تحریر عبدا للہ مد نی
پا ک افغان سر حدی ضلع دیر کو قدر ت نے فلک بو س پہا ڑو ں ،دریا وں ،قدر تی چشمو ں سے نوا ز ا ہے اور یہاں پر سیا حت کی غر ض سے آنے وا لے سیا حو ں کے کشش کے لے بہت کچھ مو جو د ہے ، وا د ی لڑ م ،شا ہی بن شا ہی ،وا دی کمرا ٹ ،تھل ،لا مو تی ،شر ینگل اور وا دی تا لا ش جیسے مقا ما ت کی مو جو د گی ملک بھر کے سیا حو ں کو دعوت نظا رہ دے رہی ہے دہشت گر د ی اور سیلا ب کی تباہ کا ر یو ں سے متا ثر ہ ضلع لو ئیر دیر میں لو گوں کو تفر یح مہیا کر نے پا ک فو ج کے ز یر انتظام ’’سکا و ٹ گرا نڈ ،،بلا مبٹ میں 17اپر یل سے 20اپر یل 2014تک چار رو زہ دیر ثقا فتی میلہ (دیر کلچر فیسٹیو ل ) کا انعقا د کیا گیا جو کہ ہر لحا ظ سے ایک کا میاب کا و ش تھی ۔
چار رو زہ د یر کلچر فیسٹیو ل میں جہا ں ملک بھر سے سیا حو ں اور خوا تین کی بڑی تعدا د شر یک ہو ئی و ہاں مقا می لو گو ں کی اس حوا لے سے خو شی د ید نی تھی ،میلے میں دیر کی ثقا فت کو اجا گر کر نے کے لے مختلف قسم کے اسٹال سجا ئے گئے تھے جسمیں دیر خا ل کی روا یتی ٹو پیا ں ،دیر خا ص کے مشہو ر چا قو اورفر نیچر کے اسٹال لگا ئے گئے تھے ،اسی طر ح دیر لو ئیر کی سر کا ری محکمو ں محکمہ صحت ،ایجو کیشن ،فیشر یز اور شہر ی د فاع کے سٹا لو ں پر سیاحوں کا رش د یکھنے کو ملا ،را ت ہو تے ہی زبر دست آتش با ز ی سے آسما ن میں ر نگ و نو ر کی بر سا ت سے لو گو ں نے خو ب لطف اُٹھا یا۔ اس مو قع پرلا ہو ر سے آئے ہو ئے ایک سیا ح لطیف احمد بٹ کے مطا بق ’’مجھے بچپن سے ہی سیر و سیا حت کا شو ق ہے مگر وا دی دیر آکر جو لطف میں نے اُٹھا یا ہے تو وہ کہیں اور نہیں ملا ،مر ی ،سوات ،گلیا ت اور ایبٹ آبا د کے مقا بلے میں وا دی دیر کی آب و ہوا ور سیا حتی مقا ما ت بہت ہی قا بل کش ہے اور میرا دل وا پس جا نے کو نہیں چا ہتا ۔
ایک دوسر ے سیا ح محمد افضل کے مطا بق ’’اگر حکو مت وا دی دیر تک جا نے وا لے سڑ کو ں کی منا سب مر مت کر لے تو کو ئی و جہ نہیں کہ سیا ح دوسر ے علاقو ں کی مقا بلوں میں وا دی دیر کا ر خ نہ کر لیں دیر کلچر فیسٹیو ل میں روا یتی چترا لی اور خٹک ڈا نس دیکھ کر میں نے بہت انجوا ئے کیا ہے ،امن امان اور سیکو ر ٹی کے حو الے سے بھی مجھے کو ئی خو ف محسو س نہیں ہوا ،پا ک فو ج کی طر ف سے جگہ جگہ سیکو ر ٹی چیک پو سٹو ں اور پو لیس کی گشت سے مجھے تحفظ کا احسا س ہو تا ہے ہو ٹلوں میں رہا یش کے حو الے سے سہو لیا ت میں بہتر ی کی اشد ضر و ر ت ہے ،پو ر ے ملک کے سیا ح بلا خو ف و خطر آکر یہا ں کے قد ر تی نظا رو ں سے لطف اند و ز ہو سکتے ہیں ۔
ایک ایسا علا قہ جو کہ 2009،10میں طا لبا نا یز یشن اور اس لہر کے خا تمے کے لے بھر پو ر عسکری کا رر وا ئی اور بعد ازا ں سیلا ب کی تبا ہ کا رئیو ں کا سا منا کر چکا ہو ں وہا ں پا ک افغا ن سر حد پر ٹی ٹی پی کے حملو ں سے پیدا شدہ صور ت حا ل کے بعدآر می کی جا نب سے دیر کلچر فیسٹیو ل کا اہتمام بہت بڑ ی کا میا بی ہے ،پشتو کی روا یتی مو سیقی ،خٹک ڈا نس اور چترا لی ڈا نس سمیت پنجا ب بینڈ کے دستے نے اپنے بہتر ین کا ر کر دگی سے حا ضر ین کو د م بخو د کر دیا تھا ،ڈھو ل کی تا پ پر نوجوا نو ں کی دیوا نہ وا ر رقص اور اس کی الیکٹرا نک اور پر نٹ میڈیا میں بھر پو ر کو ر یج ملک بھر کے سیا حو ں کو ددعوت نظا ر ہ دے رہا تھا ۔
