اس وقت پا کستا ن کے اندر معمول کے حفا ظتی ٹیکہ جات کے حوا لے سے ملک بھر میں کئی ایک مسائل کا سامنا کر نا پڑ رہا ہے،پانچ سا ل سے کم عمر کے بچو ں کے لے ملک بھر میں حفا ظتی ٹیکہ جات کے تو سیعی پر و گر ام و یکسی نیشن کا عمل جا ری ہے۔ تاہم یہ عمل تا حال کا میا ب نہ ہو سکا۔ اس حوا لے سے پولیو، خناق، تپ دق، کالی کھا نسی، خسرہ، تشنج، ٹی بی، ہیپاٹائٹس شا مل ہے۔ تاہم عالمی ادارۂ صحت اور اقوا م متحدہ کے بچوں کے ادارے یونیسیف کو اس عمل کی کامیابی کے حوالے سے کئی ایک مشکلات کا سا منا کرنا پڑ رہا ہے۔جس میں سے کئی ایک در جہ ذ یل ہیں۔
دور دراز علاقو ں میں سا ما ن کا بر و قت نہ پہنچنا:۔ پا کستا ن کے قبا ئلی علاقہ جا ت، شما لی علا قہ جات اور دوسر ے علاقوں میں سب سے بڑا مسئلہ صحت اور خصو صاً بچو ں کے حفا ظتی ٹیکہ جا ت کا وقت پر نہ پہنچنا ہے،اکثر ان علا قو ں سٹر کو ں کی ابتر صو ر ت حا ل،ذرا ئع مو ا صلا ت بہتر نہ ہو نے کی و جہ سے ان علا قو ں کے اسپتا لو ں، بنیا دی مرا کز صحت اور علا قا ئی اسپتا لو ں میں و یکسین بر و وقت نہیں پہنچ پا رہی ،جس کی و جہ سے ان بیما ر یو ں کے خلا ف معمول اور معمول کے خلا ف مہما ت ناکام ہو جا تی ہے۔اسی طر ح قو می خزا نہ کو بھا ر ی نقصا ن پہنچ رہا ہے۔
تن خوا ہو ں کی عدم ادا ئیگی اور ملا ز متو ں کی عدم مستقلی:۔ اس وقت خیبر پختو ن خوا ہ خصو صاً اور پورے ملک میں عموماً لیڈی ہیلتھ و ر کرز،لیڈ ی ہیلتھ سپر وائزرز کی جا نب سے شد ید احتجاج د یکھنے میں آرہا ہے، جس کی و جہ سے معمو ل کے حفا ظتی ٹیکہ جات مہم کا میاب نہیں ہو پا رہی۔ ہزا ر وں ایل ایچ ویز اور ایل ایچ ایس کا مطا لبہ ہے کہ کئی ایک سا ل ملازمت کے با وجو د و ہ تا حا ل حکو متی مرا عا ت سے محروم ہے اور گز شتہ چھے ما ہ سے اُن کو نہ تو تن خوا ہیں مل ر ہی ہیں اور نہ اُن کی ملا ز مت کی کسی قسم کی گا ر نٹی ہے۔ مسلسل احتجاج اور ڈیو ٹیو ں سے با ئیکا ٹ کی و جہ سے برا ہ را ست معمو ل کی حفا ظتی ٹیکہ جا ت مہم متا ثر ہو ر ہی ہے اور وا لد ین کو وا پس ما یو س لو ٹنا پڑ تا ہے۔ حکومت نے تا حا ل لیڈی ہیلتھ و ر کرز ،لیڈ ی ہیلتھ سپر وایزر کی جا نب سے شد ید احتجاج کے با و جو دان کی ملا ز مت کی مستقلی یا پنشن د ینے کے مطا لبہ نہیں مانا۔
شعور کی کمی:۔ لو گو ں میں اس حو الے شعور کی کمی اور بعض مذ ہبی را ہ نماؤں کی جا نب سے یک طر فہ پر و پیگنڈ ہ بھی ان مہما ت کی کامیابی میں بڑی رکاوٹ ہے۔ اکثر لوگ مطالبہ کرتے ہیں کہ حکومت کی طر ف کسی قسم کا پیکیج۔ مرا عات ملنے کی صور ت میں و ہ بچو ں کو قطرے اوردوسر ے کو ر سز کروائیں گے۔ اس حو الے سے شعور کی کمی بہت بڑ ی رکاوٹ ہے۔ اس وقت تازہ تر ین حا لا ت یہ ہیں کہ صو با ئی حکو مت نے ان مہما ت کو کا میا ب بنا نے کے لے جید علما ء کر ام کی خدمات کا سہا را لیا ہے۔ ملک کی سب سے بڑی د ینی علمی در سگا ہ دا ر لعلو م حقا نیہ اکو ڑہ کی طر ف سے اس مہم کے حق میں فتویٰ کے بعد امکا ن ظا ہر کیا جا رہا ہے کہ مذ ہبی طو ر پر رو کا و ٹیں جلد ختم ہو جائیں گی۔ بعض حلقے تو یہ مطا لبہ کر رہے ہیں کہ حکو مت اور طا لبا ن کے درمیا ن حا لیہ مذ ا کرا ت میں پو لیو اور دوسر ے حفا ظتی ٹیکہ جات کے و ر کر ز کی جا نو ں کی حفا ظت کی یقینی بنانے کے حوا لے سے معا ہد ہ کیا جا ئے۔ تا ہم تاحا ل اس حوا لے سے کسی قسم کی پیش رفت نہیں ہو ر ہی۔ والدین میں حفاظتی ٹیکہ جات کی اہمیت کے حو الے سے شعور کی کمی اس مہم کو کامیاب بنا نے میں بڑ ی رکاوٹ ہے۔
منا سب درجہ حرا رت کا نہ ہو نا:۔ اس حو الے سے د یکھا جائے، تو پو ر ی ملک میں یہ مسئلہ سر اُٹھا رہا ہے۔ جتنے بھی حفا ظتی کو ر سز کی و یکسین ہے، اس ویکسین کی حفا ظت اور مطلو بہ مقا صد کے حصو ل اور زائد المیعاد ہونے سے بچا نے ایک مخصو ص در جہ حرارت میں ر کھا جا تا ہے۔ کو لڈ چینج درست طر یقے سے نہ ہو نے،ریفر یجر یٹر اور فر یز ر نہ ہو نے کی و جہ سے یہ و یکسین اپنی افاد یت کھو گد یتے ہے اور مہم شرو ع سمیت بچے قطر ے اور ٹیکہ جا ت تو پی لیتے ہے مگر ان کو رسز کے با و جو د و ہ ان بیما ر یو ں کا شکا ر ہو جا تے ہے ۔(جاری ہے)
1,034 total views, no views today


