تحریر خورشید علی
محمد رحمان کا تعلق سوات پولیس سے ہے وہ بحرین کا رہنے والا ایک پرعزم پولیس سپاہی ہے ،کچھ عرصہ پہلے وہ محکمہ پولیس سوات میں بھرتی ہوا، پولیس ٹریننگ حاصل کرنے کے بعد ان کی سلیکشن کاؤنٹر ٹیرارزم ٹریننگ حاصل کرنے کیلئے ہوئی، اور وہ پاک فوج کے تربیت گاہ کھاریاں پبی چلے گئے جہاں پر محمد رحمان نے تین ہفتہ کی ٹریننگ مکمل کرلی ، وہ کہتے ہیں کہ پولیس ٹریننگ محدود اورعام قسم کی تھی ، لیکن کاؤنٹر ٹیرارزم ٹریننگ کافی مشکل ہے اس میں سپاہی عملی مشقوں کے ذریعے وہ کچھ سیکھ سکتا ہے جوپولیس ٹریننگ میں نہیں سیکھا جاسکتا، تین ہفتوں کی ٹریننگ لینے کے بعد میں اس قابل ہوچکا ہوں کہ دہشت گردی کیخلاف ہونے والے اپریشن اور کارروائیوں میں پاک فوج کے شانہ بشانہ لڑسکتاہوں۔

نظام الدین کا تعلق دیر اپر سے ہے وہ بھی محمد رحمان کی طرح پولیس سپاہی بھرتی ہوا ، اور اپنی خداد صلاحیتوں کے بل بوتے پر ان کی سلیکشن انسداد دہشت گردی کی ٹریننگ کیلئے ہوئی، نظام الدین کا کہنا ہے کہ پاک فوج کے زیر سایہ جو تربیت ہم نے حاصل کی ہے ۔ اس کے بعد اب میں با اسانی بڑے ہتھیاروں کا استعمال کرسکتا ہوں، ار پی جی سیون، مشین گن ،راکٹ کا استعمال رینج کے مطابق، اور بغیر ہتھیاروں کے لڑائی ، سرچ اپریشن اور چیک پوسٹ کا قیام اب میرے لئے کوئی مشکل نہیں ہے۔

جبار خان کا تعلق دیر لوئرسے ہے۔وہ بھی ان 129 جوانوں میں سے ایک ہے جنہوں نے پاک فوج کے زیر اہتمام انسداد دہشت گردی کی تربیت مکمل کی ہے، جبار خان کہتے ہے کہ اکیس دن کی ٹریننگ حاصل کرنے کے بعد اب میں اس قابل ہو چکا ہوں کہ مختلف پوزیشن میں فائر کرسکوں، محاصرہ ،گھر کے اندر دہشت گردوں کیخلا ف کارروائی،مختلف چالوں کا استعمال سمیت ہر قسم کے حالات سے نمٹنے کیلئے وہ صلاحیتیں میرے اندر اچکی ہیں جو پاک فوج کے جوانوں میں ہوتی ہیں، اور یہ سب کچھ پاک فوج کے بدولت ممکن ہو سکا ہے،انہوں نے کہا کہ اب میں ہر وقت دشمن کیساتھ لڑائی کیلئے تیار ہوں۔
انسپکٹر افتخار جو کہ سوات میں پولیس محکمہ کیساتھ وابستہ ہیں انہوں نے کہا کہ تربیت لینے والوں کا تعلق ملاکنڈرینج سے ہے جس میں سپاہی سے لیکر انسپکٹر تک لوگ شامل ہیں، سوات بونیر اور چترال کے 165 اہلکار پہلے بھی ٹریننگ حاصل کرچکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جن پولیس جوانوں اور افیسرز نے ٹریننگ لی اورعملی کارروائیوں میں حصہ لیکرر بڑے ہتھیاروں کا استعمال کیا۔ جو کہ پولیس جوانوں کیلئے بہت فائدہ مند ثابت ہوگا، کیونکہ اگر فوج ملاکنڈڈویژن سے چلی بھی جائے تو جنپولیس فورس نے انٹر ٹیرارزم ٹریننگ حاصل کی ہے وہ ہرقسم کے حالات کو کنٹرو ل اور دہشت گردوں کا بھر پور مقابلہ کرسکیں گے۔
پاک فوج نے پاکستان میں غیر روایتی جنگ سے نمٹنے کیلئے ملاکنڈڈویژن کے پولیس افیسر ز اور جوانوں کو تربیت دینے کا سلسلہ شروع کردیا ہے، کاؤنٹر ٹیرارزم سنٹر پبی کھاریاں صوبہ پنجاب میں ملاکنڈڈویژن کے 125 افیسرز اور جوانوں کی استعداد وصلاحیت بڑھانے کیلئے تربیتکا دوسرامرحلہ مکمل ہو گیا ،تربیت کے بعداب پولیسفورس انسداد دہشت گردی کیخلاف جنگ میں پاک فوج کے شانہ بشانہلڑنے کی صلاحیت حاصل کرچکے ہیں۔
کھاریاں میں قائم سنٹر میں غیر روایتی جنگ لڑنے کیلئے پولیس کی 1600جوانوں کی تربیت مکمل ہوچکی ہے، تربیت لینے والے پولیس اہلکار اب بغیر ہتھیارروں کی لڑائی، دہشت گردوں کی ابادی میں تلاش ومحاصرہ ، چیک پوسٹوں کا قیام اور ہر قسم چھوٹے ہتھیار ،رائفل ، جی تھری ، مشین گن اور دستی بم کے استعمال میں مہارت حاصل کر چکے ہیں۔
ڈپٹی انسپکٹر جنرل اف پولیس ملاکنڈڈویژن عبداللہ خان نے کہا کہ ڈویژن بھر کے پولیس ہلکاروں کو جدید خطوط پر تربیت دی جارہی ہے۔، انہوں نے کہا کہ ملاکنڈڈویژن میں مکمل طورپر امن بحال ہواہے ، اور اس امن کو برقرار رکھنے کیلئے پولیس اہلکار وں کی استعداد کار بڑھانے کیلئے تربیت دی جائے گی، انہوں نے کہا کہ پاک فوج کو ہم نے درخواست کی تھی کہ پولیس اہلکاروں کو جدید خطوط پر تربیت دیا جائے تاکہ وہ پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں او رملکی دفاع پر کوئی انچ نہ انے دیں۔انہوں نے کہا کہ ڈویژن بھر کے تمام پولیس فورس کو یہ تربیت دی جائے گی۔

