مینگورہ، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر سوات ڈاکٹر محمد ابراہیم نے کہا ہے کہ سوات میں ڈینگی سے بچاؤ اور روک تھام کیلئے گھر گھر آگاہی مہم جاری ہے ، جبکہ صوبائی حکومت بھی ڈینگی سے بچاؤ کیلئے عملی اقدامات اٹھارہی ہے ، کھلے واٹر ٹینک اور ٹائروں کے دکانوں کاجائزہ لینے کیلئے عملہ کی ڈیوٹی لگائی گئی ہے ، ڈینگی سے بچاؤ کا واحد ذریعہ احتیاط ہے اس حوالے سے عوام میں شعور اجاگر کرنے
کے لئے ٹھوس منصوبہ بندی پر عمل پیر اہے ، ان خیالات کااظہار انہوں نے مرلن ارگنائزیشن کے زیر اہتمام مقامی ہوٹل میں ایک روزہ ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر مرن نے سوات یونیورسٹی کے طلباء وطالبات اور ڈاکٹروں کو ڈینگی سے احتیاطی تدابیر کے حوالے سے ٹریننگ دی جو اس حوالے سے اپنا کردارادا کریں گے ، ورکشاپ سے ڈپٹی ڈی ایچ او ڈاکٹر شیر محمدخان ، سابق ڈی ایچ او ڈاکٹر خورشید علی نے بھی خطاب کیا اور کہاکہ حکومت ڈینگی سے بچاؤ کے لئے سوات میں عملی اقدامات اٹھارہی ہے اور واٹر ٹینکس ، تالابوں ، بازاروں اور خصوصاً ٹائر کے دکانوں میں عملہ جاکر لاوا کے خاتمہ کیلئے سپرے اور دیگر اقدامات اٹھارہی ہے ، انہوں نے کہاکہ اس جان لیوا مرض کے روک تھام کیلئے منصوبہ بندی کی گئی ہے اور اس سلسلے میں ایل ایچ ویز اور دیگر محکمہ صحت کے اہلکاروں کی مدد کی جارہی ہے ہیں گھر گھر جاکر احتیاطی تدابیر کے حوالے سے لوگوں کو آگاہ کرناچاہئے ، انہوں نے کہاکہ ڈینگی سے بچاؤ کا واحد ذریعہ احتیاط ہے ، اس موقع پر مرلن پراجیکٹ کو ار ڈنیٹر ڈاکٹر اصغر شاہ ڈاکٹر کفایت اللہ ، پروفیسر واصل خان ، ہیلتھ پروموئر سپر وائزر حسن خان ، فوکل پرسن ڈی ایچ او آفس ناصر خان ، کوارڈنیٹر مراد خان اور عبدالباسط نے کہاکہ مرلن تیس اپریل تک ورکشاپوں اور آگاہی مہم کے حوالے سے اپنا کام جاری رکھے گا ، انہوں نے کہاکہ اس حوالے سے 80 نشستوں کا انعقاد کیاگیا جس میں طلباء وطالبات ، محکمہ صحت سے وابستہ افراد اور ہر طبقہ کے لوگوں و ایل ایچ ویز کو باقاعدہ ٹریننگ دی گئی ہے ، انہوں نے ورکشاپ کے شرکاء کو ڈینگی کے حوالے سے احتیاطی تدابیر سے آگاہ کیا اس موقع پر ورکشاپ کے شرکاء کو بتایا گیا کہ گزشتہ سال سوات میں ڈینگی سے 9038 مردو خواتین متاثر ہوئے تھے جبکہ اس سے پورے سوات میں چھتیس اموات بھی واقع ہوئی تھیں ۔
472 total views, no views today


