جب کبھی نعمتوں کا ذکر کیا جائے، تو وہ بے شمار اور اَن گنت ہیں، جس چیز کاکوئی شمار ہی نہ ہو اُسے شمار کیا کرنا۔ نعمتوں کو بجائے شمار کرنے کے اُن پہ شکر ادا کرنا چاہیے۔ یعنی حاصل شدہ تمام نعمتوں پہ اپنے رب کے آگے شکر گزار رہنا چاہیے۔
بے شمار، لاتعداد اور غیر متناہی نعمتوں میں سے ایک بڑی نعمت وجود شجر بھی ہے۔ جو کہ ’’رب لم یزل‘‘ نے ہدیہ کے طور پہ ہمیں عطا فرمایا ہے۔ درختوں کی ضرورت اور اہمیت اس دنیا کے لیے بے حد ہے۔ درخت خواہ پھل دار ہوں، کانٹے دار ہوں یا پھول دار ہوں، درخت ایک منفرد حیثیت اور اہمیت کے مالک ہوتے ہیں۔ سب سے پہلے اگر یہ بات سوچی جائے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت اور منشاء کے مطابق ’’شجر ممنوعہ‘‘ ہی کی وجہ سے حضرت آدمؑ اور حضرت حوا ؑ کو اس ’’دنیائے بے ثبات‘‘ پہ اُتارا۔ پھر دنیا کی ابتداء ہونے لگی، خیر یہ ایک الگ موضوع ہے۔ اس ’’خاک دان کائنات‘‘ کی گہما گہمی اور شادابی میں درختوں کا کردار مرکزی ہے، اس بات پہ غور کرنا بے حد ضروری ہے۔
درخت ہمارے ’’بے زبان‘‘ دوست ہیں اور بے زبانوں پہ رحم کرنا بہت بڑی سعادت ہے۔ درخت ہماری ضرورت کے پیش نظر ہی پیدا فرمائے گئے ہیں، انھیں کاٹ کر ہی بہت سے فائدے اُٹھائے جاسکتے ہیں، مگر بے دریغ کٹائی مؤجب ویرانی ہی ہے۔ مادی فوائد کا حصول ہمارا حق ہے، مگر جائز حد تک درختوں کو استعمال میں لانا چاہیے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جائز حق کہاں تک ہے؟ اس حق کی حد کیا ہے؟ تو یہ درخت کو استعمال کرنے والا، فروخت کرنے والا یا اسے کاٹنے والا خوب جانتا ہے۔
ماحولیات کی تازگی اور آب و تاب میں رنگ بھرنے کے لیے سرسبز پیراہن ان درختوں ہی کی وجہ سے ممکن ہے۔ گھروں میں چولہا جلانے سے لے کر بڑے بڑے کارخانوں تک درختوں کی لکڑی کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ درخت ہمیں کسی مہربان ہستی کی طرح اپنے سائے سے آسودگی بخشتے ہیں۔ رُخ بدل بدل کر حالات اور موسمیات کے مطابق یہی درخت ہی تپتی دوپہروں میں کسانوں کو اپنی ٹھنڈی میٹھی چھاؤں سے سکون بخشتے رہتے ہیں۔ صرف کسانوں پر کیا موقوف عام انسانوں، چرند، پرند وغیرہ سب کے لیے درخت فیض عام کی حیثیت رکھتے ہیں۔ درختوں کی بہتات اور ذخیرے سے جنگلات وجود میں آتے ہیں۔ جنگلی جانور اور پرندے جنگلات میں نموپاتے ہیں، جو کہ فطری ماحول کا لازمی حصہ ہیں۔ قدرتی ماحول کی ابتدا ہی درختوں، پودوں اور جھاڑیوں سے ہوا کرتی ہے۔ جنگلات کی ترقی اور نشوونما کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ ہر کوئی درختوں سے ہم دردی رکھے۔ بلا وجہ اور بلا کسی انتہائی ضرورت کے انھیں کچھ نہ کہا جائے، جہاں درختوں کی بہتات ہوتی ہے وہاں بارشیں بہت ہوتی ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ یہ درخت باعث رحمت بھی ہیں۔ کیوں کہ بارش اللہ کی رحمت ہوتی ہے۔ جن پہاڑوں پر درخت زیادہ ہوتے ہیں، وہاں خوب صورت سیر گاہیں جنم لیتی ہیں۔ قسم قسم کے جانور اور پرندے وہاں اپنے اپنے مسکن اور بسیرے بناتے ہیں۔
