سوات،سنگوٹہ پبلک سکول میں پرنسپل کی من مانیوں پر علاقے کے لوگوں کا شدید احتجاج طالبات کو سکول میں داخلے نہ دینے اور والدین کے ساتھ غیر مناسب روئے پر معززین علاقہ کا اعلی حکام سے مداخلت کی اپیل اگر بروقت پرنسپل کے خلاف کاروائی نہ کی گئی تو سکول انتظامیہ کے خلاف شدید مخالفت سامنے آسکتی ہے علاقہ عمائدین،سنگوٹہ پبلک سکو ل جوکہ والئی سوات نے 1954میں مقامی لوگوں کو معیاری تعلیم دینے کے لئے بنایا تھا
جن کو سال دوہزار آٹھ میں شدت پسندوں نے بموں سے اڑایا تھا اور پھر اے این پی گورنمنٹ نے سال دوہزار دس میں دوبارہ تعمیرکے لئے کروڑوں روپے منظورکروائی تاکہ علاقے کے متاثرہ بچیوں کو ان میں داخلہ دیاجائے مگر مقامی لوگوں کو سنگوٹہ پبلک سکول میں بچیوں کے داخلوں میں شدید مشکلات کا سامناہے سال دوہزار چودہ کے داخلوں میں سکول پرنسپل کی من مانیانیوں اور والدین کے ساتھ انتہای بدتمزی کے روئے پر والدین نے شدیداحتجاج کیاہے نئے سال کے داخلوں کے لئے سینکڑوں طابات سے ٹیسٹ کے نام پر ہزاروں روپے بٹور لیں مگر کلاس فسٹ سے لیکر آٹھویں تک صرف ستائس طالبات کو پاس قرار دیاگیا اس سلسلے میں جب سکول کی پرنسپل گریٹاگل سے رابطہ کیاگیاتو انہوں نے میڈیا سے کسی قسم کی گفتگو کرنے سے انکارکیا اور کہاکہ ان کی مرضی جس کو داخلہ دے جس کو نہ مزید انہوں نے کہا اگر لوگوں نے ان کے خلاف احتجا ج کیا تو سکول کو تالہ لگادینگے اس سلسلے میں آئے ہوئے متعدد والدین نے میڈیاکے نمائندوں کو بتایاکر کرسچین پرنسپل کو علاقے کے اقدار اور اور اسلامی رویات کا کوئی پتہ نہیں انہوں نے سکول میں صبح کو تلاوت قران پاک اور بچیوں کے چادر یا اسکارپ اوڑنے پر بھی سخت پابندی لگارکھی ہے جبکہ والدین کو مختلف بہانوں سے گھنٹوں گھنٹوں تک انتظارکرایاجاتاہے۔ جبکہ آئے ہوئے ممانوں کے بیٹھنے کے لئے کوئی انتظام نہیں جن بچیوں کو فیل قرار دیاگیاہے ان کو سوالیہ اور جواب دئے ہوئے کاپیاں بھی نہیں دی جارہی ہے، موقع پرموجود ایک مقامی شخص نے بتایاکہ پچھلے سال بھی سکول پرنسپل نے اس طرح قابل اور ذہین طالبات کو داخلے سے محروم کیاتھا جن پر کچھ والدین نے عدالت میں جانے کی دہمکی پر ان کو داخلے دئے،والدین نے ڈی سی او اور خیبر پختون خوا حکومت سے اپیل کی ہے کہ کسی بھی قسم ناخوشگوار واقعہ ظہورپزیر ہونے سے پہلے کرسچن پرنسپل کو تبدیل کیا جائے اور سنگوٹہ پبلک سکول کے لئے اہل پرنسپل تعینات کیاجائے۔
643 total views, no views today


