میں نے پہلی بار آثار قدیمہ کا نام اس وقت سنا جب میں پانچویں کلاس میں تھا او ر سکول کی طرف سے ہمیں گلکدہ میں موجود آثار قدیمہ دیکھنے کا موقع مل گیا حالانکہ اس سے پہلے کئی بار میں دوستوں کے ہمراہ اوڈیگرام میں سلطان محمود غزنوی مسجد ا ور راجا گرا کے قلعے پر جا چکا تھا لیکن آثار قدیمہ کے نام سے بے خبر تھا
کچھ ایسی ہی صورت حال سے آج کل سوات کے باسی بھی دوچار ہے کیونکہ وہ روزانہ صبح آثار قدیمہ کی سیر کو نکلتی ہے اور شام کو واپس ان آثار قدیمہ سے ہو کر گذرتے ہے لیکن کسی کو بھی ان آثار قدیمہ کی حقیقت کا علم نہیں ہوتا ۔ میرا اشارہ سوات کی سڑکوں کی طرف ہے کیونکہ سوات کی سڑکیں آجکل آثارقدیمہ کی مانندہوچکی ہیں، والئی سوات کے دور سے لیکر اب تک تعمیر کے منتظر ہے لیکن کسی کی کیا مجا ل کہ سڑکوں کو ان آثارقدیمہ میں تبدیلی کریں ۔ اور پچھلے کئی سال سے ان کو جوں کا توں رہنے دیا گیا ہے ۔
سوات کی سڑکیں والی سوات دور کے بعد خراب ہونی لگی ۔ مختلف دور حکومتوں میں نمائندوں او ر این۔ایچ۔اے کی غفلت کی وجہ سے تباہ برباد ہوگئی ہیں جو بارش کے دوران ندی نالوں کا منظر پیش کرتی ہے۔سڑک کی تباہ حالی کی وجہ سے سکول جانے والے بچوں اور ڈیوٹی کیلئے جانے والے لوگوں کو سخت مشکلات کا سامنا ہے ۔ آئے روز حادثات رونما ہوتے ہیں ۔ سوات کی خراب سڑکیں یہاں کی خوبصورتی پر بدنما داغ کی مانند ہے ۔ اور ضلع کی ترقی میں بڑی رکاوٹ ہے ۔ ان خراب سڑکوں کی وجہ سے سوات کی سیاحت کو کافی نقصان پہنچا ہے۔ سیاحت کی ترقی کی بلند و بانگ دعوے کرنی والی حکومت اور ٹوارزم ڈیپارٹمنٹ یہ بتائے کہ کیا سڑکوں کو تعمیر کئے بغیر کسی علاقے میں سیاحتی سرگرمی جاری رہ سکتی ہے ۔ عرصہ دراز سے خراب اور تباہ منگورہ تا کالام اور مالم جبہ سڑک حکومت کی سرد مہری ناکامی اور نا اہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔ سردی کے موسم میں لینڈسلائیڈنگ اور برفباری سے بند راستے جب مئی جون میں کھل جاتے ہیں اور حکومت اور انتظامیہ کو کسی یخ بستہ علاقے میں ایک سٹیج کی ضرورت پیش آتی ہے تو ان کو کالام یاد آتا ہے ۔ اور کچھ وقت کیلئے پوری حکومتی مشینری وہاں منتقل ہوجاتی ہے اور چار دن کی چاندنی پھر اندھیری رات کے مصداق پھر غائب ہو جاتی ہے۔ اور سردیوں میں جب کالام کے لوگ راستوں اور بجلی کی بندش سے نڈھال ہورہے ہوتے ہیں تو کسی کو بھی کالام کی یاد نہیں ستاتی۔ اور اگر مالم جبہ میں برفباری کے دوران انتظامیہِ پاک فوج اور حکومت کو سنو فیسٹول کی ضرورت نہیں ہوتی تو ان کو کیا پڑی ہے کہ وہ مالم جبہ کے لوگوں کی خاطر سڑک کھلی رکھے، کیونکہ وہ تو اکثر قطاروں میں کھڑے ہوکر انتظار کرکے اور مایوس ہوکر واپس چلے جاتے ہیں اور ان کو فیسٹول دیکھنے کا موقع نہیں ملتا۔ فیسٹول کی اہمیت اپنی جگہ لیکن حکومت کو چاہیے کہ سڑک کے تعمیر ان سے زیادہ اہم ہے ، کیونکہ یہ پہاڑی علاقے میں رہنے والے ہزاروں لوگوں کے امدورفت کا زریعہ ہے اور اگلی بار سنو فیسٹول اور کالام امن میلے کا انعقاد نہ کرکے ان پر ہونے والے اخراجات کو سڑکوں کی تعمیر کیلئے مختص کیا جائے۔
سوات کے تباہ حال سڑکوں کے ساتھ جڑا ایک مسئلہ ایوب پل کانجو کا ہے جس کو نہ بنانے کا شائد حکومت او ر انتظامیہ نے پکا ارادہ کر لیا ہے او ر نیک پی خیل کے لاکھوں کی آبادی کو مرکزی شہر سے جدا رکھنے کا ارادہ کرلیا ہے ۔ حالانکہ دسمبر 2013تک اس کے تعمیراتی کام کو مکمل کرنا تھا لیکن جس سست روی سے اس پر کام جاری ہے تو اگلے سال تک اس کی مکمل ہونے کا کوئی امکان نظر نہیں آتا صرف یہی نہیں بلکہ لنڈاکے سے لیکر منگورہ اور آگے کالام تک سڑک کا کوئی حصہ بھی گاڑیوں کے چلنے کے قابل نہیں ہے چارباغ الہ آباد پل دکوڑک پل عالم گنج پل بھی تعمیر کے منتظر ہے ۔
سوات کی سڑکوں پر کئی بار مختلف حکومتوں نے خوب سیاست کی ہے سابقہ وزیر اعلی امیر حیدر خان ہوتی نے سوات کے سڑکوں کی تعمیر کا وعدہ کیا تھا ۔ موجودہ وزیراعظم محترم میاں نواز شریف نے دو با ر کالام تک ایکسپریس وے کی تعمیر کا وعد ہ بھی کیا تھا لیکن مصروفیات کی وجہ سے شاید ان کو یاد نہیں رہا لیکن ان کے ساتھ جو لوگ موجود ہوتے ہیں ان کو چاہیے کہ محترم نواز شریف صاحب کو انکا وعدہ یاد دلائے ۔تاکہ سڑکوں کی تعمیر سے زندگی کا پہیہ رواں دواں رہے ۔
1,181 total views, no views today


