صوبائی حکومت کا یہ فیصلہ قابل تحسین ہے کہ اسکولوں کی کارکردگی کے لیے ایک آزادانہ شعبہ قائم کیا گیا ہے۔ ہم اپنے صوبے میں تعلیم کی گرتی ہوئی معیار کو دیکھ کر صرف خود ہی کڑتے رہتے ہیں۔ ہم کچھ بھی نہیں کرسکتے۔ عوامی منتخب ممبران کی محنت یا تو اساتذہ کی اُکھاڑ پچھاڑ میں استعمال ہوتی ہے یا گلکاروں کے کاموں کی نظر ہوجاتی ہے۔ انتظامیہ کے افسران کے لیے تعلیم و صحت کے محکمے اشجارِ ممنوعہ قرار دیے گئے ہیں۔ ڈپٹی کمشنرز بہت ہی کم محکمۂ تعلیم اور صحت اور دوسرے محکموں سے اُن کی عوامی خدمات کا پوچھتے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ ہر محکمے کا اپنا ڈائریکٹر اور ڈائریکٹوریٹ ہوتا ہے، جو سو فی صد محکمے کے اپنے لوگوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ پھر ان ڈائریکٹوریٹس میں دفتری، مالی، مالیاتی اور منصوبہ سازی کا کام کلرکوں کے حوالے ہوتا ہے اور ہمارے یہاں کلرک طبقہ جن معاشی اور معاشرتی مشکلات سے دوچار چلا آرہا ہے، وہ حالات کسی سے چپے نہیں ہیں۔ اب حکومت نے اسکولوں کی کارکردگی کو جانچنے (Monitoring) کے لیے معاشرے سے غیر اساتذہ گریجویٹس بھرتی کیے ہیں۔ یہ ایک اچھا اقدام ہے لیکن ہمیں معلوم نہیں کہ اس نظام کی پشت پر کوئی قانون بھی موجود ہے کہ نہیں ہے۔ اور کیا اس میں بھی محکمۂ تعلیم کا جراثیم زدہ طبقہ نفوذ کرسکے گا یا نہیں۔ فرنٹیر ایجوکیشن فاؤنڈیشن جب تک بیوروکریٹس کے زیر انتظام تھا، وہ بہتر انداز سے کام کررہا تھا۔ جب اُس پر گریڈ اکیس کے محکمہ تعلیم کا بے روزگار شخص آگیا، وہ عمدہ ادارہ اپنے راستے سے ہٹ گیا۔ روزنامہ مشرق پشاور مورخہ 22 اپریل 2013ء کی اطلاع کے مطابق اس ادارے کے پندرہ کالجوں کو نو لاکھ چھیاسٹھ ہزار چھے سو پچاس روپیہ کے خسارے کے بعد بند کیا گیا۔ گویا کہ یہ الٹا قومی خزانے پر بوجھ بن گیا۔ معلوم نہیں کہ نجی تعلیمی اداروں کو قرضہ جات کے مد میں اس نے کتنا نقصان قومی خزانے کو پہنچایا ہوگا۔ نظام تعلیم میں کم زوریوں کی نشان دہی بھی اسی ادارے کی قانونی ذمے داری ہے۔ یہ قانونی طور پر پورے شعبہ تعلیم یعنی سرکاری اور نجی اور پرائمری اسکول سے لے کر بورڈز اور یونی ورسٹیوں تک نصاب اور دوسرے معاملات تعلیم میں تحقیق تنقید اور اصلاح کے لیے موزوں ادارہ تھا۔ بے شک اس کے قانون (صوبائی ایکٹ نمبر III مجریہ 1992ء) میں کچھ کم زوریاں موجود تھیں۔ اُن کی درستگی کے بجائے صاحبان اقتدار نے ایک طرف ایلمنٹری ایجوکیشن فاؤنڈیشن کھڑی کی اور دوسری طرف ہائیر ایجوکیشن ریگولیٹری اتھارٹی قائم کی۔ اب ان تین اعلیٰ اداروں کی غیر اطمینان بخش کارکردگی والدین اور عوام کے سامنے ہے۔ نجی تعلیم کی جو حالت ہے، سرکاری تعلیم کا جو حشر ہے، مذہب کے نام پر قائم اداروں کی جو صورت حال ہے، وہ سب کے سامنے ہے۔ اب ایک نیا نظام قائم کیا گیا ہے۔ دیکھتے ہیں یہ کس طرح سرکاری اداروں کے نا اہل عمال اورمارکیٹ کے ہاتھوں یرغمال محکمۂ تعلیم کو آزاد ی دلا کر اس کی کارکردگی کی درستگی کو یقینی بناتا ہے۔ بقول شاعر
مسجد تو بنادی شب بھر میں ایماں کی حرارت والوں نے
من اپناپران پا پی ہے برسوں میں نمازی بن نہ سکا
