گزشتہ کئی مہینوں سے سوات کے دو گاؤں’’کوزہ بانڈی‘‘ اور ’’ڈھیرئی‘‘ کے مکین ایک نہ ختم ہونے والے کرب اور انتہائی تکلیف سے گزر رہے ہیں۔ ان کی راتوں کی نیندیں حرام ہوگئی ہیں اور دن کا چین کیا ہوتا ہے، ان کو معلوم ہی نہیں۔ کیوں کہ ان کا دن کچہری اور سرکاری دفتروں کے چکر کاٹ کر گزرتا ہے۔گزشتہ پانچ سال سے ان کا کیس عدالت میں زیر التواہے، لیکن شائد انصاف کے حصول کے لیے پانچ سال کا عرصہ کم ہے۔ یہ لوگ آس و یاس کی تصویر بنے ہوئے کسی مسیحا کا انتظار کر رہے ہیں، لیکن ان کا یہ انتظار طویل سے طویل تر ہوتا جا رہا ہے۔
اسی دوران میں مسلسل ذہنی اذیت اور دباؤ کی شدت کی وجہ سے دو لوگ اللہ کو پیارے بھی ہوچکے ہیں۔ قاری وزیر جمال چند مہینے پہلے اس قدر دل برداشتہ ہوئے کہ خود کشی کرنے پر مجبور ہوئے۔ حالاں کہ قاری صاحب درس وتدریس کے شعبہ سے وابستہ تھے اور بانڈئ اسکول میں تعینات تھے۔ وہ میٹرک کلاس میں خود راقم کے استاد رہے تھے۔ انتہائی شریف اور ملن سار شخصیت کے مالک قاری صاحب اپنی شگفتہ مزاجی او ر لبوں پر ہمہ وقت مسکراہٹ کی وجہ سے بہت مشہور تھے، لیکن گزشتہ ایک عرصہ سے قاری صاحب کی مسکراہٹ غائب ہوچکی تھی۔ وہ ہر وقت کھوئے کھوئے سے رہتے ۔ ان کی آنکھیں سوجھی رہتیں اور جب ان کے دکھوں کا مداوا نہ ہوا، تو خود کشی جیسے اقدام پر مجبور ہوئے اور اس دنیا سے کوچ کرکے نہ صرف خاندان والوں کوداغ مفارقت دے گئے بلکہ دنیا بھر میں موجود اپنے شاگردوں کو بھی اداس کر کے چلے گئے۔
کوزہ بانڈئی ہی کے ایک اور مکین محمد علیم کا دل بھی درد مسلسل برداشت نہ کر پایا اور گزشتہ ہفتے اللہ کو پیارے ہوگئے۔ آئے دن لوگوں کو دل کے دورے پڑرہے ہیں اور کئی تو اسپتالوں میں زیرعلاج بھی ہیں۔
قارئین کو بتاتا چلوں کہ ان لوگوں کو غم دینے والا کوئی اور نہیں بلکہ ائیرپورٹ کو وسیع کرنے والے وہ حکام ہیں، جو یہاں کے مکینوں کو گھروں سے بے دخل کرنے کے لیے نت نئے حربے استعمال کر رہے ہیں۔ ان کے پرکھوں کی بیش قیمت جائیداد کو اونے پونے داموں بیچنے کے لیے لوگوں پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ ان کے گھر مسمار کر کے اینٹ، سریا اور پتھر تک پر قبضہ کیا جا رہا ہے۔ لوگوں نے سال ہا سال خون پسینے کی کمائی سے صرف ایک گھر کھڑا کیا ہے، جس پر اس وقت لاکھوں خرچ ہوئے۔ آج کل ان گھروں کی قیمت دس گنا سے بھی زیادہ ہے، لیکن انتظامیہ کی طرف سے ٹھیکے دار آٹھ دس لاکھ روپے پکڑاکر لوگوں کو ان کے گھروں سے بے د خل کر رہے ہیں اور پھر ان کے گھروں کو بے دردی سے گرایاجاتا ہے۔ برسوں سے محیط بچپن، جوانی اور لڑکپن کی یادوں کو پل بھر میں ملیامیٹ کر دیا جاتا ہے۔
