پشاور کے ایک بڑے روزنامے کے اداریے (مشرق پشاور 16اپریل 2014ء) نے پی ڈی ایم اے میں ناجائز بھرتیوں پر اظہار خیال کیا ہے۔ اسے پڑھ کر یقیناًدکھ ہوا ہے کہ تحریک انصاف کے حکم ران جو اٹھتے بیٹھتے انصاف اور شفافیت کے لیے کوشاں نظر آتے ہیں، اُس دلدل سے اپنے آپ کو نہ بچاسکے، جس میں گزشتہ ادوار کے حکم ران عموماً گرتے رہے ہیں۔ سابقہ حکومت میں تو ملازمتوں کی خرید و فروخت کی خبریں عام تھیں۔ پھر کچھ ایسے واقعات بھی ریکارڈ پر آگئے، جنھوں نے ان خبروں کی اطلاع کو یقین میں تبدیل کر دیا۔ اس لیے اب بد عنوانی کی یہ خبر کافی پریشان کن ہے۔
جمہوری نظام حکم رانی میں اقتدار میں آنے کے لیے ووٹروں کی خوشامد کی جاتی ہے۔ اُن کے ساتھ وعدے وعید ہوتے ہیں اور عوام خصوصی طور پر پارٹی کارکن اس امید کے ساتھ سیاسی جماعتوں کے ساتھ محنت کرتے ہیں کہ کام یابی کی صورت میں اُن کا کچھ بھلا ہوگا۔ لیکن پاکستانی جیسے فاسد سرمایہ دارانہ بورژا معاشرے میں عام لوگوں کو کم ترین فوائد پہنچتے ہیں۔ کثیر فوائد امیر اور جاگیردار طبقہ لپیٹ لیتا ہے۔ پی ڈی ایم اے میں حکم رانوں کا یا اُن کے پیاروں کا ہاتھ مارنا غیر متوقع بات نہیں، لیکن ہمیں اُمید ہے تحریک انصاف کے بڑے اس گھپلے کا نوٹس لے کر اس کی اصلاح کردیں گے۔
اگرچہ پارٹی کارکنوں اور ووٹروں کی خواہشات کو پورا کرنا مقتدر پارٹی کے لیے ایک مشکل ترین کام ہوتا ہے اور خاص کر ہمارے جیسے معاشرے میں جہاں شیطان کی پیروی ہر خاص و عام کا معمول بن گیا ہو، یہ اور بھی مشکل ہوتا ہے۔ لیکن سمجھ داری اور اخلاص کے ساتھ اگر حکم ران لوگ کام کریں، تو نہ صرف پارٹی ورکروں کو مستفید کرواسکتے ہیں بلکہ عوام کی اچھی خاصی تعداد کو بھی خوش کرسکتے ہیں، لیکن بدقسمتی سے ہمارے یہاں دانش مندی کی جگہ جھوٹ کا سہارا لیا جاتا ہے۔ سن نوے کی دہائی میں پیپلز پارٹی نے اپنے ورکروں کو طریقۂ کار کے بر خلاف دفاتر وغیرہ میں کھپایا۔ اُس حکومت کے خاتمے پر غیر قانونی طریقے سے آنے والوں کو ملازمتوں سے ہٹایا گیا۔ زرداری سرکار (2008ء تا 2013ء) نے اُن کی بہ حالی کے لیے نہایت ہی بے ڈھنگی اور کئی قانونی اور قواعد کی پیچیدگیوں والا حکم جاری کیا، لیکن یہ لوگ بہ حال نہ ہوسکے۔ اگر زرداری وغیرہ چاہتے، تو عمدہ طریقے سے ان ورکروں کو کوئی اور جاب دلواسکتے تھے، لیکن ایسا نہ کیا گیا اور جھوٹ کا سہارا لے کر پارٹی ورکروں کو نہ صرف محرم رکھا گیا بلکہ اُن کے دلوں میں دوسری جماعتوں کے خلاف جذبات کو مضبوط کیا گیا۔ مولوی حضرات کی پانچ سالہ حکم رانی میں ڈیرہ والوں، بنوچیوں اور بنوں کے مزے ہوگئے تھے۔ پختون دوستوں کے دور میں مردان اور چارسدہ جو پہلے ہی سے پُربہار تھے، مزید بہار دکھانے لگے۔ ان سیاسی بھرتیوں میں عموماً دوسرے علاقوں کے باشندوں کو نظر انداز کیا جاتا ہے، جس سے نفرتیں بڑھ جاتی ہیں۔ اس لیے جب تحریک انصاف کا نعرہ بلند کیا گیا، تو عوام نے اس جماعت کا اتنا ساتھ دیا کہ پارٹی قیادت غیر سرحدی ہونے کے باوجود یہاں اُن کو حکومت بنوا کردی گئی۔ اب اس حکومت کے ما تحت بھرتیوں میں بے انصافی کی اطلاع یقیناًقابل افسوس ہے۔ ہمیں اُمید ہے عمران خان اور وزیراعلیٰ خٹک اس کا ازالہ کردیں گے۔
