ماضی میں وادئ سوات کانام ذہن میں آتا، تو فلک بوسپہاڑ، لہلہاتے کھیت، گنگناتے آب شار اور یہاں کے پر امن لوگوں کی سادگی اور خلوص خیالوں میں چھا جاتا، جس کی پوری دنیا میں ایک دھوم تھی اور لوگ یہاںآنے کے لییبے تاب ہوتے۔ بد قسمتی سے آج سوات اس حوالے سے نہیں بلکہ دہشت گردی، دھماکوں اور بنیاد پرستی کے حوالے سے تو جانا ہی جاتا ہے، مگر اب ایک بچی ملالہ یوسف زئی کے حوالے سے بھی اس کا نام لیا جاتا ہے۔ میری تو عمر اتنی ہے بھی نہیں اور ماضی کی باتیں ویسے بھی مجھے یاد نہیں رہتیں سوائے ان باتوں کے جو دل پر نقش ہوگئی ہیں، جیسے کہ سوات کی کشیدگی، آپریشن، ہجرت اور اس کے بعد امن کی بہ حالی کا ایک ایک لمحہ مجھے یاد ہے۔ خوشی کی بات ہے کہ سوات میں ایسے اچھے لکھاری اور قارئین موجود ہیں جن کو یہاں کی تاریخ سے نہ صرف گہری دل چسپی ہے بلکہ وہ اس مٹی کے عشق میں دیوانے ہیں ۔ ان میں ہمارے بڑے پروفیسر ڈاکٹر سلطانِ روم، فضل رازق شہاب، میر افسر خان،فضل ربی راہی ، پروفیسر سیف اللہ خان اور دیگر شامل ہیں جو کہ صرف سوات کی تاریخ نہیں یہاں کے خاندانوں کو بھی بہ خوبی جانتے ہیں اور ان کے کالموں کو پڑھ کر میرے بھی علم میں اضافہ ہو جاتا ہے ۔
گزشتہ روز شہاب صاحب نے والئی سوات کے دور میں لڑکیوں کے تعلیم کے حوالے سے روزنامہ چاند میں ایک آرٹیکل لکھا کہ ان کے دور میں دسویں تک لڑکے اور لڑکیاں ایک ساتھ تعلیم حاصل کرتے تھے۔ میرافسر امان خان نے ضیاء الدین یوسف زئی ’’صاحب‘‘ کے کردار پر مفصل روشنی ڈالی۔ ان کے والد محترم جو کہ اپنے گاؤں کی مسجد کے پیش امام تھے اورجو کہ آج ہم میں موجود نہیں۔ ایک وجہ سے مقام شکر ہے، ورنہ وہ بھی اپنے بیٹے کے کرتوتوں کے متعلق سن کر زندہ درگور ہوتے۔
ویسے مجھ پر میرے دوستوں اورمحسنوں نے یوسف زئی ’’صاحب‘‘ کے سلسلے میں لکھنے پر کافی پابندیاں عائد کردی ہیں کہ آپ نے ایک حد کو کراس نہیں کرنا۔ حالاں کہ میں نے ابھی حد کب کراس کی ہے؟ میرے سینے میں تو ہزاروں راز دفن ہیں۔ کیا اب میں ان کو افشاں نہیں کرسکوں گا؟ کیا میں معاشرے کے مظلوم عوام کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں اور ظلم و ستم پر خاموش رہوں گا؟ کیا میں اس معاشرے کا وہ فرد نہیں ہوں، جو اس مٹی کے لیے قلم کے ذریعے جہاد کر رہا ہے؟ اگر وہ لوگ جو آج میرے قلم کو روکنے کی کوشش کر رہے ہیں، ان کے ہاتھوں میں یہ قلم ہوتا، تو پھر وہ کیا کرتے؟ آج ایک سوال پوچھتا ہوں، ان لوگوں سے جو اسکولوں کے ’’کاروبار‘‘ سے وابستہ ہیں یا اور اداروں سے،کیا وہ اپنا پیشہ چھوڑسکتے ہیں؟