دیکھا جائے تو درختوں کو بے دریغ اور بے دردی سے کاٹنا فطری حسن کی تباہی کے مترادف ہے۔ اس سے پرہیز کرنا ضروری ہے۔ کیوں کہ جنگلات ہی سے جنگلی حیات کی بقاء وابستہ ہے۔
پھل دار درختوں کی نشوونما کے لیے حسب ضرورت تراش، خراش تو کی جاسکتی ہے، مگر اسے کاٹ کاٹ کر تلف کردینا زیادتی ہوگی۔ کیوں کہ پھل دار درخت قدرت کی مہربانیوں اور رزق کی ترسیل کا ذریعہ ہوتا ہے۔ پھل جنھیں آج کل اکثر لوگ دیکھ تو سکتے ہیں مگر خرید نہیں سکتے، مگر ایک پھل دار درخت پال کر وہ مفت میں پھل حاصل کرنے کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ درخت اصل اس دنیا میں ہمارے بہترین دوست ہیں۔ ان کی لکڑی سے بے شمار اشیائے ضروریہ وجود میں آتی ہیں۔ جن میں تعمیرات، فرنیچر، ایندھن اور قسم قسم کی آرائش و زیبائش وغیرہ شامل ہیں۔
کٹ جانے والے ایک درخت کی جگہ کم از کم دو درخت لگانا درخت کاٹنے والا اپنے اوپر لازمی کردے، تاکہ درختوں کی تعداد میں کمی کے بجائے اضافہ ممکن ہوسکے۔ درخت کاٹنے کے بعد بے فکر ہوجانا جنگلات یا درختوں کے ذخیرے کے لیے دیمک سے کم نقصان دہ نہیں ہے۔
دنیا کے جن علاقوں میں درخت زیادہ ہوتے ہیں وہ سرسبز، خوش حال اور ماحول کے لحاظ سے خوش گوار اور فطری حسن سے مالامال ہوتے ہیں۔ لوگ وہاں جاجا کر تفریح سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ فطری نظاروں میں درختوں کو اولیت حاصل ہے۔ سیاح عموماً جنگلات اور سرسبز و شاداب علاقوں کی سیاحت پسند کرتے ہیں، وہ فطرت کو قریب سے دیکھنا چاہتے ہیں۔ کئی جانور درختوں ہی سے خوراک حاصل کرتے ہیں۔ یہی جانور ہمارے کام آتے ہیں۔ گوشت کی فراہمی، دودھ کا حصول، چمڑا وغیرہ جانوروں ہی سے ممکن ہے۔ بعض جانور بار برداری کے بھی کام آتے ہیں۔ اسی طرح درختوں ہی کی وجہ سے پرندے پروان چڑھتے ہیں جس سے ماحول خوب صورت اور بارونق رہتا ہے۔ کچھ پرندے بہت نادر و نایاب ہوتے ہیں۔ کچھ پرندے ہمیں گوشت بھی فراہم کرتے ہیں۔
کبھی غور تو کیجیے کہ پرندوں کے نہ سمجھ میں آنے والے بامعنی گیت کس قدر دل میں اُتر جانے کی طاقت رکھتے ہیں۔ آئیے، ان خوب صورت پرندوں اور دکھ درد اور مصیبت میں آنے والے حیوانات کے لیے زیادہ سے زیادہ درخت اُگانے کی کوشش کریں۔ اگر درخت لگانے کا کوئی طریقہ یا موقع نہیں مل پا رہا، تو لگے ہوئے درختوں کی خدمت اور حفاظت تو ضرور کی جائے۔ جو کہ ہماری ملکیت اور دسترس میں ہوں۔ قرب و جوار میں درختوں کی اہمیت اور ضروریات کا علم اور شعور دے کر دیگر درختوں کی جان بھی بچائی جاسکتی ہے۔ رونق گل زارِ ہستی میں درخت مرکزی حیثیت کے حامل ہیں۔
1,376 total views, no views today


