فرہاد علی خاور
دنیا کی خوبصورت ترین پہاڑ یوں میں سے ایک کوہ ایلم جو قدیم زمانے کے ادیان اور سوات کی تاریخ وتہذیب کی امین ہے ۔اس عظیم پہاڑ ی کے ذکر کئے بغیر سوات کی تاریخ و تہذیب کا احاطہ کرنا مشکل ہے ۔دس ہزار فٹ بلند یہ فطری حسن کا حامل شا ہکار ایلم کو ہندومت کے پیغمبر رام چندر جی کے حوالہ سے خصوصی اہمیت اور شہرت حاصل ہے ۔یہ وہی پہاڑی ہے جہاں رام چندر جی نے 14سال سن یا سی کی زندگی گزاری ۔اسی پہاڑ میں برائی کی علامت کی بدچلن بہن سورپ نکھار کی ناک رام چندر کے بھائی لکشمن نے کاٹ ڈالی جس پر راون نے رام چندرجی کی بیوی سیتا کو اغواء کرلیا۔
اس پہاڑی کو اسی بناء پر ہندو دھرم میں مقد س مقام حاصل ہے ۔یہ واقعہ ہندوؤں کی مقدس کتاب راما ئن میں موجود ہے اور ہندوان واقعات کی با قا عدہ تلاوت کرتے ہیں ۔رامائن کی اس کہانی کا مرکز ی کردار رام چندر جی ہے ۔رام چندر جی کی جنم بھو می مردان کے قریب ایک تاریخی بستی گھڑی امان زئی ہے ۔جو عہد قدیم میں ایو دھیاں کے نام سے ایک سلطنت کا دارالخلافہ تھا ۔رام چندر جی کی پیدائش اس شہر میں ہوئی ، وہ اس سلطنت کے ولی عہد یا یوراج تھے ۔ان کے راجہ والد کا نام مہاراجہ شرت تھا ۔رام چندرجی کی والدہ کا نام کو شیلیاں خکلی تھا جبکہ رام چندر جی کی سوتیلی ماں ککئی تھی جو راجہ کو بہت عزیز تھی ۔ان کے بیٹے کا نام بھرت تھا ۔رام چندرجی کی جنم بھومی کے بارے ہندوستان میں بہت بڑی غلط فہمی ہے، .
کہ رام چندر جی کے جنم بھومی ہندوستان کا شہر ایودھیان ہے ۔ جہاں بابری مسجد کا سنگین واقعہ اس غلط فہمی کے نتیجے میں رونما ہوا، رامائن میں ایودھیا کا مطلب وہ ایودھیان نہیں ایودھیا ں کا مطلب شہر ، امن ، یا محفوظ شہر کا ہے
محترم برق صاحب کے مطابق صاحب کے مطابق ہندی لوگوں کا یہ عقیدہ ہی غلط ہے کہ موجودہ ایودھیا کا لفظ یدھ یعنی جنگ سے بنا ہے اور نفی کا الف لگا کر ایودھیا بنا یا گیا ہے یعنی و ہ مقام جہاں جنگ نہیں ہوتی ۔رامائن کی ایو دھیا ہراس شہر کو کہا جاتا تھا جو قلعہ بند محفوظ اور ناقابل تسخیر ہو تا تھا ۔ مطلب یہ کہ غلط فہمی دور ہونی چاہئے کہ ایو دھیا ہندو ستان میں تھا بلکہ وہ ایود ھیا مردان کی گھڑی امازئی ہے جو چینی سیاح ہیون سانگ کے مطابق شہزادہ سدن کی بھی جنم بھومی ہے ۔ رام چندرجی کی سو تیلی ماں ککئی نے اس کے باپ مہار راجہ دشرت کو اس کا ایک پرانا وعدہ یاد دلا کر ایسی چال چلی کہ رام چندر جی کی جگہ اس کے سو تیلی بھائی بھرت کو راجہ بنا یا ۔اسی طرح رام چندرجی ان کی بیوی سیتا اور والدہ خکلئی اور رام چندر جی کے جانثار بھائی لکشمن ایلم پہاڑ پر سن سیاسی کی زندگی گزارنے کیلئے چلے گئے ۔ اور اس پہاڑ پر چودہ سال تک سنیا سی کی زندگی گزاری ۔اس پہاڑ پر رام چندرجی کے تین بیٹے لاہور رائے قصور ائے اور پشو رائے پیدا ہوئے جن کے نام پر لاہور ، قصور اور پشاور کے مشہور شہر آباد ہیں ۔ان میں سے لا ہور دریائے سندھ کے کنارے آباد تھا جو 1000ء تک ہندو شاہیہ کا دارالخلافہ رہا، بعد میں انقلا بات زمانے کے ہا تھوں تباہ ہوا ۔

اب اس مقام پر لاہور نامی ایک بستی آباد ہے جو ضلع صوابی کی تحصیل ہے ۔ایلم پہاڑ پر رام چندرجی کے سنیا سی کے دوران کئی تاریخی وا قعات رو نما ہو ئے ان میں سے وہ تاریخی وا قعہ بھی شامل ہے جس میں رام چندرجی کے بھائی لکشمن نے راون کی آوارہ بد چلن بہن جو ایلم پہاڑ پر آئی اور لکشمن پر ڈورنے ڈالنے کی کوشش کی اور بدچلنی پر اترائی۔ تو لکشمن نے راون کی بہن سورپ نکھا کی ناک کاٹ ڈالی ۔سورپ نکھااپنے ایک بھائی کھرکے پاس فریاد لیکرگئی ، کھر نے ایلم میں رام پر چھڑائی کی لیکن شکست کھا کر قتل ہوئے،اس کے بعد سورپ بدنام زمانہ راون کے پاس فریاد لیکر پہنچے راون جولنکا کا راجہ تھا نے رام چندر جی کی بیوی سیتا کو اغواء کرکے لنکا لے گیا، لیکن رام نے لنکا پر چھڑائی کرکے راون کو قتل کیا اور اپنی بیوی سیتا کو پا لیا ۔ دراصل رام چندرجی ہندوھرم کے مطابق راون کے قتل کے لئے پیدا ہوا تھا رام چندرجی حقیقت میں پرو شنو بھگوان کے اوتار تھے ۔رامائن کے مطابق راون ایک ظالم راجہ تھا بہت طا قتور ہونے کی وجہ سے سارے عالم میں فتنہ و فساد بر پا کیا تھا ۔راون کا مطلب رلانے والا ہے ۔راون کو یہ طاقت بر ہمانے راون کی دس ہزار سالہ عبادت کے صلے میں دی تھی ۔راون کی دس سر تھے اور ہر ہزار سال کی عبادت کے بعد ایک سرکاٹ کر آگ میں دیو تا کے سامنے قربانی پیش کرتا ۔دس ہزار سال بعد جب بر ھما نے راون سے اس سے حاجت کے بارے میں پو چھا تو راون نے ایسی طاقت طلب کی کہ ان کا دیو تا ؤں را کھسشو ں اور نا گو ن میں سے کوئی مقابلہ نہ کر سکے ۔

برھما نے جب راون کو یہ طاقت عطا کی تو اس نے زمین پر فساد بر پا کیا اور سارے عالم کو پاؤں تلے روند ڈالا ۔سارے دیوتا پر یشان ہو کر بر ھما کے پاس فریاد لے کر گئے تو بر ہمانے بتا یا کہ دیو تاؤں ،راکھسشو ں ،ناگو اور دوسری مخلوق میں کوئی اسے نہیں مار سکتا البتہ اس نے اپنے غرور میں انسانوں کو حقیر سمجھ کر ان کا نام نہیں لیا تھا۔اس لئے کوئی انسان اسے مارسکتا ہے چنا نچہ دیو تاؤں کی درخواست پر وشنو بھگوان نے رام چندرجی کو پیدا کیا ۔بھگوان رام چندر کے شکل میں پیدا ہوا اور راون کو قتل کیا ۔ ہندوؤں کی یہ مقدس شرنگ تمام کی تمام ایلم پہاڑ کے گرد گھومتی ہے ۔آج بھی ایلم پہاڑ پر رام تخت موجو د ہے جہاں رام چندر جی بیٹھا کر تا تھا ۔ہندومت میں ایلم کو اس بناء پر عظمت اور تقدس حاصل ہے جبکہ بدھ مت کے پیرو کار وں کے مطابق ایلم پہاڑ پر بدھا نے آکر کچھ دیر ایک چٹان پر بیٹھ کر آرام کیا تھا ۔ ہزاروں سال قبل چینی سیا ہ فا ہیان اور ہون سانگ نے بھی اس پہاڑ کی زیارت کی ۔انہوں نے اس پہاڑ کا ایلتوں اور ہیلو کے نام سے اپنے سفر ناموں میں تذکر دہ کیا ۔اس سرزمین پر جب ایرانی قابض تھے تو بھی ایرانی اس پہاڑ کو مقدس اور متبرک سمجھتے تھے ۔ان سے پہلے زرتشت پیمبر کے پیروکار بھی اس پہاڑ کو مقدس اور محترم خیال کر تے تھے اور اس پہاڑی کی چوٹی پر ایک عظیم آتشکدہ مو جودہ تھا جس میں ہزاروں سال تک آگ بڑہکتی رہی جس کے آثار اب تک موجود ہیں اس پہاڑ کی کئی چٹانوں پر قدیم نقش کندہ ہے یونانی جب اس سرزمین پر قابض ہوئے تو انہوں نے بھی اس پہاڑ کوروحانی عقیدتوں کا مرزک سمجھتے ہوئے اسی پہاڑ کی چوٹی پر قر بانی پیش کر تے تھے ۔اس پہاڑ کی خوبصورتی اور دلکشی بے مثال ہے جو آج بھی دنیا کی نظروں سے پوشیدہ ہے ۔اس پہاڑ میں میٹھے اور ٹھنڈ ے پانی کے ایسے قدرتی چشمے ہیں ۔یہ چشمے انسان کو درطہ حیرت میں ڈال دیتے ہیں ۔ان چشموں کے پانی کا ذائقہ علیحدہ علیحدہ ہوتا ہے ۔کہا جا تا ہے کہ کئی لا علاج امراض کی شفاء ان چشموں کے پانی میں موجو ہے ۔اس پہاڑ پر ایک خاص قسم کے پھول کا درخت ہے جسے نمیر کہا جا تا ہے ۔ایک مختلف مخصوص ذائقہ رکھنے وا لا یہ پھول لوگ تبرک کے طور پر کھا تے ہیں ۔اس پھول کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ وہی پھول ہے جو رام چندر جی بڑے شوق سے کھا یا کرتے تھے ۔آج بھی لوگ اس پھول کو تبرک کے طور پر منہ میں چباتے ہیں ۔

حکیم اس پھول کو مختلف امراض کے لئے دوائیوں میں استعمال کر تے ہیں ۔اس کے علاوہ ایک مخصوص درخت کے پتے لوغ پیٹ کی بیماریوں کے لئے وہاں سے لاتے ہیں ۔یہ درخت کسی دوسرے پہاڑ پر موجود نہیں ۔ اس پہاڑ پر موجود کچھ خاص قسم کے خوبصورت پر ندے ہیں ۔جو انتہارئی خوبصورت اور رنگ بر نگی تتلیوں کی طرح ہیں ۔جسامت میں بھی بڑی تتلیوں جتنے ہیں اور یہ خوبصورت پر ندے بھی اس پہاڑ کے علاوہ کہیں پر نہیں ۔اس کے علاوہ بھی کئی قسم کے نا یا ب پر ندے اور دیگر جانور زندہ موجودہ ہیں جو دنیا میں کہیں پر بھی نہیں ۔خوبصورت تتلیوں کی مختلف اقسام اس پہاڑ میں موجود ہیں ۔