ملالہ کے ’’والد محترم‘‘ جو اس ملک میں لڑکیوں کی تعلیم ’’عام‘‘ کرنے کی باتیں کررہے ہیں اور ہم کو ان پڑھ، جاہل، اجڈ، گنواراور پتھر کے زمانے کے وہ لوگ قرار دے رہے ہیں، جب لڑکیوں کو زندہ درگور کیا جاتا تھا۔ کیا اس بد نما الزام پر بھی خاموش رہا جائے؟ اس مٹی کو بدنام کرنے کا بیڑہ اُٹھانے پر ان کوجو انعام مل رہا ہے، کیا ان پر بھی خاموش رہا جائے۔ کیا وہ بتا سکتا ہے کہ اس کے اسکولوں، خوشحال اسکولز، لنڈے کس سیکشن، گل کدہ اور حاجی بابا میں کتنے یتیم بچے مفت پڑھ رہے ہیں؟ سوائے ان سو بچیوں کے جو ’’گولڈن براؤن‘‘ کے ملالہ فاؤنڈیشن میں بھی ان کے اسکول کو انعام کے طور پر ملے ہیں۔
میرے ایک مشر محترم نے ایک روز مجھے بتایا کہ باہر ملک سے کسی میڈیا والے کا فون آیا کہ سوات میں کون ملالہ کی حقیقت سے پردہ اُٹھا سکتا ہے، تو اس نے کہا کہ میں نے آپ کا نام دیا۔ اس کی اس بات سے میں بہت خوش بھی ہوا اور مجھے فخر بھی محسو س ہوا کہ میں ان لوگوں کے خلاف بول سکتا ہوں، جو ہمیں بدنام کر نے پر تلے ہوئے ہیں۔ پھر میں نے ان کو بلا جھجک جواب دیا کہ مشرہ آپ نے سوات کے ان اٹھارہ لاکھ لوگوں میں سے کسی کا بھی نام دیا ہوتا، سوائے چند لوگوں کے جو آج ان کے ہم درد بنے پھر رہے ہیں، وہ سب آپ کو حقائق بتاتے۔ اور پھر میں نے ایک سوال کیا کہ کیا آپ کو یاد ہے، نو اکتوبر 2013ء کا وہ دن جس روز ’’ملالہ ڈے‘‘ منایا جارہا تھا اور اگلے روز ’’نوبل پرائز‘‘ کا اعلان ہورہا تھا، اور کوئی بھی سوات کا رہائشی ملالہ کے لیے پیار کے دو بول کہنے کے لیے تیار نہیں تھا۔ ایک اسکول میں ہم نے بڑی مشکل سے بچوں کے کچھ تاثرات ریکارڈ کیے۔
اگر ملالہ اور ان کے والد ’’محترم‘‘ جو کہ بچوں کی تعلیم کے علم برادر بنے پھرتے ہیں، ان سے سوات کے عوام یا طلبہ محبت کرتے، تو گورنمنٹ گرلز کالج سیدو شریف کی طالبات کالج کا نام ’’ملالہ گرلز کالج‘‘ رکھنے پر احتجاج کیوں کرتیں اور وہ اس کالج کے مین گیٹ پر لگے ’’ملالہ‘‘ کے نام کا سائن بورڈ اُتار کر کیوں پھینکتیں؟ اس واقعہ کی کوریج انٹرنیشنل، رائٹرز جیسے اداروں نے کی ۔
اگر یہاں کے عوام اس سے اتنا محبت کرتے ہیں، تو یوسف زئی ’’صاحب‘‘ کے اپنے ساتھی خپل کور فاونڈیشن کے ڈائریکٹر اور خد ا ترس شخصیت جو کہ سوات کے ایک ہزار سے زیادہ یتیم بچوں کی پرورش کر رہے ہیں، اس سلسلے میں کیوں خاموش ہیں۔ اگر اس پر مزید تفصیل میں جاؤں گا، تو ایک نیا ایشو بن جائے گا۔ پھر بحث چھڑ جائے گی۔
اگر یہاں کے عوام ان سے محبت کرتے، تو آج ضیاء الدین یوسف زئی کے وہ دوست کہاں ہیں جو ان کی محبت کا دم بھرتے نہیں تھکتے؟ میں ان کے دوستوں سے صرف یہی کہوں گا کہ مجھ سے خفا نہ ہوں، صرف اتنا بتا دیں کہ وہ اتنے عرصے سے خاموش کیوں ہیں؟ بد حالی کے دوران میں ضیاء الدین کے قریبی ساتھی اور میرے ہمدرد اور استاد کی حیثیت رکھنے والے فضل مولا زاہد المعروف خان جی، جو یہاں کے مسائل پر لکھتے بھی رہتے ہیں، کی زُبان کو تالے کیوں لگے ہیں؟ کیا ان کی نظر میں صرف شخصیات مقدم ہیں یا اس مٹی کا بھی ان پر کوئی قرض ہے۔افضل شاہ باچہ، شوکت شرار اور ان کے دیگر دوست اس حوالے سے کیا سوچ رہے ہیں؟ ان کے وہی دوست جو ان کو ملالہ سے ’’ملالہ یوسف زئی‘‘ بنانے کے لیے تن من اور دھن کی قربانی سے بھی دریغ نہیں کر رہے تھے، اب کہاں غائب ہیں؟ کیا صرف ایک ضیاء الدین سچا اور اس مٹی سے محبت رکھنے والا ہے، باقی سب جھوٹے اور غدار ہیں؟
ان کے ایک دوست کا تذکرہ کروں، وہ جب ان کے ساتھ دوپہر کا کھانا نہ کھاتے، تو ضیا ء الدین بے چین ہوتے۔ آج مجھے ضیا ء الدین بتا سکتے ہیں کہ ان سے بعد میں کبھی ایک دفعہ بھی رابطہ کیا گیا ہے۔
بہر حال ’’یوسف زئی‘‘ نے جس مقصد کے لیے جن عوامی فورمز کی نمائندگی کرنے کی ذمے داری، لابنگ کرکے خود قبول کی تھی اور جن فورمز کی وجہ سے وہ اس مقام تک پہنچے، وہ ’’وہ‘‘ مقاصد بھول گئے؟ ملالہ اور ان کے والد محترم کو اپنی جنم بھومی سے محبت ہوتی اوروہ حقیقتاً اس وطن کے لیے کچھ کرنے کے موڈ میں ہوتے، تو وہ تعلیم کے حصول کے لئے سب سے پہلے پُر امن ماحول کا نعرہ بلند کرتے۔ آج ان کے لیے اپنے وطن میں شدید نفرت کے جذبات کے بجائے محبت کے جذبات ہوتے۔ ان پر کفر کے فتوے لگتے نہ ان کو ویسٹ کا ’’ایجنٹ‘‘ کہا جاتا۔ آج ملالہ کا نام سُن کر لوگ گھٹن محسوس کرتے نہ شدید نفرت کا اظہار کرتے۔ ان کے نام سے موسوم تعلیمی اداروں کے سائن بورڈز نہ توڑے جاتے۔ ہری پور کالج میں اس کے نام سے چلنے والا سنٹر بند نہ کیا جاتا۔ اخباروں اور چینلز پر تبصروں میں ان کی کتاب کا حشر نشر نہ ہوتا۔ ضیاء الدین پنج پیری سے ضیاء الدین ’’یوسف زئی‘‘ بننے تک کے سفر کا تیا پانچا نہ ہوتا۔ آج ان کے لیینفرت کے بجائے محبت بھری آواز اُٹھتی کہ ’’وطن آؤ ملالہ اور ضیاء الدین، ہم تمھارے محافظ ہیں۔‘‘ لیکن اُن کے والد کو اللہ تعالیٰ نے یہ توفیق نہ دی۔ میڈیا اور پیسہ ملالہ کے والد کی کم زوریاں ہیں ، جس کے حصول کے لئے وہ کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔ اور یہ دنیا نے دیکھا بھی کہ کس طرح اس نے اپنی پھول سی بیٹی کی زندگی جہنم بنا دی۔
ہمارے ہاتھوں میں قلم دینے کی ’’ملالائی خواہش‘‘ ہمیں منظور نہیں۔ ان سے درخواست ہے کہ ہمیں معاف کریں اور ایک قلم، ایک استاد اور ایک کتاب کا کرتب وہ کسی اور ملک میں دکھائیں، تو عین نوازش ہوگی اور ہم جاہل بندے اور ہماری جاہل عورتیں تا زیست دُعا گو رہیں گی۔ ہمیں قلم کی نہیں، امن کی ضرورت ہے، بس امن کی۔وہ اپنا ڈھول ہمارے لیے نہ بجائیں، تو مہربانی ہوگی۔ جاتے جاتے ایک شعر عرض ہے
یادِ ماضی عذاب ہے یا رب
چھین لے مجھ سے حافظہ میرا
1,238 total views, no views today


