کبل، کرسی کے لالچ ،منفی سیاست اور ناقص کارکردگی کی وجہ سے حاجی فضل مولا کو 4سال قبل اے این پی سے نکال دیا گیا ہے جس کے بعد موصوف آزاد اور جے یوآئی کے جھنڈے تلے الیکشن لڑ کر بری طرح شکست کھا چکے ہیں فضل مولا چند ساتھیوں سمیت جہاں چاہیں شمولیت کریں مگر اپنی قدر و قیمت بڑھانے کے لئے اے این پی کا نام استعمال بند کردیں بصورت دیگر بھر پور مزاحمت پر مجبور ہونگے ان خیالات کا اظہار اے این پی کے ضلعی کونسلر طارق خان آف دیولئی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ اے این پی پختون قوم کی واحد ترجمان پارٹی ہے جس میں مفاد پرست افراد کے لئے کوئی جگہ نہیں کیونکہ باچا خان کے سپاہی لالچ اور ذاتی مفادات کے بجائے بلا امتیاز عوامی خدمت پر یقین رکھتے ہیں انہوں نے کہا کہ اے این پی سے نکالے جانے کے بعد حاجی فضل مولا آزاد اور جے یوآئی کے جھنڈے تلے الیکشن لڑ کر ناکام ہوچکے ہیں جبکہ موصوف نے حالیہ دنوں میں ایک نیا ڈرامہ شروع کیا ہے جس میں وہ اے این پی سے دستبردار ہونے اور کسی عام پارٹی میں شمولیت کا شور مچا رہے ہیں جو کہ حقیقت کے منافی ہے کیونکہ فضل مولا کو اے این پی سے نکالے گئے چار سال گزر چکے ہیں لہذا حاجی فضل مولا اپنے چند ساتھیوں سمیت جہاں چاہیں شامل ہوں مگر اپنی قدر و قیمت بڑھانے اور مفت کی شہرت حاصل کرنے کے لئے اے این پی کا نام استعمال کرنے سے گریز کریں بصورت دیگر اے این پی کارکنان مزاحمت پر مجبور ہونگے۔
1,718 total views, no views today


