اساتذہ کرام کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ معاشرے کے ہر فرد کو شاگرد کی نظر سے دیکھ کر درس و تدریس کے ساتھ ساتھ پند و نصیحت کا دامن کسی بھی صورت نہیں چھوڑتے جو کہ انتہائی قابل ستائش اور باعث تحسین اقدام ہے ۔اساتذہ کرام ہی کی محنت و محبت کی وجہ سے اقوام عالم ترقی کے منازل طے کرکے بام عروج پر پہنچ جاتی ہیں انسان کے بگڑنے اور سنورنے میں اساتذہ کرام کا کردار والدینسے بھی زیادہ ہوتا ہے مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہم نے ابھی تک نہ تو استاد کا مرتبہ سمجھ لیا ہے اور نہ اساتذہ کو وہ مقام اور مرتبہ دیا ہے جو کہ ان کا حق ہے اشفاق احمد لکھتے ہیں کہ اٹلی مٰں ایک مرتبہ ان کا ٹریفک چالان ہوا مصروفیتے کے باعث وہ فیس بروقت ادا نہ کرسکیں جج کے سامنے پیش ہوکر انہوں نے وجہ پوچھی تو میں نے بتایا کہ ’’ پروفیسر ہوں مصروفیت کے باعث وقت ہی نہیں ملا یہ سن کر جج نے کھڑے ہوکر ایک جملہ کہہ دیا کہ A Teacher is in the Court اور سب لوگ کھڑے ہوکر مجھ سے معافی مانگ اور چالان کینسل کردیا۔ اگر ہم اپنے بچوں اور ائندہ نسل کو بھی اساتذہ کرام کی قدر و مرتبہ سے اگاہ کرنے میں کامیاب ہوگئے تو ہماری ائندہ نسلوں سے ترقی کی منزلیں کوئی بھی چھین نہیں سکتا ۔اساتذہ کرام کے بارے میں یہ چند الفاظ لکھنے کی سعادت اس وجہ سے نصیب ہوئی کہ الہ ڈھنڈ ڈھیرئی ملاکنڈ ایجنسی کے نوجوان شاعر و ادیب اور ایف ایم ریڈیو کے کمپئیر طفیل زریاب نے ضلع صوابی کے زیدہ سے تعلق رکھنے والی شاعرہ و ادیبہ کلثوم افضل زیدوی کا تازہ نثری مجموعہ ’’عجیب محبت ‘‘ جس میں چند غزلیں اور نظمیں بھی شامل ہیں کا تحفہ دیا جسے پڑھ کر اس نتیجے پر پہنچا کہ ’’استاد ‘‘استاد ہوتا ہے چاہے وہ سکول کالج یا یونیورسٹی میں ہو اور یا گھر بازار یا کسی تقریب میں ہو مگر وہ اپنی عادت اور ذمہ داری سے اپنے اپ کو مبرا نہیں سمجھتے بلکہ ہر جگہ موقع پا کر وہ درس و تدریس اور پند و نصیحت کا موقع ضائع نہیں کرتے ۔ کلثوم افضل زیدوی جوکہ پیشے کے لحاظ سے درس و تدریس سے وابستہ ہے اس وجہ سے انہوں نے اپنی کتاب میں شامل کئے گئے مضامین کیلئے ایسے موضوعات کا انتخاب کیا ہے جو موجودہ معاشرہ سے تعلق بھی رکھتے ہیں اوراس سے معاشرہ کے ہر فرد کو اگاہ ہونا ضروری بھی ہے کتاب میں شامل مضامین غزلوں اور نظموں پر تبصرہ کرنے سے پہلے ضروری ہے کہ قارئین کو کتاب کے بارے میں کچھ معلومات فراہم کروں تاکہ وہ کتاب کو دیکھے بغیر بھی اس سے کچھ نہ کچھ واقف ہوسکیں ۔کلثوم افضل زیدوی کی یہ کتاب ’’عجیب محبت ‘‘ خوبصورت اور مضبوط جلد کے علاوہ 336 صفحات پر مشتمل ہے جسے الفیصل ناشران و تاجران کتب غزنی سٹریٹ اردو بازار لاہور نے دسمبر 2013 میں شائع کیا ہے جس پر ملنے کیلئے مردان بُک ایجنسی کچہری روڈ، امتیاز بُک ایجنسی ، امیر احمد بُک ایجنسی اور ویژن بکس پی آر سی چوک مردان کے پتے درج ہیں۔ کتاب کا انتساب دو مختلف صفحات پر منفرد انداز میں کیا گیا ہے انتساب نمبر ایک مصنفہ نے چند رشہ داروں کے نام کیا ہے جو ان کی بھانجے اور بھانجیاں ہیں جبکہ انتساب نمبر دو میں رقمطراز ہے کہ ’’ان مرحومین کے نام ! جو اپنی نشانیوں کی صورت میں میرے دل کو یہ درد دے گئے ‘‘ اس کے بعد غزل کی تین اشعار بھی ہیں۔
