کالعدم تحریک طالبان پاکستان مہمند ایجنسی کے امیر عمر خالد خراسانی نے کہا ہے کہ حکومت کے ساتھ فائربندی میں توسیع نہیں ہوئی لہٰذا اب لڑائی دوبارہ شروع ہوجائے گی اور اس دوران بم دھماکے بھی ہوں گے۔عمر خالد خراسانی کے سیکریٹری کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری ایک مضمون میں عمرخالد خراسانی کا کہنا تھا کہ فائربندی کے دوران طالبان نہیں بلکہ حکومت کی جانب سے وعدہ شکنی کی گئی اور جو خفیہ معاہدے ہوئے انہیں توڑا گیا، جتنا بھی نقصان ہوا وہ حکومت، فوج اور سیاسی جماعتوں کا ہوا،
خفیہ معاہدے میں حکومت سے یہ بات طے پائی تھی کہ فائر بندی کے دوران نہ تو کوئی کارروائی کی جائے گی اور نہ ہی طالبان قیدیوں کا ماوورائے عدالت قتل لیکن اس دوران یہ سب کچھ ہوا۔
اپنے مضمون میں خالد عمر خراسانی نے الزام عائد کیا کہ فائربندی کے دوران 50 کے قریب طالبان اور ان کے حامیوں گرفتار اور 20 کا ماورائے عدالت قتل کیا گیا۔
450 total views, no views today


