عالمی سطح پر مقبول ترین تجربہ گاہ سوات کو سال ہا سال سے ایک یتیم ضلع کا درجہ حاصل ہے۔ اس کا کوئی والی وارث ہے نہ کوئی پرسان حال۔ شائد یہی وجہ ہے کہ سوات کے عوام نے ہر دفعہ عام انتخابات میں نئے لوگوں کو سامنے لایا۔ مگر وہی بات کہ ہر نیا برسر اقتدار آنے والا گزرنے والے سے بدتر ہی رہا۔
برسبیل تذکرہ، ایک واقعہ یاد آیا۔ کہتے ہیں کہ کسی علاقے میں جب کوئی مرتا، تو ایک کفن چور رات کے اندھیرے میں قبر کھود کر مردے کا کفن چرایا کرتا تھا۔ اس طرح ایک دن کفن چور کا آخری وقت آیا۔ اس نے اپنے جگر گوشے کو پاس بلایا اور اسے کہا کہ میں بہت گنہگار ہوں۔ میرے مرنے کے بعد لوگ مجھے بد دعائیں دیں گے، تو میرے مرنے کے بعد کوئی ایسا عمل کر کہ لوگ مجھے دعائیں دینے لگیں۔ برخوردار نے جواباً کہا کہ بے فکر رہیں۔ کفن چور گزر گیا۔ کچھ ہی دن بعد لوگوں نے ایک عجیب منظر دیکھا۔ ایک قبر کھودی گئی تھی، جس میں پڑے مردے کی نہ صرف کفن چوری کی گئی تھی بلکہ اس کی بے حرمتی بھی کی گئی تھی۔ علاقہ کے لوگوں نے کہا کہ اس سے پہلے جو کفن چور تھا، اللہ اسے کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے، وہ تو صرف کفن ہی چوری کرتا تھا، جب کہ اس نئے چور کا بیڑا غرق ہو۔ یہ تو نہ صرف کفن چوری کرتا ہے بلکہ ہمارے مردوں کی بے حرمتی بھی کرتا ہے۔
قارئین کرام! آپ ہی کہیے، کیا ہمارے سیاست دانوں کی روش محولہ بالا کفن چوروں سے مختلف ہے؟ ایک انجینئر امیر مقام ہی ہیں، جو اس علاقے کی تقدیر بدل سکتے ہیں مگر قربان جاؤں اہل سوات کے جنھوں نے ایسے لوگوں کو منتخب کیا جو دودھ پیتے بچے ہیں۔ اس غلطی کا ازالہ آنے والے دس سالوں میں بھی نہ ہوسکے گا۔ چلئے، تفنن طبع کے لیے ایک لطیفہ سن لیجیے۔ کہتے ہیں کہ ایک سردار روزانہ کیلے کے چھلکے پر پھسلتا تھا۔ ایک روز وہ جیسے ہی گھر سے نکلا راستے کے بیچوں بیچ کسی نے کیلے کا چھلکا ڈالا تھا۔ سردار جی نے ماتھا پیٹتے ہوئے کہا کہ آج پھر پھسلنا پڑے گا۔ کچھ یہی صورت حال ہم سواتیوں کی ہے۔ ہر بار ہمیں کیلے کے چھلکے پر ہی پھسلنا پڑتا ہے۔ پتہ نہیں ہم میں شعور کب بیدار ہوگا، ہم کب اپنی مٹی کا سوچیں گے، اس جنت نظیر وادی کی مشکلات کے خاتمے کے لیے صحیح لوگوں کو کب منتخب کریں گے اور یہاں کے عوام کی مشکلات کے خاتمے کے لیے اپنا اپنا کردار کب ادا کریں گے؟ ان سوالوں کا جواب میری طرح کسی کے ساتھ بھی نہیں ہوگا۔
قارئین کرام! میں اکثر سوات کی نمائندگی کرتے ہوئے الیکٹرانک میڈیا پر ببانگ دہل کہتا ہوں کہ ’’بہتے دریا، گھنے جنگلات، برف سے ڈھکے پہاڑ اور گنگناتے آب شاروں کی سرزمین سوات۔‘‘ لیکن افسوس کہ میں یہ کہتے ہوئے بڑا دکھی ہوتا ہوں کہ ان تمام نعمتوں کے ہوتے ہوئے سڑکیں کھنڈرات، گند سے بھرا خوڑ، آلودہ بازار، بدبو دار پانی ،گیس، بجلی نہ پانی، جیسے سوات باقی ماندہ پاکستان کا حصہ ہی نہ ہو۔ ریاستی دور میں جب کوئی سیاح سوات آتا، تو وہ واپس جاکر لوگوں کو سوات کے قصے سناتا۔ لوگوں کی خواہش ہوتی کہ کاش! مرنے سے پہلے ایک بار سوات ہو آؤں۔ لیکن اب صورت حال یک سر مختلف ہے۔ اب سیاح واپس جا کر اپنے لوگوں کو کہتے ہیں کہ بھئی، سوات جا کر کیا کرنا، وہاں تو سیاحوں کے لیے سہولتیں نہیں ہیں۔ سڑکیں خستہ حال ہیں۔ اگر کسی کی شامت آئی ہو، وہی سوات ہو آئے۔