ایلم کی پہاڑی کے بارے میں مشہور ہے بلکہ مصدقہ تحریر ی دستاویزات میں موجود ہے کہ ایلم میں بڑے سانب یعنی اژدھے موجود ہیں یہ دیو ہیکل سانپ اتنے طاقتور ہیں کہ انسان تو کیا بڑے بڑے جانور زندہ نگل جاتے ہیں ،اس بارے میں اس پہاڑ کے حوالے سے کئی دیو مالا ئی کہا نیاں مشہور ہیں ۔راقم کے دوست نے بتا یا کہ میں قتل کے ایک مقدمے میں مفرور تھا ۔دوسرے مفرور ساتھیوں سمیت رات کے وقت اس پہاڑ پر سے گزر رہے تھے کہ اچانک ہمارے ایک مفرور دوست کو ہمارے سامنے اژدہے نے ہمارے سا منے زندہ نگل لیا ۔اس اژدھے کے بارے میں بتا یا کہ یہ ایک درخت جیسا لمبا اور تناو رتھا۔مقامی بزرگوں سے اس بارے میں دریافت کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ ہمارے بزرگ کہا کرتے تھے کہ یہ پہاڑ کسی زمانے میں ان اژ دھا ھوں کا بسیر ا تھا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اب ان کی تعداد کم ہوگئی ہے ۔اب بھی کبھی کسی کی بھیڑ بکری غائب ہوتی ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ اژ دھے نے کھائی ہے ۔یہ سال میں صرف ایک بھیڑ بکری گیدڑ لومڑی یا کتے کو کھا کراپنے غا ر میں سو جاتا ہے ۔اور پورے ایک سال بعد پھر شکار کے لئے نکلتا ہے اور زیادہ تر رات کو شکار کر تا ہے ۔اس پہاڑ میں جو گیان نامی ایک گاؤں بھی ہے ۔ کہا جا تا ہے کہ قدیم زمانے میں یہ گاؤں جو گیوں نے اباد کیا تھا ۔یہ لوگ دور دراز ممالک سے ان سانپوں کو پکڑنے کے لئے یہاں اس پہاڑپر آئے تھے اور پھر یہاں ہی رہائش اختیار کی ۔اب بھی جو گیان کے نام سے ایک گاؤں آباد ہے ۔ایلم پہاڑ بونیر اور سوات کے درمیاں حد فاضل ہے ۔یہ بہت ہی دلکش اور جنت کی طرح خوبصورت ہے ۔یہ پہاڑ آج بھی قدیم شان و شوکت اور عظمت کی علامت اس پہاڑ پر جو قدیم گاؤں آباد ہیں جن میں ایک گاؤں ایلم کلے ہے ۔دوسرا پی تاوی ،تیسرا گڈوتھ ،چو تھا برہ تیبہ پانچواں جو برا، چھٹا بلو خان اور ساتواں جوگیا نوسر ہے ۔ قاری جاوید اقبال صاحب ثقافت سرحدمیں کچھ یو ں رقم طراز ہیں ۔جو گیا نو سردراصل سرائے کا مبدل ہے چونکہ اس پہاڑمیں اژدھوں کے بسیر کاذکرآیا ہے چنا نچہ جہاں بھی اژ دھا یا سا نپوں کا بسیرا ہو وہاں جو گی لوگ بھی موجود ہوتے ہیں ۔اژدھوں اور سانپوں کی مو جودگی کی وجہ سے جوگی لوگوں کا یہاں بسیر ابعید از قیاس نہیں ۔اس مناسبت سے انہیں کی طرف منسوب نام جو گیا نو سائے مشہور ہوسکتا ہے ۔
تاریخی حوالہ جات
تاریخی ومقدس پہاڑ ایلم حوالہ جات 1۔ فاہیان (سفر ہند ) 2 ۔ہیون سانگ (سفر نامہ ہند) 3۔ رگ دید 4۔ رامائن5۔ تواریخ ہیروڈٹس 6۔ ثقافت سرحد 7۔ پشتون اور نسلیات ہندوکش 8۔ اوویستا ۔۔۔
بشکریہ روزنامہ مشرق
2,177 total views, no views today