ھس طرح کہ تمہید میں کہا گیاکہ’’ استاد استاد ہوتا ہے ‘‘ تو اس طرح مصنفہ نے اپنے موضوعات میں ایک شفیق اور مہربان استاد کی طرح معاشرے کو صبر و تحمل،قناعت، برداشت و رواداری، رویوں میں تبدیلی ، اپنے حقوق سے اگاہی اور اس کیلئے اواز اٹھانے ، اپنے فرائض سے باخبر رہنے اور اسے پورا کرنے ، اسلامی احکامات کی روشنی میں زندگی گزارنے اور دوسروں کو اس طرف راغب کرانے ، اپنے مسائل سے اگاہ ہونے اور اس کے حل کیلئے خود کوشش کرنے کے ساتھ ساتھ دوسروں سے بھی مدد لینے ، پریشان اور مصیبت زدہ لوگوں کی مدد کرنیانہیں نظر انداز نہ کرنے کی تلقین ،لڑکیوں کے حقوق اور ان کے احساسات وجذبات کے احترام، دوسروں کی دکھ درد سے اگاہی ،حب الوطنی ،والدین کی خدمتا ور خوشنودی حاصل کرنے ،رشتوں کی تقدم کے احترام ،اناپرستی اور خود غرضی سے اجتناب پر زور دیا گیا ہے عجیب محبت میں معاشرے کے تمام افراد خصوصاً لڑکیوں اور خواتین کی انفرادی حیثیت اور منفرد دنیا کو تسلیم کرانے پر بھی زور دیا گیا ہے جوکہ ہمارے معاشرے میں نہیں ہے اور نہ ہی اسے ہمارے معاشرے میں توجہ دی جاتی ہے کتاب میں شامل تمام مضامین اس وجہ سے بھی قابل توجہ ہیں کہ یہ کوئی افسانوی قصے کہانیاں اور کردار نہیں ہے بلکہ ہمارے معاشرے میں پائے جانے والے روزمرہ واقعات ہیں جس کو مصنفہ نے انتہائی خوبصورت انداز میں موضوع بناکر مسائل کی نشاندہی اور اس کا حل بھی پیش کرنے کی کوشش کی ہے یقین ہے کہ اس کتاب کو پڑھ کر اس میں دئیے گئے مشوروں اور تجاویز پر اگر عمل کیا جائے تو معاشرے میں موجود بہت سے مسائل اسانی سے حل ہوسکتے ہیں تعلیمی اداروں میں پڑھانے والے نصاب پر سب سے زیادہ اعتراض اس بات پرکی جاتی ہے کہ اس میں عملی زندگی سے متعلق مواد شامل نہیں ہوتے اور اگر شامل بھی ہے تو وہ بہت کم بلکہ نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں مگر یہ کتاب اور اس میں شامل موضوعات ہمارے معاشرے کی مکمل عکاسی کرتے ہیں اگر ان مضامین کو مڈل سے لیکر ماسٹر کلاسز تک کی نصاب میں شامل کیا جائے تو تعلیمی اداروں کا نصاب کافی حد تک معاشرتی ضروریات کو پورا کرسکے گا ۔اور اگر یہ بھی نہیں تو اس کتاب کو گورنمنٹ کالجز اور سکولوں کی لائبریریوں کیلئے لازم قرارد ئیے جانے سے طلبہ اور طالبات اس کتاب کی افادیت سے مستفید ہوسکتے ہیں جبکہ اس طرح کرنے سے مصنفہ کے کوشش و محنت کا صلہ بھی انہیں مل سکے گا۔کتاب میں شامل مضامین مصنفہ کی اپنی باتیں ’’خود کلامی ‘‘اور نظم ’’خراج تحسین ‘‘ کے علاوہ پاگل، نیند اور خواب، گرفت ، المیہ، زندگی، بدفطرت، ازمائش اور سزا، انتہا، تقدیر اور تدبیر، عجیب محبت، وجود، ٹینشن، ، تفریق، دل لگی اور بندگی، ایڈوپٹڈ ، خوب صورت، وحشی، تسکین، بیٹی اور شکر گزار کے عنوانات پر مشتمل ہیں مصنفہ نے ان تمام مضامین میں معاشرے میں پائے جانے والے مسائل و مشکلات کا یا تو خود جائیزہ لیکر اس پر تبصرہ کرکے اس سے نجات کے راستے