’’جہان زیب کالج آپ کے جگر گوشوں کو ضائع نہیں ہونے دے گا۔‘‘ مجھے ننانوے اعشاریہ نو فی صد یقین ہے کہ جس وقت پیرانہ سال پرنسپل جہان زیب کالج ’’سر محمد ظاہر شاہ‘‘ ودودیہ ہال میں براجمان سیکڑوں طلبہ و طالبات کے والدین اور سرپرستوں کے سامنے یہ دعویٰ کر رہے تھے، تو ان میں سے آدھے سے زیادہ اسے ایک ڈپلومیٹک ٹائپ بیان سمجھ کر ’’ایک کان سے سنا، دوسرے سے اڑا دیا‘‘ والا کام کر چکے ہوں گے۔ مگر مجھے ایک سو ننانوے اعشاریہ نو فی صد یقین ہے کہ وہ اٹھاون سالہ دبنگ شخصیت ایسا کر دکھانے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔ میں اتنا بڑا دعویٰ کیوں کر رہا ہوں، یہ سمجھانے کے لیے آرٹیکل پڑھنے والوں کو میرے ساتھ ایک سال پیچھے جانا پڑے گا۔
قارئین کرام! آج سے ٹھیک ایک سال پہلے جہان زیب کالج کو مردہ جان سمجھنے والے چند سیاسی گدھ اسے نوچ نوچ کر کھانے کے سہانے خواب دیکھ رہے تھے، مگر کالج ٹرانس فر ہونے والے نئے پرنسپل نے تہیہ کر رکھا تھا کہ چاہے کچھ بھی ہو، کالج کے تن مردہ میں نئی روح پھونکنی ہے۔ اس سلسلے میں جہان زیب کالج کے شعبۂ تاریخ کے ایک پروفیسر صاحب، جنھیں میں اپنے والد کا درجہ دیتا ہوں، نے مجھے پرنسپل صاحب سے ملنے کی دعوت دی اور نشست سے پہلے میٹنگ کے اغراض و مقاصد سے آگاہ بھی کیا۔ مجھے یاد ہے کہ اس وقت میرے لبوں پہ ہلکی سی مسکراہٹ نے ڈیرہ جمایا تھا۔ کیوں کہ مجھے جہاں بھی بلایا جاتا ہے، لوگ چشم زدن میں مسائل کا انبار لگا دیتے ہیں۔ ہر کوئی بندوق برداروں، انتظامیہ یا سیاسی شعبدہ بازوں کی شکائتیں کرتا ہے، مگر جیسے ہی میں اپنا ریکارڈر اور کیمرہ بیگ سے نکالتا ہوں، تو حاضرین کو سانپ سونگھ جاتا ہے۔ اگر میں یوں کہوں، تو بے جا نہ ہوگا کہ بیش تر اہل سوات شہید تو کہلوانا پسند کرتے ہیں، مگر مرنے کے لیے کوئی تیار نہیں ہوتا۔ اس روز میرے لبوں پر سجی مسکراہٹ پروفیسر صاحب نے شائد ہی نوٹ کی ہو۔ اور یہ بھی واضح کرتا چلوں کہ مذکورہ پروفیسر صاحب خود بھی بڑی دبنگ شخصیت کے حامل انسان ہیں۔ قلم اٹھاتے وقت وہ کسی کو خاطر میں نہیں لاتے۔ میٹنگ سے پہلے پرنسپل صاحب کے بارے میں مجھے گمان اغلب تھا کہ وہ سارے کا سارا بوجھ میرے کاندھوں پر رکھ کر خود ہلکے پھلکے ہو جائیں گے اور پھر اس کے بعد کالج کو درپیش مسائل کے لیے سیاسی گِدھوں اور ’’چھوٹے بڑے ڈانوں‘‘ سے مجھے اکیلے ہی نمٹنا پڑے گا۔ القصہ، اس روز جیسے ہی میں پرنسپل جہانزیب کالج کے دفتر میں داخل ہوا، تو سامنے ایک چھپن ستاون سالہ باریش اور بڑی نستعلیق قسم کی شخصیت کو پرنسپل کی کرسی پر جلوہ افروز پایا۔ میں نے پلک جھکتے میں ان کے سراپے کا جائزہ لیا۔ ان کے بالوں میں مکمل طور پر چاندی اتر آئی تھی۔ ایک متبسم چہرہ سامنے پاکر مجھے دفعتاً یہ شعر یاد آیا تھا