اداروں پر ادارے تو بنائے جاتے ہیں، لیکن کام پھر بھی صفر۔ 1993ء میں ایک قانون کے ذریعے فرنٹیر ہیلتھ فاؤنڈیشن بھی بنایا گیا تھا، لیکن پشاور سیکرٹریٹ کی نا اہلیتوں کی وجہ سے وہ زندہ درگور ہے۔ اُمید ہے ہمارے وزیر صحت کو بھی اُس کا علم نہ ہوگا کہ یہ قانونی طور پر بنایا گیا عمدہ ادارہ کہاں اور کس حالت میں ہے؟ کیا کام کرتا ہے؟ پھر محکمہ صحت میں بھی ہیلتھ ریگولیٹری اتھارٹی قائم کی گئی۔ اب اسکولوں، کالجوں، یونی ورسٹیوں اور تعلیمی بورڈز، سرکاری و نجی اسپتالوں، لیبارٹریوں وغیرہ وغیرہ میں کارکردگی اور عوام کی خدمت کی جو حالت ہے، وہ سب ہمارے سامنے ہے۔ یہ تو پھر بھی خوش قسمتی ہے کہ سرکاری شعبے کی کم زوریاں نجی شعبے کے ذریعے عوام نے کسی نہ کسی حد تک کم کردی ہیں، لیکن نجی اداروں کی کارکردگی اور اخراجات کو کون کنٹرول کرے گا؟
محکمہ تعلیم خصوصی طور پر ایک برا اور مظلوم تجربہ گاہ چلا آرہا ہے۔ اگر صرف گزشتہ تیس سالوں کا ریکارڈ دیکھا جائے، تو اس میں درجنوں سے زیادہ پراجیکٹس اور کچے پکے ادارے بنے۔ اس کے منتظمین صاحبان (نناوے فی صد کرسی نشین اساتذہ جن کو یہ لوگ افسران کہتے ہیں) کو یورپ اور امریکہ تک میں تربیتیں دلوائی گئیں، لیکن پھر بھی تعلیمی میدان میں وہی ناکامیاں۔ وجہ ظاہر ہے کہ چور اور چوکی دار کا اتحاد۔ اب یہ نیا تجربہ دوسرے لوگوں سے ہو رہا ہے۔ لیکن اگر یہ آزاد محاسب تن خواہوں، مراعات اور نگرانی میں محکمۂ تعلیم کے پنڈتوں کے ماتحت ہوں، تو پھر اس نئے نظام کی کامیابی کا امکان نہیں۔ علاوہ ازیں فیلڈ میں کام کرنے والے اساتذہ اور خصوصاً خواتین اساتذہ بے شمار پریشانیوں اور مشکلات کا شکار رہتے ہیں۔ جب تک اُن کا ازالہ نہیں ہوجاتا، بہتری کی زیادہ توقع نہ رکھی جائے۔
جب تک وطن عزیز میں بی ٹی یعنی بیچلر آف ٹیچنگ کا نظام تھا اور اساتذہ (جو بدقسمتی سے عام اساتذہ نہیں ہوتے) دفاتر میں کم براجمان تھے، تعلیمی نظام بہتر تھا۔ پھر بی ایڈ آگیا یعنی بیچلرز آف ایجوکیشن۔ اب معلوم نہیں کہ یہ ایجوکیشن کس بلا کا نام ہے، جو ہمارے یہاں تو نظر ہی نہیں آتا۔ اور ٹیچنگ کے ماہرین کا تو اس نے خاتمہ کردیا۔ بلکہ اب تو اسکول افسران اور انتظامی افسران کے ریوڑوں کا عوام کو سامنا ہے۔ جب آفیسر ہوگیا، تو اُس کا ایجوکیشن یا ٹیچنگ سے کیا واسطہ، یہ کام تو اُس غریب اور تنگ دست اُستاد یا اُستانی کی ذمے داری سمجھی جاتی ہے، جو عملاً اسکولوں میں پڑھاتے ہیں۔ اب اُن پر نئے تھانے دار مقرر کیے گئے۔ ہمارے خیال میں ان نئے تھانے داروں کا دائرۂ کار مارکیٹ، بورڈز، ٹیکسٹ بک بورڈ وغیرہ تک بھی مؤثر ہونا چاہیے۔ یہ نیا اقدام اچھا ہے، لیکن قابل فخر نہیں۔ محکمے میں نئے سے نیا تجربہ ہورہا ہے، نئی نئی شاخیں اور نئے پراجیکٹس کھولے جا رہے ہیں اور حالات ہیں کہ خراب سے خراب تر ہورہے ہیں۔
وزیراعلیٰ کا مانیٹرنگ نظام کافی عرصے سے موجود ہے۔ شائد گورنر انسپکشن ٹیم بھی کہیں زندہ ہے۔ یہ لوگ کیا کرتے ہیں؟ حکم ران سوچ اور گہرے ادراک اور عمدہ فیصلوں کی بجائے سطحی معاملات میں زیادہ پھنسے رہتے ہیں۔ اداروں پر ادارے بنانے سے اگر مسائل حل ہوتے، تو اب تک کوئی مسئلہ نہ موجود ہوتا۔ یہ طریقہ غلط ہے، پھر چور اور چوکی دار والا اصول و طریقہ بھی اب ختم ہونا چاہیے۔ ہماری دانست میں اگر صوبائی مانیٹرنگ محکمہ، گورنر انسپکشن ٹیم اور ڈائریکٹوریٹ آف اینٹی کرپشن وغیرہ کی ذمے داریوں کو وسعت (Scope) دی جائے، اُن کے استعداد کار کو بڑھایا جائے اور پہلے سے موجود محکموں کی کارکردگیوں کی وہ لوگ ایک سائنسی انداز سے جانچ اور اصلاح کریں، تو شائد ہی کچھ بات بن جائیں۔ ورنہ یار لوگوں کا یہ فقرہ درست ہی ثابت ہوگا کہ ’’مسلمان‘‘ اپنے اوپر حکم رانی کے قابل لوگ نہیں، جمود اور تقلید کے شکار یہ لوگ صرف ایک دوسرے کے گلے کاٹنے کے قابل ہیں (خدانخواستہ) کسی ترقی یا ترقی پذیری کے یہ قابل نہیں۔
982 total views, no views today


