مٹہ، روخانہ پختونخواہ تعلیمی پروگرام کے تحت چلنے والے اداروں کا احتجاج،صو بائی حکومت نے تعلیمی پروگرام کو نظرانداز کیا ہیں،جس سے بچیوں کے مستقبل کو خطرات لاحق ہیں تفصیلات کیمطا بق صو بائی حکومت کے جانب سے شروع کردہ روخانہ پختونخواہ تعلیم پروگرام کے اداروں کے مالکان میں تشویش پائی جاتی ہیں مزکورہ پروگرام سے وابسطہ افراد کا کہنا ہیں کہ ایک سال سے ہمارے فیس ادا نہیں کی گئے جس سے ادارے دیوالیہ ہو رہی ہیں ،ان کا کہنا ہیں کہ ہمارے مذید یہ ادارے نہیں چلا سکتے کیونکہ ہمارے ساتھ کسی قسم کا تو سیعی معاہدہ نہیں کیا گیا او ر نہ ہی ہمارے ساتھ اتنے وسائل ہیں،ان کا کہنا تھا کہ ان سکولو ں میں 2100بچیاں او ر بچے زیر تعلیم ہیں اور توسیع نہ دینے کے وجہ سے بچوں کا مستقبل خطرے میں ہیں۔جس کی تمام تر زمہ داری صو بائی حکومت پر عائد ہیں،اس موقع پر بچوں کے والدین بھی موجود تھیں اور ان کا کہنا تھا کہ صو بائی حکومت نے روخانہ پختونخواہ تعلیمی پروگرام کو نظر انداز کیا ہیں جس سے ہمارے بچیاں تباہی کے طرف گامزن ہیں،والدین کا کہنا تھا کہ ہم پرائیویٹ سکولو ں کے فیس ادا نہیں کر سکتے صو بائی حکومت روخانہ پختونخواہ کے تحت شروع کردہ کو پایہ تکمیل تک پہنچائے،اور تعلیم کے مد میں اپنے کئے ہوئے وعدے پورے کریں،اس موقع پر روخانہ پختونخواہ تعلیمی پروگرام کے مختلف اداروں کے پرنسپلزلیاقت علی خان،بہادر خان،ناصر قاسمی،اخلاق احمد،ودیگر موجود تھیں۔۔
724 total views, no views today