بزرگ جب اپنی آنکھوں سے برسوں کی محنت سے بنائے گئے گھروں کو اس طرح برباد ہوتے ہوئے دیکھتے ہیں اور اپنے پورے خاندان کو سڑک پر دیکھتے ہیں۔ تو ان کے کم زور دل اس منظر کو برداشت نہیں کر پاتے اور یوں ان کے دلوں کا رک جانا کوئی انہونی نہیں۔ آئے دن اللہ کو پیارے ہونے والے لوگوں کو اللہ کی مرضی سمجھ کر اس مسئلے کو پس پشت ڈالاجا رہا ہے۔ ستم بالائے ستم یہ کہ ٹھیکے دار ٹوٹے ہوئے گھر کے ملبہ پر بھی ا پنا قبضہ جتاتا ہے اور اس کو بھی بیچ دیا جاتا ہے، جس سے اس ظلم کی چاندی ہوگئی ہے۔
شنید ہے کہ ٹھیکیدار دن رات سر عام بڑی ڈھٹائی سے کنڈے ڈال کر ان ٹوٹے ہوئے گھروں کے ملبے پر ویلڈنگ اور ڈرلنگ کے علاوہ ا پنی مرضی کے کاموں کے لیے بے دریغ مفت بجلی استعمال کر رہا ہے، لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں۔ عام آدمی اگر بجلی کے تاروں کی جانب کنڈے کی نیت سے دیکھے بھی، تو اس کی خبر لی جاتی ہے۔ اسے بھاری جرمانہ کیا جاتا ہے اور مزید یہ کہ اسے جیل کی ہوا بھی کھانی پڑتی ہے، لیکن مذکورہ ٹھیکے دار کو کھلی چوٹ دی گئی ہے۔
آپ کو یہ بھی بتاتا چلوں کہ اس وقت مارکیٹ میں اس علاقہ کی زمینوں کا نرخ تقریباً پانچ اور چھے سو روپے فی فٹ ہے، لیکن انتظامیہ ان لوگوں کو صرف گیارہ روپے فٹ ادا کر رہی ہے۔ آج کل تو گیارہ روپے میں ایک کلو ٹماٹر بھی نہیں آتا، تو پھرلاکھوں اور کروڑوں کی ملکیت کو صرف گیارہ روپے فٹ میں خریدنا کہا ں کا انصاف ہے؟
ایئرپورٹ کے نئے نقشے کے مطابق دو ٹیوب ویل اور د ر یا سوات سے نکالا گیا وہ نہر بھی اس کی لپیٹ میں آئے گا، جو ننگولئی سے لے کر کبل اور اس سے آگے تک کے گاؤں اور دیہات کی زمینوں کو سیراب کرتا ہے۔ اس نہر کی تباہی سے ہزاروں ایکڑ کی زمین بنجر ہوجائے گی، جب کہ ٹیوب ویل بند ہونے سے ہزاروں لوگ پانی سے محروم ہوجائیں گے۔
کیا انتظامیہ اس نازک صورت حال سے واقف ہے؟ اور اگر ہے، تو نہر کو بچانے کے لیے کیا اقدام کیے جا رہے ہیں؟ لوگوں کو جاننے کا حق ہے۔ یہ ان کی زمینیں ہیں۔ یہ زمینیں ان کے باپ دادا نے اپنے خون اور پسینہ سے سینچی ہیں۔ ان کو یہ باور کرایا جائے کہ ایئرپورٹ بنا نا ان قیمتی اور زرخیز زمینوں کو بنجر بنانے سے زیادہ اہم ہے۔
ایئرپورٹ انتظامیہ سے التماس ہے کہ ان لوگوں کے دکھ کو سمجھے۔ یہاں کے مکین غموں اور تکالیف کے مزید متحمل نہیں ہوسکتے۔ ان کے سینے پہلے سے چھلنی ہیں۔لہٰذا یہ وقت زور اور زبردستی سے زیادہ تدبر اور انصاف کا متقاضی ہے۔ کیا ایئرپورٹ انتظامیہ اپنی زمیں یہاں کے مکینوں کو ایک ہزار روپے فی فٹ میں بیچنے پر تیار ہوجائے گی؟ تاکہ لوگ ان کو یہ قیمت چندہ اور محنت کر کے ادا کر دیں۔ اس طرح ائرپورٹ انتظامیہ کو اربوں روپے مل سکتے ہیں اور یوں کسی سستے علاقہ میں ایک بڑا ائرپورٹ بنایا جاسکتا ہے، لیکن اگر انتظامیہ ایک ہزار روپے فی فٹ بیچنے پر راضی نہیں، تو کم از کم ان لوگوں کے ساتھ بھی نا انصافی نہ کرے اور ان کو مارکیٹ ریٹ پر ان کی آبا و اجداد کی خون پسینے کی کمائی سے خریدی گئی جائداد کا جائز معاوضہ ادا کیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ گھروں سے بے دخل کرانے سے پہلے مکینوں کو سر چھپانے کی جگہ فراہم کی جائے۔ گھروں کو بھی مارکیٹ ویلیو سے خریدنے کے ساتھ لوگوں کو ان زمینوں کی قیمت بھی ادا کی جائے، جن پر گھر بنائے گئے ہیں۔
