مینگورہ ، سوات کے تحصیل بحرین گورنئی گاؤں میں آٹھ سالہ بچی کو سورہ میں دینے کے خلاف پولیس نے دونوں فریقوں اور جرگے کے اراکین کے خلاف مقدمہ درج کرلیا، گذشتہ روز دوفریقوں خان دریاب اور عبدللہ نامی خاندانوں کے درمیاں تنازعے کو حل کرنے کے لئے بارہ رکنی جرگے نے آٹھ سالہ بچی صبیحاکو جلال ولد خان دریاب کو صلح بدل میں دینے کا فیصلہ کیاگیا۔ جن کی شادی پندرہ سال کی عمر میں کئی جائیگی مگر پولیس کو اس جرگے اور فیصلے کے بارے میں میڈیاکے زریعے آگاہ کیاتو سوات کے ڈی آئی اختر حیات کے خصوصی حکم پر ان افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیاگیا، تھانہ بحرین کے محرر طارق خان کے مطابق اس سلسلے میں گیارہ افراد کو گرفتارکرلیاگیا جن میں فریق اول عبداللہ ولد میاں گل اور فریق دوم خان دریاب ولد اخترے اور دیگر نو جرگے کے ارکان شامل ہے۔ پولیس کے مطابق گرفتارشدہ افراد کو عدالت میں پیش کیاجائیگا۔
662 total views, no views today


