کالام،گورنمنٹ پرائمری سکول اوشو کے بچے 7سالوں سے کھلے آسمان تلے تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں منہدم بلڈنگ کی تعمیر نہ ہونے کی وجہ سے درجنوں بچے تعلیم کو خیرباد کہہ چکے ہیں متعلقہ حکام کو بار بارتوجہ دلانے پر بھی کوئی شنوائی نہیں ہورہی ہے۔ علاقہ عمائدین ڈاکٹر حکیم اوشو اور دیگر نے عمارت پر فوری کام شروع نہ کرنے کی صورت میں ڈی سی آفس کے سامنے احتجاج کی دھمکی دیدی.2006میں برفانی گلیشئر گرنے کی وجہ سے گورنمنٹ پرائمری سکول اوشو کی بلڈنگ مکمل طور پر منہدم ہوگئی تھی
جس کے بعد متعلقہ سکول کے بچوں کو گرلز پرائمری سکول اوشو میں عارضی طور پر پڑھائی کا اہتمام کیا گیا تھا کچھ عرصہ وہاں پڑھائی کے بعد اب گرلز سکول انتظامیہ نے ان بچوں کو وہاں سے بے دخل کیا ہے جس کی وجہ سے اب پرائمری سکول اوشو کے 3سو سے زائد بچے کھلے اسمان تلے پڑھائی پر مجبور ہیں اس سلسلے میں گزشتہ دن اوشو عوام کا بڑا جرگہ جامع مسجد اوشومیں منعقد ہوا جس میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا اور صوبائی وزیر تعلیم سمیت دیگر اعلیٰ حکام سے بچوں کی مستقبل بچانے کے لیے سکول کی منہدم عمارت کو فوری طور پرتعمیرکرانے کا مطالبہ کیا بصورت دیگر احتجاج کی کال دینے کا فیصلہ کیا ہے ۔
513 total views, no views today