انصاف کا تقاضا تو یہ ہے کہ یہاں کے مکینوں کا بننے والے ائیرپورٹ میں کوٹہ مقرر کیا جائے اور ان کو ایئرپورٹ میں ملازمت دلانے کے لیے راہ ہم وار کی جائے۔ ان کے بچوں کو بننے والے ممکنہ کیڈٹ کالج میں ترجیحی بنیادوں پر داخلہ کو یقینی بنایا جائے۔
گزشتہ دنوں خوازہ خیلہ کے عوام مستقبل قریب میں خوازہ خیلہ کے مقام پرممکنہ فوجی چھاؤنی کے قیام اور گھروں سے بے دخل کیے جانے اور زمینوں کے اونے پونے داموں فروخت ہونے کی ڈر کی وجہ سے سراپا احتجاج بنے اور جلوس نکالا، تو پاک فوج کے موجودہ میجر جنرل نے خوازہ خیلہ کے عوام سے وعدہ کیا کہ ان کی زمینوں اور گھروں کو مارکیٹ ریٹ پر خرید اجائے گا۔ جس پر وہاں کے عوام نے سکھ اور چین کا سانس لیا۔
اگر واقعی ایسا ہے، تو پھر کوزہ بانڈئ کے لوگوں کو مارکیٹ ریٹ کیوں نہیں دیا جاسکتا؟ ان لوگوں کا قصورکیا ہے؟ سوات میں دوران شورش سب سے زیادہ قربانیاں ڈھیرئی اور کوزہ بانڈئی کے مکینوں نے دیں۔ سب سے زیادہ خون خرابا انھی علاقوں میں ہوا۔ پھر ان کو ان کی قربانیوں کا یہ صلہ دیا جا رہا ہے کہ ان کے گھر وں اور زمینوں کو مال غنیمت سمجھ کر نیلام کیا جائے؟
اہالیان سوات کے اس مسئلہ کو سب سے پہلے ایم پی اے جعفر شاہ نے اسمبلی میں اٹھایا، لیکن ایم این اے محترمہ عائشہ سید نے بہ ذات خو د یہاں آکر علاقہ کے متاثرین کی حوصلہ افزائی کرکے لوگوں کے دل جیت لیے۔ پی ٹی آئی کے مراد سعید اور محب اللہ کا صرف یہاں آنا کافی نہیں۔ اب ان کو صحیح معنوں میں لوگوں کا یہ مسئلہ حل کرنے کے لیے ٹھوس اقدام کرنا ہوں گے۔ حکومت میں ہونے کی وجہ سے وہ مضبوط پوزیشن میں ہیں، یہ موقع ہے کہ وہ اپنے ووٹر اور حلقہ کے لوگوں کے دکھ کا مداوا کریں۔ بلکہ سوات کے دیگرممبران اسمبلی اور ہر مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے کو اپنے اختلافات بالائے طاق رکھ کر اس مسئلہ کوحل کرنے میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
ورنہ کل آپ کی بھی باری آسکتی ہے او ر بعید نہیں کہ مستقبل قریب میں آپ کا گھر بھی چھاونی، سوئمنگ پول، گالف کورس، ہیلی پیڈ یا پھر کنٹونمنٹ کی نذر ہوجائے اور آپ بھی اپنے آپ کو اکیلا اور بے بس پائیں۔ کیوں کہ سب کی باری آنے والی ہے۔ کسی کا گھر نہیں بچے گا۔ کیوں کہ ابھی سوات میں اور بھی بہت کچھ ہونے اور بننے والا ہے اور سوات یہ منظر پیش کرے گاکہ
اپنی گلی میں اپنا ہی گھر ڈھونڈتے ہیں لوگ
امجد یہ کون شہر کا نقشہ بدل گیا
1,024 total views, no views today


