک بہت ظلم کرتا تھا۔ دن بھر اُس سے کام بھی لیتا تھا اور ساتھ مارتا بھی رہتا تھا۔ گھاس وغیرہ بھی پورا نہیں کھلاتا تھا۔ اُس کے ایک پڑوسی گدھے نے ایک دن اُسے کہا: ’’یار ! تمھاری حالت دیکھ کر مجھے بہت دُکھ ہوتا ہے۔ تم کیوں اپنے مالک کی اتنی مار برداشت کرتے ہو؟ تم بھاگ کیوں نہیں جاتے۔‘‘ مظلوم گدھے نے جواب دیا: ’’میں اچھے مستقبل کی اُمید پر جی رہا ہوں اور یہ سب کچھ اسی لیے برداشت کررہا ہوں۔‘‘ دوسرے گدھے نے پوچھا: ’’کیسا مستقبل؟‘‘ اس نے جواب دیا: ’’میرے مالک کی دو بیویاں ہیں۔ جب اُن پر غصہ کرتا ہے، تو کہتا ہے، عورتو! سیدھی ہوجاؤ۔ ورنہ ایک دن میں تم دونوں کو چھوڑ کر تمھاری شادی اس گدھے سے زبردستی کرا دوں گا۔ بس اسی آس پر یہ سب کچھ برداشت کررہا ہوں۔‘‘
ہم تو اُس گدھے جتنے بے وقوف نہیں کہ ناممکن کو ممکن بنانے کے خواب دیکھیں، پھر بھی کوئی اُمید سی باقی ہے۔ اور پشتو کا مشہور مقولہ ہے کہ ’’دنیا پہ اُمید خوڑے شی۔‘‘
ایک نہایت مہربان دوست نے محسن احسان کی غزل عنایت کی ہے، اُس کے چند شعر نذرِ قارئین ہیں:
یہ جو سینے میں لیے کرب جنوں زندہ ہوں
کوئی اُمید سی باقی ہے کہ یوں زندہ ہوں
شہر کا شہر تماشائی بنا بیٹھا ہے
اور میں بن کے تماشائے جنوں زندہ ہوں
کیا بتاؤں تجھے اسباب جئے جانے کے
مجھ کو خود بھی نہیں معلوم کہ کیوں زندہ ہوں
اپنے ہونے کی خبر کس کو سناؤں محسن
کوئی زندہ ہو تو میں اُس سے کہوں زندہ ہوں
محمود رفیق بابو کے لیے ڈھیر ساری دعائیں۔ اللہ تعالیٰ اُن کو صحت کاملہ نصیب کریں تاکہ غریبوں کی آواز سنانے والا کوئی تو ہو۔
1,522 total views, no views today


