روزنامہ نوائے وقت کے ’’سرراہے‘‘کالم میں بعض اوقات ہلکے پھلکے انداز میں ایسے ایسے تبصریں شامل کئے جاتے ہیں کہ انہیں پڑھ کر قاری نہ صرف ایک عجیب سی خوشی محسوس کرتے ہیں بلکہ وہی تبصریں ان کے دل و دماغ پر اثر کر بیٹھتے ہے ایسا ہی ایک تبصرہ جس میں معزز کالم نگار نے حرف ’’ج‘‘ سے شروع ہونے والے بعض عہدوں اور پیشوں کو چیڑ کر مجھ پر بھی ’’ج‘‘ کا جادو سر چڑھ کر بولنے لگا ۔اور میں نے بھی اس ’’ج کا جادو ‘‘ کے عنوان سے یہ مضمون لکھ کر قارئین کی خدمت میں پیش کرتا ہوں۔
’’ج‘‘ سے شروع ہونے والے بعض پیشے اور عہدے ایسے ہیں کہ اس سے اور ان سے کم از کم مجھے تو بے حد خوف اتا ہے اس لئے سب سے پہلے ’’ج‘‘سے شروع ہونے والا یہ مشہور و معروف منتر پڑھتا ہوں کہ ’’ جل تو جلال تو ہر بلا کو ٹال تو‘‘ یا ’’جل تو جلال تو ائی بلا کو ٹال تو ‘‘
تومعزز قارئین حرف ’’ج‘‘سے بلکہ ڈبل جیم سے جج بنتا ہے اور جج صاحبان سے میں اس لئے ڈرتا ہوں کہ ان سے تو خطرناک سے خطرناک ڈاکو، چور، لٹیرے اور سیاستدان تو کیا پولیس والے بھی ڈرتے ہیں حالانکہ پولیس کےء بارے میں مشہور ہے کہ وہ کسی سے بھی نہیں ڈرتے اس وجہ سے تو رات کو’’گشت‘‘ پر نکل جاتے ہیں، کیونکہ جج صاحبان اپ کو ’’ج‘‘ سے ’’جیل ‘‘ میں ’’ج‘‘ سے ’’جیلر ‘‘ کے حوالے کرنے کے علاوہ’’ج‘‘ سے جلاوطن بھی کرسکتے ہیں، اس وجہ سے کم از کم میں تو کسی جج کے بارے میں کوئی ایسی بات کرنے کی ’’جسارت‘‘ یا ’’جرات ‘‘ نہیں کرسکتا جس کی وجہ سے مجھ سے بھی یہ حضرات ناراض ہوسکتے ہیں، اور پھر ’’ج‘‘ سے تو ’’جسٹس‘‘ حضرات کا تو میرے پاس ’’ج‘‘ سے ’’جواب ‘‘ بھی نہیں ۔ اس طرح ’’ج‘‘ سے ’’جرنیل‘‘ بھی بنتا ہے جرنیل کا عہدہ تو جج سے بھی زیادہ تیز اور طاقتور ہوتا ہے کیونکہ جج تو ملزم کو صفائی کا موقع دینے کیلئے ملزم کے وکلاء کی طرف سے ’’ج‘‘ سے ’’جرح ‘‘ سنتے ہے مگر جرنیل کے پاس ججوں کی طرح تاریخوں پہ تاریخیں دینے کا وقت نہیں ہوتا بلکہ وہ تو موقع پر احکامات جاری کرتے ہیں ، کہ وہ اس وقت ’’ج‘‘ سے جہاز میں سوار ہو یا ’’ج‘‘سے جہاں بھی ہوں، مگر اپنی ٹریننگ اور تربیت کے لحاظ سے وہ ’’ج‘‘ سے ’’جلدی ‘‘ اور ’’ج ‘‘ سے جنگی بنیادوں پر نبرد ازما ہوتے ہیں اور اس سلسلے میں وہ ’’ج‘‘سے ’’جان‘‘ کی پرواہ بھی نہیں کرتے، جنرل پرویز مشرف نے تو امریکی صدر کی ٹیلی فون سن کر ’’ج‘‘ سے اتنی’’ جلدی‘‘ میں فیصلہ کرلیا تھا کہ وہی فیصلہ ان کیلئے بلکہ پورے قوم کیلئے ’’ج‘‘ سے’’ جہنم ‘‘ بن چکا ہے ، ’’ج‘‘ سے جرنلسٹ بھی بنتا ہے ، جرنلسٹ صحافی کو کہتے ہیں جرنلسٹ بھی باتوں اور قلم کے ذریعے اس قدر تیز ہوتا ہے کہ کوئی بھی باتونی سے باتونی شخص ان کے سامنے ’’ج‘‘ سے ’’جواب ‘‘ کے نہیں ہوتا ،اور وہ اس لئے کہ وہ ’’ج‘‘ سے ’’جان ‘‘کی بجائے ’’ج‘‘سے ’’جہان‘‘ کے غم میں مبتلا رہتے ہیں، خود اگر ’’ج‘‘ سے ’’جوار‘‘ کی روٹی کھاتے ہیں تو دوسروں کیلئے ’’ج‘‘ سے ’’جنت ‘‘ کی نعمتیں لانے کی کوشش میں مگن رہتے ہیں ، خود ’’ج‘‘ سے’’ جھکنے ‘‘ کی عادی نہیں ہوتے اس وجہ سے دوسروں کو بھی ’’ج‘‘ سے ’’جگانے ‘‘ کی تگ و دو میں ’’ج‘‘ سے ’’جلی کٹی کھانے پر مجبور ہوتے ہیں۔
’’ج‘‘ سے ’’جوان‘‘ ’’ج‘‘ سے ’’جاب‘‘ اور ’’ج‘‘ سے ’’جانان‘‘ ۔۔۔یہ تینوں ایسی چیزیں ہیں جو ایک دوسرے کے بغیر ادھوری سی لگتی ہیں یعنی اج کل کے جوان زیادہ تر جاب اور جانان کے چکر میں پڑے رہتے ہیں جاب اگر انہیں ملے یا نہ ملے مگر جانان کی تصویر تو انہیں ہر پرائی لڑکی کی انکھوں میں دکھائی دیتی ہے،بعض نوجوان تو اس قدر خوش نصیب ہوتے ہیں کہ انہیں ایک ہی چھت کے نیچھے جاب اور جانان دونوں مل جاتے ہیں اور وہ اس طرح کہ اب بیشتر سرکاری وپرائیویٹ اداروں میں لڑکے اور لڑکیاں مشترکہ جاب کرتی یا کرتے ہیں میرے خیال میں حکومت ا ور پرائیویٹ اداروں کے مالکان نے ایک سوچھے سمجھے منصوبے کے تحت اس مغربی طرز پر ’’مخلوط‘‘ نظام نافذ کیا ہے کیونکہ جن اداروں میں لڑکے اور لڑکیاں مشترکہ جاب کرتی یا کرتے ہیں تو وہاں نہ صرف صبح حاضری مقررہ وقت سے پہلے ہوتی ہے بلکہ اکثر ااوقات چھٹی بھی مقررہ اوقات کے بعد کی جاتی ہے اس مخلوط نظام کا ایک فائدہ اور بھی ہے اور وہ کہ ان اداروں میں کام کرنے والے نوجوان ملازمین چھٹیاں بھی زیادہ نہیں کرتے ، لازمی نہیں کہ ہر ادارہ میں کام کرنے والے لڑکیاں اور لڑکے ایک دوسرے کو جان اور جانان کی نظر سے دیکھتے ہونگے ، مگر مخالف جنس میں کشش اس قدر ہوتی ہے کہ اس کی تصدیق اب ’’سائنس‘‘ نے بھی کی ہے ۔