اصل موضوع بعد میں۔۔۔ پہلے آپ سب کو مبارک باد تو پیش کرلوں کہ رحمان ملک اور میاں نواز شریف صاحبان کے بعد شاہ عبدالطیف بھٹائی یونی ورسٹی نے وزیر اعلیٰ سندھ قائم علی شاہ صاحب کو فلسفے میں پی ایچ ڈی کی اعزازی ڈگری پیش کر دی ہے۔ ماشاء اللہ چشم بددور فلسفہ جیسے مضمون کے ساتھ پاکستان میں جو کچھ ہورہا ہے، فلسفہ کی تاریخ میں کبھی نہیں ہوا لیکن خیر ہے کہ جو کچھ ہورہا ہے ٹھیک ہی ہورہا ہے، بقول عدیم ہاشمی مرحوم
گرو تو ساتھ گرے شان شہ سواری بھی
زوال آئے، تو پورے کمال میں آئے
میں نے شروع میں لکھا کہ ’’اصل موضوع بعد میں‘‘ حالاں کہ تمہیدی پیرا بھی دراصل اصل موضوع ہی کا حصہ ہے۔ کیوں کہ پورا معاشرہ جعلی عاملوں اور ڈبہ پیروں کی لپیٹ میں ہے، جس کا جی چاہے اپنے لیے من پسند القابات اختیار کرکے شروع ہوجاتا ہے۔ کیبل پر ایسا ایسا ’’گولڈ میڈلسٹ‘‘ پانچویں پاس ’’پروفیسر‘‘ دکھائی دیتا ہے کہ جن بہت سے امراض میں مہارت کا دعویٰ کررہا ہوتا ہے، ان میں سے اکثر امراض کے نام بھی ٹھیک سے نہیں بول سکتا لیکن یہاں سب چلتا ہے۔ یہ حکومتیں جو جعلی عامل بابے اور ڈبے پیر نہیں روک سکتیں، ان سے دہشت گردی یا مہنگائی روکنے کی توقع یا امید کوئی مخبوط الحواس ہی کر سکتا ہے۔ بہت ہی بڑے پیمانے پر پھیلا ہوا یہ کاروبار جسے ’’دھندا‘‘ کہنا چاہیے، جسم فروشی سے بھی زیادہ گھناؤنا اور مکروہ ہے، لیکن مجال جو کسی گڈ گورننس کے کانوں پر جوں بھی رینگتی ہو۔ جعلی عامل بابے، جعلی پیر، جعلی پروفیسر تو جعلی ڈاکٹر کیوں نہیں؟ اور کیڑے نکالنے ہیں مغربی تہذیب میں جس کے فرزند کیڑیوں پر تحقیق کرنے پر ہی پوری پوری زندگی وقف کردیتے ہیں۔
اک اخباری رپورٹ کے مطابق جس لاہور کو دیکھے بغیر آدمی پیدا ہی نہیں ہوسکتا، اس میٹرو فیم لاہور میں ڈبہ پیروں اور جعلی ڈاکٹروں وغیرہ کی تعداد ڈھائی ہزار سے تجاوز کرچکی ہے۔ لوگ ہر طرح سے لٹ رہے ہیں جب کہ گزشتہ ایک سال میں ان کے خلاف صرف پانچ مقدمات درج ہوئے ہیں۔ سابق ڈی سی او نے تمام ٹاؤن ایڈمنسٹریٹرز کو ان وارداتیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا حکم دیا تھا لیکن کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔
حکم رانوں کے خمیر میں ہی عوام دشمنی ہے، بندہ پوچھے تم لوگوں کو مہنگائی سے نہیں بچاسکتے، اندھیروں سے نہیں بچا سکتے، بے روزگاری سے نہیں بچا سکتے، دہشت گردی سے نہیں بچا سکتے، لیکن تم کیسے لوگ ہو جو عوام کو ان عامل بابوں، ڈبہ پیروں اور جعلی پروفیسروں ڈاکٹروں سے بھی نہیں بچا سکتے۔ یہ مافیا سرعام عوام کی زندگیاں اور گھروں کے گھر تباہ کررہا ہے، سرعام ان کے ’’کلینک‘‘ ۔۔۔’’اسپتال‘‘ اور’’شفاخانے‘‘ نہ صرف چل رہے ہیں بلکہ ان کی اشتہاری مہمیں بھی پورے زور و شور سے چل رہی ہیں۔ پھنسنے والوں میں سے اکثریت عورتوں کی ہے۔ کوئی اولاد یا اولاد نرینہ کے چکر میں سب کچھ گنوا بیٹھتی ہے، کسی کو’’سائے‘‘ سے نجات چاہیے، کوئی کالے جادو کے توڑ میں مصروف ہے، کسی کو ساس، نند یا بھابی کا ’’علاج‘‘ کروانا ہے، کسی کو سنگ دل محبوب قدموں پر درکار ہے۔ ان جعل سازوں کے زیادہ تر اڈے مزاروں اور دریاؤں کے قرب و جوار یا پس ماندہ بستیوں میں ہوتے ہیں۔ کیوں کہ وہاں’’شکار‘‘ کی فراوانی ہوتی ہے کہ جہاں غربت ہوگی، وہاں جہالت بھی ہوگی، توہم پرستی بھی ہوگی اور ضعیف الاعتقادی بھی۔ یہی وہ مکسچر اور بلینڈ ہے جس کا کثیر الجہت بے رحمانہ استحصال جاری ہے۔ نہ سیاسیہ کو خبر نہ انتظامیہ کو اس سے کوئی دل چسپی تو اس کی صرف ایک وجہ ہے کہ سیاسی حکم ران صرف ان سرگرمیوں، کارروائیوں تک محدود رہتے جن سے ووٹ بٹورے یا ٹھگے جاسکیں جب کہ انتظامیہ اپنے سیاسی باسز کی ترجیحات سے دائیں بائیں اور آگے پیچھے نہیں دیکھتی۔ دونوں کے لیے عوام ایسے حشرات الارض سے زیادہ کچھ بھی نہیں جن کے پاس ’’شناختی کارڈز‘‘ ہوتے اور جن کی انھیں انتخابات میں ضرورت پڑتی ہے۔
ویران آنکھیں، بنجر بے تاثر چہرے، خستہ میلے لباس، گھسی قینچی چپلیں یا پلاسٹک کے جوتے ۔۔۔ انھیں دیکھ کر صلو درانی جب بھی پاکستان آئے، زہریلی ہنسی ہنستے ہوئے کہتا ہے:‘‘یہ دیکھو تمھارے غیور اور باشعور پاکستانی اور تمھارے علامہ اقبال کے شاہین جو بے تیغ زندگی کی لڑائی لڑ رہے ہیں اور تیغوں کے سائے میں زندگی کا سفر کاٹ رہے ہیں اور یہی کچھ کرتے کرتے نشاۃ ثانیہ تک پہنچ جائیں گے۔‘‘
(بہ شکریہ روزنامہ جنگ)
1,988 total views, no views today