تربیت مکمل کرنے والے پولیس اہلکاروں نے اخری روز اپنے مہارتوں کا شاندار مظاہرہ کیا، چلتی گاڑی سے نشانہ لگانا ،دہشت گردوں کا محاصرہ ان قابوکرنا،گھراور ابادی والے علاقوں میں ان کیساتھ مقابلہ ، سرچ اپریشن ااور تھری ڈی فائرنگ کا بہترین نمونہ پیش کیاگیا۔
پاک فوج کے کرنل ابرار نے سپیکر صوبائی اسمبلی اسد قیصر ، ڈی ائی جی ملاکنڈڈویژن عبداللہ خان ، ارمی افیسر ز اور میڈیا کے نمائندوں کو بریفنگ دی جبکہ ٹریننگ کے حوالے سے ایک ویڈیو بھی دکھائی ، جس میں پولیس اہلکاروں کو مختلف کارروائی کرتے ہوئے دکھایا گیا، کرنل ابرار نے کہا کہ پولیس فورس ہر چھ ماہ بعد اس ٹریننگ کو دوبارہ ضرور کرلیا کریں ، تاکہ ان کی تربیت میں بہتر ی اور صلاحیتوں میں اضافہ ہو سکیں، انہوں نے کہا کہ جن پولیس فورس کو ٹریننگ دی گئی ہے وہ ارمی کی طرح کارروائیاں کرنے کی صلاحیت حاصل کر چکے ہیں۔جبکہ پولیس فورس کوغیر روایتی جنگ کے مخصوص تدویراتی کاروائیوں و حربی تیکنیک بشمول گھات ، رد گھات ، بغیر ہتھیاروں کی لڑائی ، دہشت گردوں کا آبادی میں تلاش و محاصرہ ،چیک پوسٹوں کا قیام اور کارروائی کے علاوہ تمام قسم کے چھوٹے ہتھیاروں بشمول سب مشین گن ، رائفل جی تھری ،لائیٹ مشین گن اور دستی بم کے
استعمال میں بھی خصوصی مہارت حاصل کی.
تقریب کے مہمان خصوصی سپیکر صوبائی اسمبلی خیبر پختونخوا اسد قیصر تھے ، انہوں نے کہا کہ دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے صوبہ بھر کے پولیس فورس کی تربیت جدید خطوط پر کی جائے گی ۔انہوں نے کہا کہ اس ٹریننگ سے جوانوں میں چستی ، جذبہ، اور صلاحیتوں میں اضافہ ہوا ہے، اب پولیس فورس پہلے سے بہتر دہشت گردی کیخلاف جنگ لڑسکیں گے، انہوں نے کہا کہ اس کاوش پرہم پاک فوج کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں، انہوں نے کہاکہ صوبائی حکومت پولیس فورس کے تمام مسائل ، مشکلات کا خاتمہ اور ضروریات پوری کرے گی۔
پاک فوج کے زیر سایہ تربیت مکمل کرنے والا یہ دوسرا گروپ تھا اس گروپ میں 125 پولیس فورس کے جوان اور افیسر ز شامل تھے، جن میں سے سوات کے 33،دیر لوئیر کے 33، اپر دیر کے 30 ، اور چترال کے 29 پولیس جوان شامل تھے، اس سے قبل بھی 165 افیسر ز اور جوانوں کو تربیت دی جاچکی ہے،جبکہ پورے صوبے کے 1600 پولیس فورس ٹریننگ حاصل کر چکے ہیں۔سپیکر صوبائی اسمبلی اسد قیصر نے تربیت مکمل کرنے والوں میں اسناد بھی تقسیم کئے ۔
تربیت مکمل کرنے والے پولیس فورس کے جوان اور افیسر ملک وقوم کیلئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہ کرنے کیلئے پرعزم تھے، اور تقریب ختم ہونے کے بعد پاک فوج زندہ باد اور پاکستان پائندہ باد کے نعرے لگا کر اپنے خوشی کا اظہار کررہے تھے،
1,598 total views, no views today