مگر ایک بات اور بھی بتاتا چلوں کہ جس جوان کو کوئی جوان لڑکی ’’ج‘‘ سے ’’جوتا‘‘ دکھادے تو پھر وہ ایسا دوڑتا ہے ہے جیسا کہ انہوں نے ’’ج‘‘ سے ’’جلاب‘‘کیا ہو ، جلاب کرنے کیلئے ’’جاڑ ‘‘ کھانی پڑتی ہے اور یہ جاڑ تو حکیموں سے ملتی ہے اور یا پرائی عورتوں سے ، ’’ج‘‘ سے جیل ، جیل ایسا جگہ ہوتی ہے جہاں ’’ج‘‘ سے جیلر حکمران ہوتا ہے اردو کا یہ مشہور ضرب المثل تو اپ نے سنا ہوگا کہ ’’جس کی لاٹھی اس کی بھینس ‘‘ اور جیل کی لاٹھی جیلر کی ہاتھ میں ہوتی ہے اس وجہ سے اب یہ ان کی مرضی ہوتی ہے کہ قیدی سے کونسا ’’ج‘‘ سے جانور بنادیتے ہیں۔’’ج‘‘ سے جنگل ، جنگل ایک ایسی جگہ ہوتی ہے جہاں جنگل کا قانون چلتا ہے مگر جنگل میں قانون بنانے کیلئے کوئی اسمبلی یا سینٹ نہیں ہوتی جس میں ’’گیڈر، لومڑی، شیر، کتا، سانپ، گینڈے، اور بھیڑئے وغیرہ اکٹھے ہوکر قانون بنائے ، بلکہ جنگل کے قانون میں جنگل کا بادشا تک ترمیم نہیں کرسکتا، وہاں ازل ہی سے فطری قوانین کی پاسداری ہورہی ہے اور ابد تک جاری رہیگی، بشرط یہ کہ مغربی’’ جمہوریت ‘‘وہاں پروان نہ چڑھ سکیں، اس وجہ سے تو جنگل میں ’’ج‘‘ سے ’’جلوس ‘‘ نکلتے ہیں اورنہ ’’ج‘‘ سے ’’جلسے ‘‘منعقد کئے جاتے ہیں، بلکہ ہر جانور کو جنگل میں انکا مناسب ’’ج‘‘ سے ’’جائیز ‘‘ مقام حاصل ہوتا ہے ، ’’ج‘‘ سے ’’جوڑی ‘‘ جوڑی ہر دو مخالف جنسوں کی ہوتی ہے مگر ان تمام میں ماسوائے انسان ’’اشرف المخلوقات ‘‘ کے ہر ایک اپنی جوڑی تک محدود رہتے ہیں اور اشرف المخلوقات ہی وہ واحد جانور ہے جو جانوروں کی جوڑیاں تو کیا اپنے ہم جنس کو بھی جوڑی بنانے میں عار محسوس نہیں کرتے ، پچھلے برس اسلام اباد میں ہم جنس پرستوں کے اجلاس نے تو اب اسے قانونی شکل دینے کی کوشش شروع کی ہے ’’ج‘‘ سے ’’جواء‘‘جواء ایک ایسا کھیل ہے جو کہ زیادہ تر سماجی برائیوں کی ’’ج‘‘ سے ’’جڑ ‘‘ ہوتی ہے اور اس کھیل میں جواء باز ’’ج‘‘ سے اپنی جسموں تک کو بھی ہار دیتے ہیں ، مگر اس میں ’’ج ‘‘ سے ’’جیت ‘‘ بہت کم ہوتی ہے۔ ’’ج ‘‘ سے ’’جرم ‘‘ جرم ۔۔۔جرم ہوتا ہے ،خواہ جرم چھوٹا ہو یا بڑا۔۔اور جرم کرنے والے کو مجرم کہتے ہیں اس لئے جرم کرنے والے کو ’’ج‘‘ سے جیل جانے کے علاوہ ’’ج‘‘ سے جرمانہ بھی کیا جاتا ہے ،اور جرم کی ’’ج ‘‘ سے جراثیم اب اس قدر خطرناک صورت حال اختیا کرگئے ہیں کہ اب جرم کرنے والے جرم کو سرے سے جرم تسلیم ہی نہیں کرتے بلکہ الٹااس پر فخر بھی کرتے ہیں، کیونکہ اکثر دیکھنے میں ایا ہے کہ بڑے جرائم کرنے والے وی ائی پی بن جاتے ہیں اور انہیں جیلوں میں اے کلاس کا درجہ دیا جاتا ہے جبکہ چھوٹے ملزم کو جیل میں بھی کم جرم کی سزا کی طور پر مشقت کرنا پڑتا ہے، جو کہ نہایت خطرناک بات ہے، ’’ج ‘‘ سے جن ۔۔’’