اسلام آباد: وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ ملک کے دفاع اور شرپسندوں کو کچلنے کے لیے حکومت قانون نافذ کرنے والے اداروں اور فوج کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے۔وزیراعظم نوازشریف کی زیرصدارت قومی سلامتی کے بارے میں اہم اجلاس وزیراعظم ہاؤس میں ہوا جس میں وزیر داخلہ چوہدری نثارعلی خان، خصوصی معاون طارق فاطمی، آرمی چیف جنرل راحیل شریف اور ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ظہیر السلام نے شرکت کی۔
اجلاس میں ملکی سلامتی، امن وامان کی مجموعی صورتحال، شمالی وزیرستان میں مذاکرات کوسبوتاژ کرنے والے عناصر کے خلاف پاک فوج کی جوابی کارروائیوں سے متعلق امور کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کے دوران وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان نے طالبان کی رابطہ کار کمیٹی کے ساتھ بات چیت اور طالبان شوریٰ سے مذاکراتی حکمت عملی سے متعلق بریفننگ دی۔ ان کا کہنا تھا کہ طالبان کی طرف سے جنگ بندی میں توسیع نہیں کی گئی جب کہ حکومت نے جذبہ خیر سگالی میں ان کے قیدی بھی رہا کیے۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے باوجود دہشت گردی کے واقعات تشویش کا باعث ہیں، پشاور میں ایئرپورٹ پر راکٹ حملہ کیا گیا جب کہ شورش زدہ علاقوں میں سیکیورٹی فورسز پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے تاہم اب وقت آگیا ہے کہ مذاکراتی عمل کو نتیجہ خیز بنایا جائے۔ آئندہ کمیٹی کے اجلاس میں طالبان شوریٰ سے مذاکرات کے تمام ایجنڈے پر بات چیت اور دہشت گردی میں ملوث افراد کی نشاندہی کے بعد مؤثر کارروائی کی جائے گی۔
اجلاس میں افغانستان میں سیاسی تبدیلی اور نئی حکومت سے تعاون پر بھی غور کیا گیا۔ ڈی جی آئی ایس آئی نے حالیہ دہشت گردی کے واقعات اور سیکیورٹی کی صورتحال پر بریفنگ دی۔ وزیراعظم نواز شریف نے ملکی سلامتی پر سیکیورٹی اداروں کے اقدامات کو سراہا اور کہا کہ ملک کے دفاع اور شرپسندوں کو کچلنے کے لیے حکومت قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سیکیورٹی فورسز کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے۔
423 total views, no views today


