یحییٰ خان کا زمانہ قدرت اللہ شہابؔ کے کرب و بلا کا دور تھا۔ وہ لندن میں پناہ گزین تھے۔ یونیسکو سے ایک سو ڈالر ماہ وار ملتے تھے۔ اسی پر گزارہ تھا۔ پنشن ضبط ہوچکی تھی۔ وفا شعار بیگم اور ایک بچے کے ساتھ فاقوں کا دور بھی آیا۔ اسی فاقہ کشی نے بیگم کو نڈھال کردیا اور وہ ثاقب شہاب کی شکل میں یادگار چھوڑ کر خالق حقیقی سے جاملیں۔ اسی دوران میں شہاب صاحب نے اسرائیل کا خفیہ دورہ کیا، جس کا اہتمام مصر کے صدر جمال ناصر کی مدد سے ممکن ہوا تھا۔ اسرائیل میں اپنے دس روزہ قیام کے دوران میں وہ ایک پل نہ سوئے کہ مبادہ وہ نیند کے سبب اپنا فرضی نام اور کوڈ بھول جائیں۔ ہر وقت بیدار رکھنے والے کیپسول کے علاوہ ایک گولی بھی تھی جو راز افشا ہوجانے کے خطرے سے نگلنی تھی، تاکہ زندہ نہ پکڑے جاسکیں۔ ایک رات مسجد اقصیٰ میں گزاری۔ کیمرہ کی مدد سے جو سگارلائٹر میں فٹ تھا، نوسو تصاویر لینے میں کام یاب ہوئے۔ واپس آکر رپورٹ مرتب کی، تو تہلکہ مچ گیا۔ یحییٰ خان کو علم ہوا تو وہ سیخ پا ہوگیا اور سفیر کی معرفت جواب طلبی کی۔
عرب ملکوں کے سفیر شہاب صاحب کے پاس پھول اور دیگر تحائف لے کر جاتے۔ پاکستان کا سفیر چارچ شیٹ لے کر گیا۔ یحییٰ خان کی سبک دوشی کے بعد وطن واپس لوٹے اور وزارتِ تعلیم میں افسر بکار خاص متعین ہوئے۔ 1975ء میں م ب خالد صاحب (کتاب کے مصنف) آر سی ڈی سے واپس پاکستان آئے، تو انھی کی وجہ سے شہاب صاحب کی پوسٹنگ بھی اُسی وزارت میں ہوگئی۔ ریٹائرمنٹ کے سال ڈیڑھ بعد شہاب صاحب نے داڑھی رکھی اور بے نقاب ہوگئے۔ ورنہ نظر نہ آنے والی داڑھی تو اُس وقت بھی تھی، جب 1954ء میں پہلی مرتبہ ایوان صدر میں داخل ہوئے تھے۔
ان کی وفات سے کچھ روز پہلے م ب خالد صاحب خدمت میں حاضر ہوئے۔ اس دن بہت خوش تھے۔ ثاقب شہاب نے پنجاب یونی ورسٹی کے ایم بی بی ایس کے امتحان میں اول پوزیشن حاصل کی تھی۔ کہنے لگے ریڈیو پاکستان نے امیر خسرو پر تقریر کروائی ہے۔ تمھارے پاس خسرو پر کتابیں ہیں، ڈھونڈ رکھنا۔ ثاقب سے کہا جاکر لے آنا۔ کتابیں ڈھونڈ کر رکھیں۔ مگر ثاقب اب کس کے لیے لے کر جاتا۔ وہ تو خود جاچکے تھے ہمیشہ کے لیے
جو بادہ کش تھے پرانے وہ اُٹھتے جاتے ہیں
کہیں سے آب بقائے دوام لا ساقی
نو اگست انیس سو ساٹھ عیسوی کو ابوالاثر حفیظ جالندھری نے شہاب صاحب کے نام ذاتی خط لکھا تھا۔ جو کچھ یوں ہے۔
شہاب جی!