ج‘‘ سے جنات ۔۔اور جنات زیادہ تر خواتین کو متاثر کرتی ہیں ۔۔معلوم نہیں کہ اشرف المخلوقات کی طرح اب یہ جن اور جنات بھی صنف نازک سے کھیلنے کی عادی ہوگئے ہیں اور یا کوئی اور بات ہے ،’’ج‘‘ سے جادو ۔۔جادو کا اثر بھی جن اور جنات کی طرح زیادہ تر خواتین پر ہوتا ہے ، اس وجہ سے تو مرد ماہر جنات ہی خواتین کے جنات کو کنٹرول کرتے ہیں میں نے اج تک کسی خاتون ماہر جنات کو نہیں دیکھا اس کی وجہ سے شائد یہ ہو کہ مردوں پر جنات نے اج تک قبضہ نہیں کیا۔۔یا مرد حضرات اپنے ’’جن ‘‘کو کنٹرول کرنے کا منتر جانتا ہے ، ’’ج‘‘ سے جھونپڑی ۔۔جھونپڑی ایسی جگہ کو کہلاتی ہے جہاں بسنے والے زیادہ تر کسمپرسی کی زندگی بسر کرتے ہیں ۔۔۔۔مگر اج کل بعض نو دولتیوں اور بعض سیاستدانوں نے اپنے بڑے بڑے بنگلوں اور کوٹیوں پر ’’جونگڑہ ‘‘ یا ’’جھونپڑی ‘‘لکھ دیا ہوتا ہے جس کے بارے میں کم از کم مجھے تو کوئی علم نہیں، ’’ج‘‘ سے جھوٹ ۔۔۔جھوٹ ہی ایک ایسا جرم ہے جس کیلئے ہمارے عدالتوں میں کوئی سزا نہیں اس وجہ سے تو لوگ عدالتوں میں سچی گواہی دینے کے بجائے جھوٹی گواہی دینے کیلئے بڑے جوانمردی اور بلا خوف و خطر جاتے ہیں، جھوٹے گواہ اگر ناکام بھی ہوا تو اس کیلئے کوئی سزا نہیں۔۔ اسی طرح جھوٹے دعوے کرنے والوں کیلئے بھی کوئی سزا نہیں ۔۔اگر متاثرہ شخص ہتک عزت کا دعویٰ کریں تو یہ الگ بات ہے، کہاں جاتا ہے کہ جھوٹ کی پاؤں نہیں ہوتی مگر پھر بھی جھوٹ جس تیزی کے ساتھ اج کل سفر کررہا ہے اس طرح سچ نہیں ۔’’ج ‘‘ سے جنون ۔۔جنون کی حدتک تو قیس پہنچ چکا تھا اب قیس کو ہر کوئی مجنون نام سے پہچانتے ہیں قیس نے لیلیٰ کی عشق میں شہر چھوڑ کر صحرا کا رخ کیا تھا مگر اج کل عشق کا کھیل کھلینے والے پرانے زمانے کی مجنون کی طرح حالت نہیں بناتے بلکہ کسی نٹ کیفی یا پی سی او میں جاکر ’’لیلیٰ ‘‘ سے براہ راست مخاطب ہوتے ہیں اور اب تو موبائل نے یہ قصہ مزید اسان کردیا،کہ فیس بُک پر لیلیٰ مجنون کا کھیل اسانی سے کھیلا جاتا ہے ، لیلیٰ اور مجنون تو انتہائی تنگ نظر تھے وہ عشق کا کھیل انفرادی طورپر کھیلتے تھے اج کا جنون گروپ انتہائی وسعت النظر ہے وہ بیک وقت اپنے گاؤں شہر اور ملک کے علاوہ بیرونی ممالک میں بھی اپنی جنونیت کے مظاہرے کرکے اسے پاکستانی ثقافت کا نام دے رہے ہیں جس پر ہمیں سوچھنا چاہیئے ۔
2,251 total views, no views today