جب ہمارے ممبران خود اپنے علاقے کو چھوڑ کر اسلام آباد اور پشاور جیسے بڑے شہروں کے مزے لوٹنے میں مصروف ہوں، تو سوات کا تو یہی حال ہوگا ہی۔ صرف فضل حکیم اور سلیم الرحمان نظر آتے ہیں، باقی ماندہ تو ایسے غائب ہیں جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔ بلا مبالغہ، اہل سوات تو بیش تر کا چہرہ تک بھول گئے ہیں۔ اگر آپ صاحبان اپنے درشن کرائیں، تو اہل سوات ممنون احسان ہوں گے۔ پچھلی بار تو اہل سوات نے اپنے ہی ایک ایم این اے کی گم شدگی کا اشتہار تک اخبارات میں چھاپا تھا۔
میں بہک کر کہاں نکل گیا۔ بات سوات کی سڑکوں کی ہو رہی تھی۔ تو مینگورہ میں جی ٹی روڈ،فضا گٹ،گل کدہ،جناز گاہ، ملوک آباد،گنبد میرہ یہاں تک کہ سیاحتی علاقوں ملم جبہ، کالام، بحرین، مٹہ تک کون سی ایسی سڑک ہے جس کی میں مثال دوں اور فخر سے کہوں کہ یہاں سیاحت پروان چڑھ سکتی ہے۔ درگئی سے کالام اور کانجو سے مدین تک ایکسپریس وے کے اعلانات کا اٹھارہ لاکھ عوام اب تک انتظار کر رہے ہیں۔ کیا یہ وعدے سیاسی وعدوں کا روپ دھار کر کبھی وفا نہ ہوسکیں گے؟
قارئین کرام! اب تو ہمارے چہیتے ممبران اسمبلی کی شادیاں بھی پشاور میں ہو رہی ہیں۔ اب انھیں سوات کا رخ کرتے ہوئے شرمندگی محسوس ہوتی ہے۔ وہ اس ’’بیک ورڈ‘‘ علاقہ میں آنا اپنی شان کے خلاف سمجھتے ہیں۔ وہ یہاں کی خستہ حال سڑکوں پر دوڑتے ہوئے اپنی قیمتی گاڑیوں کا کباڑہ نہیں کرنا چاہتے۔ آج کا دن ان کا ہے، مگر کل جب یہ ووٹ مانگنے دست سوال دراز کریں گے، تبھی بات ہوگی۔
تبدیلی کے نام پر ووٹ لینے والے پارٹی کے قائد عمران خان تو جانتے ہی ہیں کہ بیرونی ممالک میں سیاحت کے فروغ کے لیے کیا کیا اقدام کیے جاتے ہیں۔ اس کا جو مشن ہے، اس میں زیادہ تر بیرونی ممالک طرز کی پالیسیاں ہیں۔ عمران خان صاحب تاجکستان تو گئے ہی ہوں گے۔ وہاں پر ’’بیلادر سائی‘‘ (ہمارے موضع کوکارئ کی طرح علاقہ ہے) کی ترقی کے لیے جو اقدام کیے گئے ہیں، ایک گھنٹے کی مسافت کا چیئر لفٹ، دو رویہ سڑکیں اور نہ جانے کیا کیا ہے، جو سیاحوں کی سہولت کے لیے مہیا نہیں کیا گیا ہے۔ اور ایک ہم بد قسمت لوگ ہیں، جہاں ملم جبہ اور کالام ،مہوڈھنڈ جیسے علاقوں کی سڑکیں کھنڈارات کا نمونہ پیش کرتی ہیں۔
دہشت گردی کی جنگ میں قربانیاں دینے والے عوام اور ہمارے حکم رانوں کے لیے سونے کی چڑیا کی حیثیت رکھنے والے علاقہ سوات میں عوام آج بھی یومیہ اجرت پر کام کرنے کے لیے زندگی خوار کرنے پر مجبور ہیں۔ملم جبہ میں تباہ شدہ پی ٹی ڈی سی موٹل تاحال حکم رانوں کی توجہ کا منتظر ہے۔ وہاں کے چیئر لفٹ تین سالوں سے اسٹریا میں پڑے پڑے ناکارہ ہو رہے ہیں، لیکن ہمارے حکم رانوں کے پاس انھیں لانے کے لیے پیسے نہیں ہیں۔ سوات میں واٹر پارک، تفریحی پارکوں اور انھیں ٹوورسٹ اسپاٹس بنانے کے وعدوں سے عوام کا اعتبار اٹھ چکا ہے۔ کیوں کہ دہشت گردی کے بعد یہاں پر ہمارے حکم رانوں نے کون سا تیر مارا ہے؟ اسکول یو ا ے ای حکومت، پولیس اسٹیشن یو ایس اے حکومت، آثار قدیمہ اٹلی حکومت، ہوٹل کی بہ حالی امریکی حکومت اور دیگر کام یا تو سعودیہ یا پھر یورپی یونین اور دیگر ممالک نے کیے ہیں۔ کالام روڈ مشرف کے دور سے آج تک اعلانات کی بھینٹ چڑھ رہا ہے اور ہمارے ممبران کا جواب نہیں، وہ بھی خاموش اور لاپتہ ہیں۔
قارئین کرام! میرے پاس ایک تجویز ہے اگر ہم سڑکوں کی بہ حالی کے لیے چندہ اکھٹا کرلیں، تو تبھی کچھ ہوگا، ورنہ ہمارے سیاست دان تو داغ دہلوی کے بہ قول
حضرت داغ جہاں بیٹھ گئے، بیٹھ گئے
جب کہ میرا کہنا ہے کہ
حضرت داغ جہاں بیٹھ گئے، ’’لیٹ‘‘ گئے
1,410 total views, no views today