دکھانے کی کوشش کی ہے اور یا کسی نے ان سے اپنے مسائل کے بارے میں مشورہ مانگا ہے جسے موصوفہ نے انتہائی ایمانداری اور فرض شناسی کے ساتھ حل کرنے کی کوشش کرکے پھر اسے مضمون کے شکل میں مرتب کرکے معاشرے کو مستفید ہونے کیلئے کتاب میں شامل کردئیے ہیں ہوسکتا ہے کہ بعض کہانیں اس میں فرضی بھی ہو ں مگر حقیقیت میں بھی یہ معاشرے میں موجود ہیں اس وجہ سے کتاب میں شامل کرنے سے اس پر کوئی انگلی اٹھا نہیں سکتے۔مصنفہ کا طرز تحریراس وجہ سے بھی قابل تعریف ہے کہ وہ قاری پر اپنی بات کو اخر تک سننے اور سمجھنے کا گُر بھی جانتے ہوئے بات کو اس طرح اگے لے جاتی ہے کہ قاری پڑھائی کے ساتھ تجسس میں بھی مبتلا رہتا ہے اور تجسس یا سسپنس ہی واحد نسخہ ہے جس کی بدولت قاری اپ کی بات کو اخر تک سننے کیلئے بے تاب رہتا ہے ۔خواتین کے حقوق کیلئے اواز اٹھانے والے بہت سی تنظیمیں یا این جی اوز اس ملک میں کام کررہے ہیں مگر جس خوبصورت انداز میں اس کتاب کی مصنفہ نے خواتین کے حقوق اوران کی انفرادی حیثیت کو تسلیم کرنے کیلئے دلائل دئیے ہیں قابل عمل بھی ہے اور توجہ طلب بھی ۔ایک بات اور بھی اس کتاب میں شدت سے محسوس کی جارہی ہے کہ پشتون معاشرے میں رہتی ہوئی جہاں خواتین کو بہت سے مواقعوں پر چپ رہنا پڑتا ہے یا اپنی صفائی پیش کرنی کی ضرورت ہوتی ہے خواہ ان سے کوئی صفائی مانگے یا نہ مگر خواتین اور لڑکیاں اپنی طرف سے یہ کوشش میں رہتی ہیں کہ ان پر انگلی نہ اٹھائی جائے اس طرح خواتین شاعروں اور نثر نگاروں کوبھی خاص محتاط رویہ اپنا نا پڑتا ہے حالانکہ لازمی نہیں کہ شاعر و ادیب جب کوئی بات کرتا ہے یہ ان کے اپنی بات ہو وہ تو دوسروں کی بات کو بھی بیان کرسکتے ہیں مگر زیادہ تر لوگ ان کی کہی ہوئی بات کو ان کی ذات سے منسوب کرتے ہیں جو کہ درست نہیں ہے کلثوم زیدوی صاحبہ کے بیشتر مضامین میں یہ بات محسوس کی جاتی ہے کہ یہاں وہ جو کچھ بیان کرنا چاہتی ہیں کھل کر بیان نہیں کرسکتی یا اس میں اپنی صفائی پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے مگر پھر بھی انہوں نے اپنی پوری بات بتانے کی بھرپور کوشش کی ہے خود کلامی میں مصنفہ نے نہ صرف ائندہ لکھنے کا عہد کر لیا ہے بلکہ انہوں نے کتاب میں شامل مضامین کے بارے میں تفصیلی وضاحت بھی کی ہے جبکہ ان تمام افرادکا فرداً فرداً شکریہ ادا کیا ہے جنہوں نے ان کی شاعری اور نثر ی تخلیقات کی حوصلہ افزائی کی ہے جن میں قریبی رشتہ داروں ،شعراء و ادباء، پروفیشنل ساتھیوں، پرنٹر وپبلشر سمیت الیکٹرانک میڈیا سے تعلق رکھنے والے ایف ایم ریڈیو کے میزبان زریاب یوسفزئی ، اے وی ٹی خیبر کے محمد حسین ملک اور ہدایت اللہ گل کا خصوصی شکریہ ادا کیا ہے جنہوں نے انہیں ریڈیو اورٹی وی کے ذریعے ناظرین و سامعین سے متعارف کروایا ہے ۔مضمون کی اختصار کے پیش نظر مضامین سے اقتباسات شامل نہیں کئے گئے ۔مصنفہ نے معاشرتی مسائل پر طویل اورتفصیلی مضامین شامل کرنے کے علاوہ ’’کرنیں‘‘ کی نام سے اقوال زرین اور چند غزلیں بھی شامل ہیں جو کہ پڑھنے اور عمل کرنے کے قابل ہیں ۔

2,251 total views, no views today