وہ ہنس پڑے تو کئی درد ٹال دیتا ہے
کسی کسی کو خدا یہ کمال دیتا ہے
مصافحہ کرتے وقت وہ مجھ سے اتنی گرم جوشی سے ملے جیسے وہ پچیس چھبیس سالہ نوجوان ہوں۔ ’’فرسٹ امپریشن اِز دِی لاسٹ‘‘ کے مصداق میں اس روز کے بعد انھیں جب بھی ملتا ہوں، وہی متبسم چہرہ اور گرم جوشی یاد آتی ہے۔ مجھے محسوس ہوا کہ عمر کے اس حصے میں جب زیادہ تر لوگوں کے انجر پنجر ڈھیلے ہوجاتے ہیں اور وہ گوشہ نشین ہوکر آخرت کی فکر میں لگ جاتے ہیں، مگر پرنسپل صاحب ہیں کہ ابھی تک قوم کی اصلاح کا بار گراں اٹھائے ہوئے ہیں۔ ان کی روشن آنکھوں، ہنستے ہوئے چہرے اور چوڑے چکلے شانوں کو ترازو کے ایک پلڑے میں رکھیں اور ان کی خود اعتمادی اور انداز تخاطب کو دوسرے پلڑے میں۔ آپ کو ان کی شخصیت کمال حد تک متوازن دکھائی دے گی۔
تعارفی سیشن کے بعد انھوں نے سب سے پہلے جہان زیب کالج میں بے جا سیاسی مداخلت اور یہاں پر سیاسی پارٹی بازی کے نام پر جاری غنڈہ گردی کو بند کرنے کی بات کی۔ وہ میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر سیاسی شعبدہ بازوں کی کالج میں مداخلت کے بارے میں بات کر رہے تھے اور ساتھ ساتھ ان غنڈوں کا حوالہ بھی بڑی حقارت سے دے رہے تھے جو چھوٹا ڈان، بڑا ڈان اور اس قبیل کے دیگر نام رکھ کر اپنے معزز والدین اور خاندان کی مٹی پلید کرنے کے درپے تھے۔ ہماری میٹنگ ختم ہوئی، جس میں کالج کو درپیش مشکلات پر بلا کم و کاست روشنی ڈالی گئی۔ میں نے اولاً گرم چائے سے اٹھتی ہوئی بھاپ کو ہوا میں تحلیل ہوتے ہوئے دیکھا اور ثانیاً کپ کو لبوں سے لگاکر ایک بھرپور چسکی لی۔ کپ سے اٹھتی ہوئی بھاپ میں مجھے ان چھوٹے بڑے ڈانوں کے چہرے بنتے بگڑتے دکھائی دے رہے تھے، جو اس عظیم مادر علمی کی عظمت سے کھلواڑ میں مصروف تھے۔ آخری چسکی لینے کے بعد میں نے بہ صد احترام ان سے کہا کہ سر، ابھی جو کچھ آپ نے فرمایا میں اسے من و عن چھاپوں گا، جس سے آپ کو نقصان اٹھانے کا احتمال ہوگا۔ انھوں نے سینہ تان کر کہا کہ ’’میں نے جہانزیب کالج کی عظمت رفتہ بہ حال کرنے کا تہیہ کر رکھا ہے، چاہے اس میں مجھے نقصان ہی کیوں نہ اٹھانا پڑے۔‘‘ اور پھر سب نے دیکھا کہ اگلے روز ’’روزنامہ چاند اور زما سوات ڈاٹ کام‘‘ میں کالج کا ماحول خراب کرنے والے چھوٹے بڑے ڈانوں کے خلاف جو کچھ چھپا، پھر اس کے نتیجے میں انھوں نے جہانزیب کالج کے معزز پروفیسر اور لیکچرار صاحبان کی شان میں جو گستاخی کی اور اس کے بعد سیاسی شعبدہ بازوں نے اپنے اپنے پالے ہوئے غنڈوں کی جس طرح وکالت کرنے کی کوشش کی، اس سب کا احاطہ کرنے کے لیے زیر نظر تحریر کی تنگ دامنی آڑے آئے گی۔ اب چوں کہ وہ سب کچھ تاریخ کا حصہ بن چکا ہے۔ اس لیے میںیہاں ’’الامان و الحفیظ‘‘ کا ورد کرنے پر ہی اکتفا کروں گا۔
