اس ملک میں ابتداء سے دو قسم کی سیاست چلی آ رہی ہے۔ ایک قسم کی وہ سیاست جو ابن الوقتی، موقع پرستی اور مفاد پرستی کے گرد گھومتی رہتی ہے، جس کا کوئی اصول، نظریہ یا مقصد نہیں ہوتا۔ اقتدار اور کرسی کے لیے کسی بھی لمحے کوئی بھی سمجھوتا ہوسکتا ہے۔ پارٹیاں بدلی جاسکتی ہیں۔ وفاداریاں خریدی جاسکتی ہیں۔ ضمیر کی تدفین کی جاتی ہے۔ سودے بازیاں ہوتی رہتی ہیں۔ اراکین ا سمبلی کا بازار لگ جاتا ہے۔ کھلم کھلا بولیاں لگتی ہیں۔ وزارتیں، ٹھیکے، بنکوں کے قرضے بہ طور حدیہ پیش کی جاتی ہیں۔ اس قسم کی سیاست اور اس رنگ میں رنگی پارٹیوں میں مسلم لیگ کا نام لیا جاسکتا ہے۔ تاریخ کے مختلف ادوار میں موقع پرستی کی سیاست کے لیے مسلم لیگ نے کئی نام بدلے۔ کئی چہرے بدلے اور کئی شکل اختیار کیے۔ جناح مسلم لیگ، کونسل مسلم لیگ، کنونیشن لیگ، وعلیٰ ہذالقیاس۔
دوسری قسم کی سیاست نظریاتی اور اُصولی ہوتی تھی۔ اُن کا منشور ہوتا تھا۔ ایک مقصد ہوتا تھا۔ اصولوں پر سودے بازی یا سمجھوتا کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ ایسی پارٹیوں کے لوگ جیل جاتے تھے۔ اپوزیشن میں ہوتے تھے۔ پارٹی سے وفاداری نبھاتے تھے۔ جھکنا جانتے تھے، نہ بکنا۔ اُن کا مطمع نظر اقتدار نہیں بلکہ اپنے اصولوں کی پاس داری ہوتا تھا۔ ایسی پارٹیوں میں عوامی نیشنل پارٹی پاکستان پیپلز پارٹی، جماعت اسلامی سرفہرست ہوتی تھیں۔
اگر انتخابات میں اتحاد ہوتے تھے، تو اپنے قریب نظریاتی پارٹیوں میں اتحاد ہوتا تھا۔ انتخابی اتحاد میں نظریات اور اصولوں کو بنیادی اہمیت دی جاتی تھی۔
مجھے سب سے پہلے حیرانی یہ ہوئی کہ حلقہ پی کے چھیاسی کے صوبائی اسمبلی کے سابقہ ممبر اور اے این پی کے دیرینہ کار کن محترم ڈاکٹر حیدر علی نے پارٹی بدل کر تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی۔ بہ ظاہر اُس نے صرف اس وجہ سے پارٹی بدلی یا وفاداری بیچ ڈالی کہ صوبے میں الیکشن ہارنے کے بعد امیر حیدر ہوتی کی حکومت ختم ہوگئی جب کہ ڈاکٹر حیدر علی اب بھی اقتدار میں رہنا چاہتے ہیں۔ لہٰذا وہ اُس پارٹی میں چلے گئے جس کی حکومت ہے۔ یہ حضرت اپنی چال ڈھال، تقاریر اور نظریاتی لگاؤ کے ذریعے اے این پی کے پکے نظریاتی لوگوں میں شمار ہوتے تھے۔
برسبیل تذکرہ ایک دفعہ ڈاکٹر حیدر علی ریاض سعودی عرب تشریف لائے تھے۔ اور اے این پی ریاض کے مہمان تھے۔ اُن دنوں میں ریاض میں تھا۔ اے این پی والوں نے ڈاکٹر حیدر کا پرجوش استقبال کیا۔ اُس کے اعزاز میں مختلف ہوٹلوں میں متعدد پروگرام منعقد کیے۔ انھیں تحائف سے نوازا اور اس حضرت نے وہاں جوشیلی تقاریر کیں۔ باچا خان اور ولی خان بابا کا ذکر کرنے سے نہیں تھکے مگر آج صرف کرسی اور ایک سیٹ جیتنے کے لیے سب وہ سب کچھ ہوا میں تحلیل ہوگیا۔
دوسری حیرانی مجھے اس بات پر ہوئی کہ اے این پی نے جمعیت العلمائے اسلام کے امیدوار کے مقابلے میں اپنا اُمیدوار بٹھادیا۔ اگر چہ اس حلقے سے پختون خوا ملی عوامی پارٹی کی طرف سے مختار خان یوسف زئ بھی اُمیدوار ہیں جو کہ پختون قوم پرستی کے حوالے سے اور اصولی نظریاتی سیاست کے حوالے سے بہ نسبت جمعیت العلماء کے ممبر کے اے این پی کے زیادہ قریب ہیں۔ لیکن اے این پی نے اُسے نظر انداز کرکے جمعیت کا ساتھ دینے کا فیصلہ کرلیا۔ مختار خان یوسف زئ ایک اچھے شریف اور اصولی انسان ہیں۔ نچلے طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ مخلص ہیں، سیاست میں اُن کی قربانیاں ہیں اور سب سے بڑی بات یہ کہ اپنی پارٹی اور اپنی قیادت کے ساتھ وفادار ہیں۔ جب سے پختون خوا ملی عوامی پارٹی موجود میں آئی ہے، وہ عرصۂ دراز سے اُس میں ایک ممبر کی حیثیت سے نظر آرہے ہیں۔ اگر چہ وہ اب پختون خواملی ملی عوامی پارٹی کے خیبر پختون خوا صوبے کے صدر ہیں۔ لیکن کیا کریں اور کس سے گلہ کریں؟ تحریک انصاف کے عمران خان ایک طرف مولانا طاہر القادری سے متاثر نظر آرہے ہیں۔ اور دوسری طرف قادری صاحب کے کٹر مخالف جماعت اسلامی کے ساتھ خیبر پختون خوا میں مشترکہ حکومت کر رہے ہیں۔ جماعت اسلامی، اسلامی نظام کی بات کرتی ہے جب کہ عمران خان جدید جمہوریت اور ملک میں تبدیلیوں کی بات کرتے ہیں۔ سب کو معلوم ہے کہ عمران خان اور سراج الحق کی تبدیلیوں میں کیا فرق ہے؟ لیکن اقتدار کے لیے دونوں نے آپس میں ہاتھ ملا دیا ہے۔ تو کیا اب یہ سمجھا جائے کہ اصولی، نظریاتی سیاست کا خاتمہ ہوگیا۔ اور اب موقع پرستی، مفاد پرستی کے اس بورژوائی سیاسی حمام میں سب کے سب ننگے ہوگئے ہیں۔
اس لیے دوسری جانب یعنی تصویر کے دوسرے رُخ پر یہ تحریرہے کہ اس وقت ملک میں ایک اصولی، نظریاتی اور طبقاتی سیاست اور سیاسی قیادت کی جتنی ضرورت اب ہے، شائد پہلے کبھی نہیں تھی۔
1,110 total views, no views today