کما نڈ نٹ دیر سکا و ٹ اور دیر کلچر فیسٹیو ل کے انچا ر ج کر نل نصر عمر حیا ت لا لیکا کے مطا بق ’’د یر کلچر فیسٹیو ل کا بنیا دی مقصد ملک بھر کے سیا حو ںکو امن امان کے حو الے سے پیغام دینا تھا ،پا ک فو ج کی بھر پو ر کا را وا ئی کے بعد ملا کنڈ ڈو یژ ن کے تما م اضلا ع خصو صا اپر اور لو ئیر دیر میں مکمل امن اما ن قا ئم ہو چکا ہے اورسیا ح بغیر کسی خو ف و خطر کے یہا ں آسکتے ہے انہیں مکمل تحفظ دیا جا ئیگا ،تجا ر تی بنیا دو ں پر آنے وا لے
افراد کے لے بھی یہا ں کو ئی مسئلہ نہیں ، پاک فوج دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں کے لوگوں کو تفریحی مواقع فراہم کرنے کے لئے ثقافتی
اور امن میلوں کا انعقاد کرتی آئی ہے اور اب تک ملاکنڈ ڈویژن کے مختلف علاقوں میں سترہ میلوں کا اہتمام کیا گیا ہے اور مستقبل میں بھی یہ سلسلہ جا ر ی رہیگا ۔
دیر میں روا یتی پختون اور اسلا می کلچر اور مظبو ط مقا می روا یا ت کے با عث خوا تین کو کا م کا ج یا تفر یح کی غر ض سے گھر سے با ہر جا نے کے موا قع بہت کم ملتے ہے تا ہم اس با ر دیر کلچر ل فیسٹیو ل کا تیسرا رو ز خوا تین کے اور بچو ں کے لے مخصو ص کیا گیاتھا اور پہلی با ر خوا تین اپنے بچو ں کے ہمرا ہ مختلف اسٹا لز پر گئی دستکا ری اور کپڑو ں کے د کا نو ں میں د لچسپی لی ،جبکہ میلے میں بچوں مرد وخواتین نے جھولو ں اور چٹ پٹے کھانوں سے مزے لیے،میلے کے اختتامی روز باسکٹ بال،والی بال،بیڈ منٹن اور رسہ کشی کے مقابلے ہوئے اور مہمان خصوصی کمانڈنٹ دیر سکاوٹس کرنل نصر عمر حیات لالیکا نے سٹالز مالکان مختلف کھیلوں کے مقابلے میں پوزیشن حاصل کرنے والے ٹیموں اور میڈیا کے نمائندوں میں توصیفی سرٹیفیکیٹ تقسیم کئے۔
پا ک فو ج کے ز یر اہتمام دیر کلچر ل فیسٹیو ل کا انعقا د ہر لحا ظ سے لا یق تحسین قد م ہے تا ہم حوا لے سے چند ایک تجا ویز پر اگر عمل کیا جا ئے تو سیا حت کا شعبہ مز ید مستحکم ہو سکتا ہے
سڑکو ں کی ابتر صور ت حا ل : ملا کنڈ ڈو یژ ن کے تما م علا قو ں کو تک جا نے وا لے وا لے سڑ کو ں کی حا لا ت انتہا ئی ابتر ہو نے کی و جہ سے سیا حو ں کو و ہا ں جا نے میں مشکلا ت کا سا منا کر نا پڑ رہا ہیں ،سڑ کو ں کی خرا ب ہو تی صور ت حا ل سیا حت کے فر و غ میں بڑی ر و کا و ٹ ہے
عسکر یت پسند ی :ملک کی دوسر ی علا قو ں کی طر ح ملا کنڈ ڈو یژ ن بھی عسکر یت پسند ی کے ز د میں رہا ،سیا حو ں کو فل پر و ف سیکو ر ٹی دیکر اُن کا یہا ں آنا ممکن بنا یا جاسکتا ہے ۔
ہو ٹلو ں کا قیا م :ملک کے دوسر ے علا قو ں سے سر ما یہ کا ر یہا ں سر ما یہ کر کے ہو ٹلنگ کا شعبہ مستحکم بنا یا جا سکتا ہے اور سیاحو ں کے لے ذ یا دہ سے ذ یا دہ سہو لیا ت د یکر یہ شعبہ تر قی کر سکتا ہے۔
جنگلا ت کی کٹا ئی پر پا بندی اور مز ید شجر کا ری :سو ئی گیس کی سہو لت نہ ہو نے کے سبب یہا ں پر جنگلا ت کی بے در یغ کٹا ئی کا سلسلہ جا ری ہے جس کی و جہ سے یہا ں کا قد ر تی حسن ما نند پڑ نے کا خطر ہ ہے ،مز ید شجر کا ری کر کے علا قہ کا حسن بڑ ھا یا جا سکتا ہے ،
یہاں کا سب سے اہم ذرائع آمدن جنگلات ہیں اس وقت اربوں روپے کے جنگلات حکومت کی سرپرستی نہ ہونے ،سمگلروں اور انتظامیہ کی ملی بھگت کی وجہ سے ضائع ہورہی ہے اگر ان جنگلات کی مناسب دیکھ بھال کیجائے اوراندرون و بیرون ملک سے آئے ہوئے سرمایہ کار
یہاں سرمایہ کاری کریں تو بلا شبہ یہ علاقہ جنت نظیر علاقہ بن سکتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت یہاں پر تعلیم ،صحت اور ذرائع آمدورفت کی سہولیات بہتر بنائے،نئے ہوٹلوں کے قیام ،جنگلات کی کٹائی پر مکمل پابندی ،مزید جنگلات لگانے کے بعد ہی یہاں پر سیاحت کا شعبہ ترقی پا سکتا ہے۔
960 total views, no views today