قارئین کرام! ٹھیک سولہ سال بعد ودودیہ ہال میں منعقدہ جہان زیب کالج کی سالانہ تقریب تقسیم انعامات میں پرنسپل جہانزیب کالج کی طرف سے مجھے بھی ایک مہمان کی حیثیت سے دعوت دی گئی تھی۔ ہال میں پہنچتے ہی سب سے پہلے میں نے پریس گیلری کی طرف دیکھا، مگر وہاں تمام کی تمام کرسیاں خالی پاکر بے چین ہوا۔ بعد میں مجھے اپنے ایک رفیق کار سے معلوم ہوا کہ اس دن انجینئر امیر مقام کے دولت خانے پر ایک پریس کانفرنس کا اہتمام کیا گیا تھا۔ جاننے والے جانتے ہیں کہ انجینئر صاحب کے پروگرام کے آگے باقی سب کچھ ہیچ ہوتا ہے، اس لیے مجھے یہ بھولنا پڑا کہ میں ایک مہمان ہوں اور اپنا صحافتی فرض نبھانے کے لیے لنگوٹی کس لی۔ بعد میں اے وی ٹی خیبر کے رپورٹر سعیدالرحمان (جسے میں سوات کے صحافتی افق پر ابھرنے والا درخشندہ ستارا مانتا ہوں) بھی اپنے لاؤ لشکر سمیت پہنچ گئے اور تقریب کو اپنے کیمرے کی آنکھ سے محفوظ کیا، مگر پھر بھی
کوئی بے چینی سی بے چینی ہے
کے مصداق اک کانٹا سا تقریب کے اختتام تک بار بار چھب رہا تھا۔ خیر چھوڑئیے، یہ تو ایک جملۂ معترضہ تھا۔
قارئین کرام! جاننے والوں کو پتا ہے کہ میں اسکاؤٹ رہ چکا ہوں۔ مجھ پر اللہ تعالیٰ کے بے پناہ احسانات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ہم نصابی سرگرمیوں اور خاص کر ادبی سرگرمیوں میں اگر مَیں طاق نہیں، تو تھوڑی بہت مہارت ضرور رکھتا ہوں۔ بخدا، منگل کے روز پچیس مارچ دوہزار چودہ کو سولہ سال بعد منعقدہ سالانہ تقریب تقسیم انعامات کا ایک ایک آئٹم بہ غور دیکھنے کے بعد مَیں بلا مبالغہ یہ کہنے پر مجبور ہوں کہ سوات کی تاریخ میں ایسی تقریب اب تک کسی سرکاری یا نجی ادارے نے پیش نہیں کی ہوگی، اور اس کا تمام تر کریڈٹ اس اٹھاون سالہ دبنگ شخصیت کو جاتا ہے، جنھوں نے کالج کی عظمت رفتہ کو بحال کرنے کا تہیہ کر رکھا ہے۔ مجھے کہنے دیجیے کہ اگر سر ظاہر شاہ صاحب بہ قید حیات رہے اور انھیں سیاسی شعبدہ باز جہان زیب کالج سے تبدیل کروانے میں دو تین سال مزید ناکام رہے، تو وہ دن دور نہیں جب ایک بار پھر چاروں اُور جہانزیب کالج کا ڈنکا بجے گا۔
اگر زندگی رہی، تو اس دن میں ایک اور کالم لکھوں گا کہ واقعی یہ میرے اس ایک سو ننانوے اعشاریہ نو فی صد یقین کا ثمر ہے کہ ’’جہانزیب کالج نے ہمارے جگر گوشوں کو ضائع نہیں کیا۔‘‘
1,384 total views, no views today


