جس کا بھی اخباری بیان دیکھو، جسے بھی ٹی وی انٹرویو یا کسی بھی فورم پر اظہار خیال کا موقع ملتا ہے، سب یہی دعوی کرتے ہیں کہ ’’ہم عوام کی تقدیر بدل دیں گے۔‘‘ بلکہ جوش خطابت میں اس سے بھی بڑا تیر مار لیتے ہیں۔ سیدھے سادھے عوام پھر ان کی چکنی چپڑی باتوں کے سحر میں گرفتار ہو جاتے ہیں اور وہی کچھ کرتے ہیں جو وہ کرنا نہیں چاہتے، بلکہ یہ کہنا زیادہ بجا ہوگا کہ ان سے کروایا جاتا ہے۔ جی، اس میں شک نہیں کہ بہت سے لوگوں کی تقدیریں بدل گئی ہیں اور گدھے کی سواری کے بجائے اب وہ لمبی لمبی موٹر کاروں میں سفر کرتے ہیں، لیکن عام لوگوں کے مسائل آج بھی جوں کے توں ہیں۔ ان کے پیدائش والے حالات آج بھی ان سے چمٹے ہوئے ہیں اور تادم آخر رہیں گے۔ کیوں کہ یہ ہماری بہت بڑی خوش فہمی یا غلط فہمی ہوسکتی ہے۔ وسائل کی غلط تقسیم اس سے واضح طور پر سامنے آجاتی ہے۔ واضح ہے کہ وسائل موجود ہیں لیکن اس کی تقسیم منصفا نہ نہیں۔ ہم زندگی کو سر سری نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ہم زندگی کو گہرائی اور گیرائی سے نہیں دیکھتے بلکہ سر سری نگاہوں سے صرف اپنی ذاتی زندگی اور مفاد کو دیکھتے ہیں۔ اپنی تباہی کا سامان خود کرتے ہیں۔ ہمارے لیڈر بھی تو کوئی دودھ پیتے بچے نہیں۔ اب وہ خوب سمجھتے ہیں کہ کس کے ساتھ کیا کرنا ہے۔ جب تک ہمارے سیاسی راہ نما ٹھیکے داری کے بجائے کوئی دوسرا کام شروع نہیں کرتے، مسائل میں کمی نہیں آئے گی۔ یہ مسئلہ صرف شانگلہ کا نہیں بلکہ پورے صوبے میں تقریباً یہی مسئلہ ہے۔ بات ہم اپنے مسائل کی کر رہے تھے، یہ بیچ میں کہاں بہک کر نکل گئے۔ کیا ہمارے سیاسی زعماء ہمارے اور اس علاقے کے مسائل سے با خبر نہیں۔ انھیں بار بار نشان دہی کرانا ہوگی۔ شانگلہ کو مر کزی اور صوبائی حکومت میں بھر پورنمائندگی حاصل ہے۔ اب بہانے نہیں چلیں گے کہ میرے ساتھ اختیار نہیں ہے۔ شانگلہ کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ کون کتنا با اختیار ہے۔ خدرا، اس قوم پر رحم کیا جائے۔ اس میں چالاک اور عیار بھی ہوں گے مگر ان کی اکثریت انتہائی بھو لی بھالی اور معصوم قسم کی ہے۔ ان معصوم لوگوں کے نام پر بہت سارے عیار قسم کے لو گوں نے بہت سے فائدے اٹھائے ہیں۔ بلدیاتی انتخابات ہوں گے یا نہیں، لیکن تیاریوں کا آغاز غیرمحسوس انداز میں ہوچکا ہے۔ اب عوام کیا کریں گے؟ ضمیر کی آواز پر فیصلہ کریں گے یا پھر ان کی طاقت پائپ اور کھمبے کی نذر ہو جائے گی۔
غوربندجسے شانگلہ کا دل کہا جاتا ہے، میں بجلی کے صرف تار اور کھمبے تو موجود ہیں، پی ٹی سی ایل لائن جو کچھ سیلاب میں بہ گئی تھی اور کچھ چوری ہو کر فرخت ہو گئی، چار سالوں سے غور بند کے مکین ٹیلی فون کی سہولت سے محروم ہیں، ہمارے منتخب اور غیر منتخب سیاسی قائدین نے اس مسئلے کے حل کے سلسلے میں آج تک کیا کردار ادا کیا ہے؟ ہارنے والوں نے بھی تو ہزاروں ووٹ حاصل کیے تھے اور آئندہ بھی حاصل کریں گے، اگر یہی سیاست دان ایک تعمیری اپوزیشن کا کردار ادا کرتے، تو صاحبان اختیار اس سلسلے میں کم از کم اپنے حریفوں کے جواب میں اس کام کو ترجیحی بنیادوں پر کرنے کی کوشش کرتے، لیکن انھیں یہ بھی معلوم ہے کہ کام کرنے کا کریڈٹ تو پھر متعلقہ شخص کو جائے گا۔ ان کے خیال میں یہ ان کے لیے نقصان دہ ہوگا۔یہ باعث افسوس نہیں۔ ہماری تقدیربدلنے والے خود اپنی تقدیر بدلنے میں لگے ہوئے ہیں۔ آسمان سے تارے توڑ لانے کے دعوے دار یہ نہیں سمجھتے کہ جس کو زمین پر زندگی کی بنیادی سہولت میسر نہیں،جو زندگی کی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں، جن کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں، جو بالا دستوں کے زیر دست ہیں، جن کے بچے تعلیم جیسے بنیادی ضرورت سے محروم ہیں، جن کو زندگی میں سکھ کے بجائے دکھ مل رہے ہوں،جن کے بنیادی حقوق پر ڈاکا ڈالا جا رہا ہو، پھر بھی وہ ان شعبدہ بازوں کی شعبدہ بازی نہیں سمجھتے یا سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے۔ یہ لوگ صرف پیسے کے بل بوتے پر ہماری تقدیر کے ٹھیکے دار بنے ہوئے ہیں۔ اگر کوئی دوا نہیں بن سکتا، تو ہمارے زخموں پر نمک پاشی بھی نہ کرے۔
اب کی بار ضمنی انتخابات میں ہر ایک شعبدہ باز ایک بار پھر مجمع سجائے گا۔ ہر کوئی ڈگڈگی بجائے گا، بندریا نچائے گا، اپنی اپنی دوا بیچے گا اور ہم ایک بار پھر تالیاں بجا کر بے وقوف بن جائیں گے کہ ہم اسی لیے پیدا ہوئے ہیں۔کوئی ہماری تقدیر بدلنے والا نہیں بس سب اپنی اپنی تقدیر بدلنے میں مگن ہیں۔
1,028 total views, no views today


