سوات، ڈی ائی جی ملاکنڈرینج عبداللہ خان نے کہا ہے کہ سیر تلیگرام کے علاقہ کڑاؤ سرمیں ہونے والے دھماکے میں دس سے بارہ کلوگرام بارودی مواد استعمال کیا گیا تھا، جبکہ بارودی مواد پریشر ککر میں ڈال کر سڑک کے کنارے نصب کیا گیا تھا ان خیالات کااظہار انہوں نے دھماکے کے حوالے سے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کیا ، ڈی ائی جی کا کہنا تھا کہ دھماکہ ایک پہاڑی علاقہ میں سیکورٹی فورسز کے گاڑی پر کیا گیا
جس میں دس سے بارہ کلو گرام بارودی مواد استعمال کیا گیا ، انہوں نے کہا کہ بارود پریشر ککر میں ڈال کر نصب کیا گیا ، انہوں نے کہا کہ علاقہ میں سرچ اپریشن جاری ہے ، جس میں تاحال اٹھارہ مشتبہ افراد کو گرفتا رکیا جا چکا ہے ،ڈی ائی جی نے کہا کہ دہشت گردی کے حالیہ واقعات کے بعد سوات سمیت ڈویژن بھر کے دیگر اضلاع میں بونیر ، شانگلہ،میں بھی سرچ اپریشن جاری ہے، انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے واقعات سے نمٹنے کیلئے پولیس کو ہائی الرٹ کیا گیا ہے ۔
دریں اثناء ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس ملاکنڈرینج عبداللہ خان نے کہا ہے کہ پولیس جوانوں نے بروقت کارروائی کرکے علاقہ کو ایک بہت بڑے تباہی سے بچالیا۔کمیونٹی پولیس فورس کیساتھ شانہ بشانہ سماج دشمن عناصر کیخلاف برسر پیکار ہے، اور اپنی ڈیوٹیاں انتہائی خوش اسلوبی سے ادا کررہے ہیں، پورے ملاکنڈڈویژن اور خصوصا سوات میں دہشت گردوں اور سماج دشمن عناصر کیخلاف مہم جاری رہے گی ، ان خیالات اظہار انہوں نے اپنے دفتر سیدو شریف میں چارباغ میں خودکش بمبار کو ہدف پہنچنے سے اور حملہ ناکام بنانے والے کمیونٹی پولیس کے جوان خانزادہ اور عمر محمد کو خصوصی انعامات دینے کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا، انہوں نے کہا کہ اس کامیاب کارروائی کا سہر ا تمام پولیس اہلکاروں کیلئے روشنی کا ایک مینا رہے، جس سے دوسرے پولیس اہلکار بھی اپنا مورال اس طرح بلند کرنے کوشش کرے، تاکہ وطن عزیز کی دشمنوں کو تخریب کاری کا موقع نہ مل سکے، تاکہ عوام سکھ کا سانس لے سکیں، انہوں نے کہا کہ پولیس کے ذمہ داری ہے کہ عوام کی حفاظت انتہائی ایمانداری سے کرے ، اور سماج دشمن عناصر کو سرد اٹھانے کی موقع فراہم نہ کرے۔واضح رہے کہ چارباغ میں تیس مئی کو ایک خودکش حملہ نے ڈاکٹر فاروق ولد زوبیر کے کلینک میں داخل ہو کر ڈاکٹر پر پستول تھان لی ، دونوں کے درمیان کئی منٹوں تک ہاتھا پائی ہوئی، کلینک میں موجود بچے اور عورتوں نے چیخنا شروع کردیا، جس پر راستہ میں موجود کمیونٹی پولیس خانزاہ اور عمر محمد شور پر عمارت کے دوسرے منزل پرچلے گئے جہاں پر وہ جان ہتھیلی پر رکھ کر خودکش بمبار کو نیچے گرا اس قابو کرلیا اسی دوران خودکش بمبار نے خودکش جیکٹ سے پینا نکال لیا، تو کمیونٹی پولیس نے موقع پر موجود ڈاکٹر اور عوام کو نیچے چلے جانے کا کہا،اورخود سیڑھیوں میں پناہ لی، کمیونٹی پولیس نے بہادری سے قیمتی جانوں کو بچایا ، ڈی ائی جی نے بہادری دکھانے اور اپنی جان ہتھیلی پر رکھنے پر نقدخان زادہ کو پانچ ہزار روپے جبکہ عمر محمد کو پانچ ہزاراور سرٹیفکیٹ سے نوازا۔
426 total views, no views today