میرا ایک پرانا شعر ہے
ہر ایک قدم پر ہے جہاں خندۂ تقدیر
تدبیر گزرتی ہے اُسی راہ گزر سے
اور آج پھر
خلاف تقدیر کر رہا ہوں
پھر ایک تقصیر کر رہا ہوں
پھر ایک تدبیر کررہا ہوں۔ خدا اگر کامیاب کردے اور وہ پُر تقصیرتدبیر یہ ہے کہ آپ کو لکھ رہا ہوں۔ ایف آر پھر فوج میں چلے گئے۔ میں زخمی سپاہی ہوں اور سچ یہ ہے کہ اس حادثے کے بعد نوموجود سا ہوں۔
اب آپ بتاسکتے ہیں
کسی اُمید پر زندہ رہوں یا کٹ کے مرجاؤں
وہ کیا کہتے ہیں اے قاصد وہ کیا ارشاد کرتے ہیں
حفیظ۔
ایک دوسرا خط ہے۔
برادرم قدرت اللہ شہاب، اسلام علیکم
جس رات آپ گئے۔ وہ دن آپ کے پیچھے پیچھے بھاگنے اور آخر نہ پانے پر ختم ہوا۔ اب
صبح ہوتی ہے شام ہوتی ہے
عمر یوں ہی تمام ہوتی ہے
صبح نماز کے بغیر تمھارا چہرہ میرے لیے صبح صادق ہوا کرتا تھا۔ سورج چاہے نہ چاہے پر سورج سے روشنی پانے والے دور کے دیدار ہی سے خوش ہونے کے لیے آنکھوں کے ٹھیکرے لیے پھرنے کے لیے مجبور ہیں۔ بہ ہر صورت اب یہ ٹھیکرے بے کار معلوم ہوتے ہیں۔ مجھے معلوم نہ تھا کہ آپ ایسے کٹھن کٹھور بھی ہوسکتے ہیں، مجھے آپ کی پہلی ملاقات یا آپ کے چہرے پر اپنی پہلی نگاہ بار باد یاد آتی ہے۔ اس اُفتاد نے مجھے تو کہیں کا نہیں رکھا۔ مجھے کیا خبر تھی کہ اظہار محبت ایسے مرد مطلق سے بھی نہیں کرنا چاہیے۔ آج اپنا نہیں غالب کا شعر پڑھ رہا ہوں۔
ہم ہیں مشتاق اور وہ بیزار
یا الٰہی یہ ماجرا کیا ہے
کیا آپ کے پاس ہے کوئی جواب میری اس وحشت کا؟ کیا آپ کو اس بات کا کبھی اندازہ ہوسکتا ہے کہ میری صبح ہر روز کس طرح شام ہوجاتی ہے۔ صرف ایک وجود ایسا نظر آیا تھا کہ اب اس آخری مرحلے پر آس بن کے جینا یا جیتے چلے جانا بھلا معلوم ہوتا تھا۔ کاش آپ منھ سے ایک مرتبہ کہہ دیتے کہ حفیظ صاحب تشریف نہ لایا کیجیے۔ اس سے میرا بھلا ہوجاتا کہ ساری دنیا کے انسانوں سے جس طرح رشتہ ٹوٹ گیا تھا۔ تم سے بھی ٹوٹ جاتا۔ اور میں سیدھا اللہ میاں سے رشتہ باندھ لیتا۔ یہ شکوہ نہیں ہنستے ہنستے رونا رو رہا ہوں۔
یہ میں بخار کی حالت میں لیٹا ہوا لکھ رہا ہوں۔ ایک سو تین کے عالم میں خدا کے بعد تم یاد آئے، یہ لغویات لکھ دیں۔ حفیظ۔
نوٹ: م۔ب۔ خالد کی کتاب ’’ایوان صدر میں سولہ سال‘‘ سے ماخوذ
2,020 total views, no views today