تحریک انصاف کی حکومت کو شفافیت کے لیے کوششوں کی ابتداء سول سیکرٹریٹ پشاور، وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور اور گورنر سیکرٹریٹ پشاور سے کرنے کی ضرورت ہے۔ یہاں کرپشن اور بدعنوانیاں دونوں موجود ہیں۔ کرپشن کوئی بھی ڈنکے کی چوٹ پر نہیں کرتا۔ یہ خفیہ واردات ہوتی ہے، لیکن مسائل نہ حل ہونا یا بڑھ جانا اس کا ثبوت ہوتا ہے کہ یا تو کرپشن ہورہی ہے اور یا بدعنوانی اور نا اہلیت موجود ہے۔ اس لیے خٹک سرکار کو اچھی حکم رانی کے لیے مزید محنت اور مسلسل محنت کرنی چاہیے۔ سب سے زیادہ محنت دفاتر سے نا اہل افسران کا بہ تدریج خاتمہ کرنا ہے۔ سیکرٹریٹ ہی کو ملاحظہ کریں، نہایت ہی ذہین، نکتہ دان، معاملہ فہم، اعلیٰ ادراک اور اعلیٰ منصوبہ سازوں کی ضرورت مند کرسیوں پر نہایت ہی کم زور لوگ بیٹھے ہیں۔ قواعد اور قوانین کچھ ایسے بنائے گئے ہیں کہ ان کرسیوں پر ہر بوڑھا بیٹھنے کا حق دار ہوتا ہے۔ یہی لوگ ایک طرف منتخب نمائندوں کی بدنامی اور ناکامی اور عوام کی مشکلات کا سبب ہوتے ہیں اور دوسری طرف وطن عزیز کو ترقئی معکوس کی راہ پر ڈالے ہوتے ہیں۔ اعلیٰ عہدوں کی عطائیگی کو صرف اور صرف مقابلے کے امتحان اور نفسیاتی تجزیے میں کام یاب نوجوانوں خواتین و حضرات کے لیے ہو۔ ملازمین کو اچھے گریڈوں کی عطائیگی سینیارٹی پر بغیر ذمے داریوں کی تبدیلی کے ملنے کا نیا طریقہ اختیار کرنا وقت کی ضرورت ہے۔
چند روز قبل سوات کے زنانہ آفیسر تعلیم نے زنانہ ہائی اسکولوں میں بھرتی کے لیے اشتہار چھپوایا، جس میں جونیئر کلرکوں کے ساتھ ساتھ جونیئر اسٹینو گرافروں کی آسامیاں بتائی گئی ہیں۔ یہ پڑھ کر حیرانی ہوئی کہ اسکولو ں میں اسٹینو گرافروں کے لیے کون سا کام ہے؟ ایک ہیڈ مسٹریس ایک روز میں کتنے خطوط باہر بھیجتی ہیں، جن کے لیے تیز رفتار املا (Dictation) دینے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ خوش خطی سیکرٹریٹ کے ’’ماہرین‘‘ نے کی ہے۔ پھر زنانہ اسکولوں میں زنانہ کلرکوں وغیرہ کی تعیناتی زیادہ قرین قیاس ہوتی، لیکن اشتہار اس پر خاموش ہے۔
پی ڈی ایم اے میں بے ضابطگیاں انھی کم زور اور نا اہل افراد کی وجہ سے ہوتی ہوں گی۔ اب بدنامی خٹک سرکار کی ہورہی ہے۔ جب تک صوبے میں خصوصاً اور ملک بھر میں عموماً نمبر دو بیوروکریٹس سے چھٹکارا نہیں پایا جاتا، اس ملک کا بحرانوں سے نکلنا ممکن نہیں۔ تحریک انصاف کی حکومت مؤثر قانون سازی کے ذریعے یہ فساد نہ صرف اس صوبے سے ختم کرسکتی ہے بلکہ باقی ماندہ ملک کے لیے اچھی مثال بھی قائم کرسکتی ہے۔
1,076 total views, no views today


